Urdu Blog اردو بلاگ

محرم الحرام

February 12, 2005 · Leave a Comment

تمام مسلمانوں کو نیا اسلامی سال مبارک ہو ۔

محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ ہر دفعہ کی طرح اس بار بھی یہ سبق دہرایا جائے گا کہ ہمیں اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہیے ۔

مگر ان سب باتوں کے صرف کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرتے ہیں اور کتنے لوگوں نے اسلامی ضابطہ حیات اپنا رکھا ہے ۔ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ میں بھی یہ سب لکھ کر مزے سے سو جاؤں گا اور عمل کو دوسرے لوگوں کے ذمے کر دوں گا ۔ حضرت امام حسین کی قربانی کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے سجدے میں سر کٹایا تھا ، اور ہم لوگ نماز کو چھونا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ انہوں نے اپنی جان کی قربانی اس لیے دی کہ مزید خون خرابہ نہ ہو اور اقتدار کی رسہ کشی کا عمل ختم ہو جائے ۔ مگر پھر بھی وہی بے مقصد کام جاری رہے اور بے عقل لوگوں نے اس واقعے کے مقاصد پر غور کرنا گوارا نہیں کیا ۔ اس وقت بھی ، جب میں یہ سب لکھ رہا ہوں ، میرے ارد گرد لوگوں کے بے ہنگم ہنگامے کا شور ہے ۔ محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو بسنت منائی جارہی ہے ۔ لوگوں نے پتنگوں کے ساتھ ساتھ بیہودگی کو بھی سر سے اوپر اٹھا رکھا ہے ۔ آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے عقیدت اور مذہبی شعار کا تقدس ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ پہلے جمعتہ المبارک کے دن تمام دکانیں بند رہتی تھیں ، پھر یوں ہوا کہ لوگ شام کے پانچ چھے بجے کے بعد دکانیں کھول دیتے تھے ۔ پھر یوں ہوا کہ صبح کے گیارہ بارہ بجے تک دکانیں کھلی رہتی تھیں اور اب ، جمعہ کا پورا دن کاروبار میں گزر جاتا ہے ۔ ایک شخص دکان پر بیٹھتا ہے اور دوسرا نماز پڑھنے چلا جاتا ہے ، جب وہ آتا ہے تو پہلا چلا جاتا ہے ۔ اور یوں تمام دن دکانیں کھلی رہتی ہیں ۔ مجھے اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ لوگ دکانیں کیوں کھلی رکھتے ہیں ، بلکہ تکلیف یہ ہے کہ لوگوں نے نماز کو بھی شارٹ ہینڈ کر لیا ہے اور فری سٹائل قسم کی نمازیں شروع کر دی ہیں ۔ جاتے ہیں اور بس دو فرض پڑھ کر واپس آ جاتے ہیں ۔ اور مسجد میں داخلہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب جماعت کھڑی ہوتی ہے ۔

اب اس محرم میں بھی ، نہ جانے کتنے لوگ مذہب کے نام پر مارے جائیں گے اور نہ جانے کتنے لوگ اپنے آپ کو قاتل بنانے کی سعی کریں گے ۔ ان لوگوں میں عقل و شعور کا مادہ ہی نہیں ہے جو دوسروں کو قتل کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں ۔ اگر کسی کو کوئی تکلیف ہے بھی تو اسے چاہے کہ اسے برداشت کرے ۔ مگر صبر کا مادہ تو کسی میں ہے ہی نہیں ۔ ایک بیوقوفی کرتا ہے تو دوسرا اس سے بڑی حماقت دکھاتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جیو اور جینے دو کی حکمتِ عملی پر عمل کریں ۔ اور اگر کسی بات پر اعتراض ہے تو سب مل کر بیٹھیں ، یا تو اس بات کو ختم کر دیں یا خاموشی اختیار کر لیں ۔

دعا کیجیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صبر، حلم ، عقل اور عمل کی صلاحیتیں اور توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین ، ثم آمین ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment