Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from March 2005

انٹرویو میمی

March 31, 2005 · Leave a Comment

آصف اقبال ، یہ رہے سوالات کے جوابات ۔ مگر یہ تو بتائیے کہ نمبر دینے کا نظام کیسا ہے ۔ میرا مطلب ہےکہ خوش خطی کہ نمبر بھی لگاتے ہیں آپ؟ اور یہ بتائیے کہ آپ نے مجھے جو سوال دیے ہیں ، ان کی عبارت اتنی پیچیدہ اور گھمن گھیریوں والی کیوں رکھی ہے ۔ لگتا ہے کہ آپ میرے اعلیٰ خیالات سے متاثر ہو کر مجھے کوئی دانشور سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ویسے آپ نے درست اندازہ لگایا ہے :)

سوال نمبر1: بلاگ شروع کرنے سے آپ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ کیا اس سے دوسری مصروفیات متاثر ہوئی ہیں؟
جواب:
بالکل جناب! بلاگ شروع کرنے سے میرے معمولات میں کافی ہلا گلا ہوا ہے ۔ کیونکہ بلاگ شروع کرنے سے پہلے میں کچھ فضول کام کرتا تھا ، بلاگ شروع کرنے کے بعد وہ وقت جو میں فضول کاموں کو دیتا تھا ، وہ یہاں استعمال کرنا شروع کردیا ۔ لہٰذا اب مجھے فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا ، بہت سوچ سمجھ کر نکالنا پڑتا ہے ۔ اس کی وجہ سے مجھے کافی نقصان بھی ہوا ہے ۔ وہ لوگ جو میرے فضول کاموں کے بارے میں جانتے تھے ، اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ بھائی ، پہلے یہ بندہ کچھ تو کرتا ہی تھا ، مگر اب تو وہ بھی نہیں کرتا ۔
کچھ فائدہ بھی ہوا ہے ، وہ یہ کہ مجھے اب ڈھنگ سے بات کرنے کا طریقہ آنے لگا ہے ۔ پہلے میں ہر بات بلا سوچے سمجھے کرتا تھا ، اب کوئی کوئی بات سوچ کر کر لیتا ہوں ۔ خاص طور پر میری ایک حالیہ تحریر جو عورت کی امامت سے متعلق تھی ، اس پر ملنے والے تبصروں کے بعد میں کافی محتاط ہو گیا ہوں ، مجھے چوکنا کرنے میں زکریا بھائی کا بہت بڑا ہاتھ ہے ، انہوں نے اچھی خاصی ڈانٹ پلا دی ہے ۔ لہٰذا اب میں لکھنے سے پہلے دنیا کے جغرافیائی اور نظریاتی محل وقوع پر ایک نظر ڈال لیتا ہوں اور پھر تمام مسالک و ممالک کے نظریات کے درمیان سے بات نکالتا ہوں تا کہ بے عزتی کا اندیشہ کم سے کم رہے ۔

سوال نمبر2: کیا آپ کے خیال میں اسلام کے حالیہ فہم کو کسی بنیادی اصلاح و درستگی کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو سب سے اشد کس چیز میں؟
جواب:
جی ہاں ، مگر یہ اصلاح و درستگی فہم کی ہونی چاہیے نہ کہ اسلام کی ۔ آج کل بہت شور ہے کہ ایک روشن خیال اعتدال پسند اسلام کی تعمیر کی جائے ۔ ان شور کرنے والوں سے یہ تو پوچھا جائے کہ اس روشن خیال اعتدال پسندی کی ضرور انسانوں کو ہے یا اسلام کو ۔ اسلام تو ہے ہی معتدل مذہب اور یہ زمانہِ قبل از تاریخ سے ہی مکمل و اکمل ہے ۔ اصلاح کی ضرورت مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو ہے ، خاص طور پر نئی نسل کو ۔
میری معلومات کے مطابق اسلام سے متعلق جو شوشے آج کل چھوڑے جارہے ہیں ، ان میں جہاد اور حقوقِ نسواں سرفہرست ہیں ۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ عوام الناس کو ان دو مضامین سے متعلق اسلام کے اصل فلسفے سے روشناس کرایا جائے ۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ
جہاد اصل میں کیا ہے ، اس کی کتنی اقسام ہیں ، افضل جہاد کون ساہے اور یہ کہ جہاد کس کس پر فرض ہے اور کس شخص کو کس طریقے سے کونسا جہاد کرنا چاہیے ۔
دوسری بات حقوقِ نسواں سے متعلق یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق کیا ہیں ، اسلام عورت پر کون کون سی ذمہ داریاں ڈالتاہے ، اسلام عورت کو کتنی آزادی دیتا ہے اور یہ کہ خانگی زندگی میں عورتوں کے حقوق و فرائض کیا ہے ۔

سوال نمبر 3: مستقبل بعید کے حوالے سے اپنے عزائم کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ اگر آپ کا جواب ہے کہ آپ اتنی دور کا سوچنا مناسب نہیں سمجھتے تو اس سوچ کے زیر سطح کیا دلائل کارفرما ہیں؟
جواب:
جنابِ آصف پہلے یہ بتائیے کہ لفظ “عزائم” سے آپ کی کیا مراد ہے ۔ اگر آپ ” اُن عزائم ” کی بات کر رہے ہیں تو اس کے بارے میں ، میں یہاں نہیں لکھ سکتا کیونکہ میرے گھر میں بھی میرے قارئین موجود ہیں اور مجھے اپنی اور اپنی عزت کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ بہرحال نسبتاً شریفانہ عزائم بہت نیک ہیں بلکہ باوضو ہیں ۔ اور دوسری بات یہ کہ مجھے ویسے ہی دور کی کوڑی لانے کی عادت ہے اس لیے دوسرے حصہ کے تحت ایسی ممکنہ کسی سوچ کے زیرِ سطح یا بر سطح کسی قسم کے کوئی دلائل فی الحال کارفرما نہیں ہیں ۔(ہائے اتنی پیچیدہ عبارت)
تعلیم مکمل ہونے کے بعد والے مستقبلِ بعید سے متعلق میں کیا عرض کروں ، ہائے مجھے شرم آتی ہے ۔ آپ خود سمجھ دار ہیں ، خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد مشرقی لڑکے کس کھونٹے پر لٹکائے جاتے ہیں ۔

سوال نمبر4: ہم phpBB کی اردو ورژن کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا اطلاع ہے؟
جواب:
یہ سراسر میری نااہلی ہے کہ میں اپنے قدردانوں کو اتنا انتظار کروا رہا ہوں ۔ دراصل مجھے ٹائپنگ سے چڑ ہے ۔ میں نے کبھی یہ کوشش نہیں کہ تھوڑا سا زیادہ زور لگا کر اپنی ٹائپنگ سپیڈ بہتر کر سکوں ۔ بہرحال اطلاع یہ ہے کہ phpbb کی مین فائل کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے ، اور باقی faq والی فائل رہ گئی ہے، اگر کوئی صاحب یا صاحبہ ابھی اردو فورم بنانا چاہتے ہیں تو وہ مجھے سے مین فائل لے لیں ، ان کی فورم مکمل طور پر اردو میں چلے گی اور صرف سوال و جواب والا صفحہ فی الحال انگلش میں ہوگا باقی تمام پیغامات اردو میں بالکل درست طور پر نظر آئیں گے ۔ اس کے علاوہ تصاویر بھی رہ گئی ہیں ۔
میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتا ہوں ، لیکن اس میں میری غلطی تو زیادہ نہیں ہے ۔ مجھے سے اس بارے میں دریافت کرنے والوں میں آصف اور نبیل شامل ہیں جو کہ ناموں سے مردانہ خواص سے تعلق رکھنے والے لگتے ہیں ۔ اگر کوئی پکار صنفِ نازک کی طرف سے بھی آجاتی تو مکمل فورم ایک ہی دن میں سر کے بل حاضر ہوجاتی ۔

سوال نمبر5: آپ کی زندگی میں اب تک رونما ہونے والا سب سے پرمسرت واقعہ؟
جواب:
آپ نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے آصف بھائی ۔ ابھی تک ایسی کوئی واردات ہوئی ہی نہیں میری زندگی میں ۔

Nabeel کا تبصرہ بوقت Thursday, March 31, 2005 7:59:53 AM
اور تم کہتے ہو کہ تمہیں ٹائپنگ سے چڑ ہے۔ انٹرویو کے سوالات پوسٹ ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر تم نے پوری کتھا بیان کردی ہے۔ مجھ سے ہفتہ گزر جانے کے باوجود اتنا نہیں ہوسکا کہ صحیح طور پر جواب بھی سوچ لوں۔ بائی دا وے میرے نام ہی میں نہیں، میری شخصیت میں بھی مردانہ خواص پائے جاتے ہیں۔

Asma کا تبصرہ بوقت Friday, April 01, 2005 2:25:35 AM
Assalamo alaykum w.w.!

You write very well … no i’m not talking about the “khushkhatii” but the style of writing :)

Keep it up!

Wassalam

Danial کا تبصرہ بوقت Friday, April 01, 2005 4:59:24 AM
خوب بہت خوب لکھا ہے جناب۔

Dr. Iftikhar Raja کا تبصرہ بوقت Sunday, April 03, 2005 3:52:29 PM
ارے صاحب یہ کسی خوشی میں انٹرویو دیئے اور لئیے جا رہے ہیں۔
اچھا لگا آپ کے بارے میں جان کر۔ بس کچھ مصروفیت کی وجہ سے آن لائین کام نہیں ہو رہا ۔ مگر امید ہے جلد ہی واپسیاں ہو جائیں گی

Harris – حارث کا تبصرہ بوقت Wednesday, April 06, 2005 4:18:32 AM
ارے میں پچہلے ايک ماہ سے سر کھپا رہا ہوں۔ تمہارا نام بھی پڑھا ليکن سمجہا کے ميرا شک ہے۔ آج دو بارہ وکي پر آيا تو سوجا کيں نہ کلک “مار” ہي ليا جاے۔ ارے يہ کيا يہ تو وہي ہے،،،،، قدير احمد رانا۔۔۔۔۔۔ اتنا زبردست نام اور کس کا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چناچہ ہم دونوں کالج ميں تو نہيں ليکن نيٹ پر مل گے،،،،، ارے ارے آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کہ قدير از ماIي کلاس فيلو ايٹ کالج۔ عمير خان دا گريٹ از آلسو ماي فرينڈ۔ ان دو کے علاوہ ميں کالج ميں کسي کو جانتا ہہي نہيں ہونٓٓ۔۔۔ ويسے دونوں بھاۓيوں داخلے چلے گۓے ہيں اور نمبر چينج ہونے کي وجہ سے آي واز انايبل ٹو کانٹيکٹ يو۔۔۔ تياري کيسي ہے؟؟؟؟؟؟ ميل مي سون۔ چيک دس۔۔۔اينڈ سالو ماۓي پرابلم۔۔۔

http://harrisbinkhurram.blogspot.com

Waisay i tried for urdublog.blogspot.com per mujay kia maloom tha kay mosoof nay lia hoga.. however i didn’t bother to browse (how bonga i was, حالانکہ I browse the names which i dont get)
aik to I cant write URDU which qadeer speaks… Mir Sahab.. Also check these

http://learnurdu.blogspot.com (for my cousins in austria(europe) and England.
http://spaces.msn.com/members/haarys

I gave up there bcoz of non-custom style sheets.

qadeer my urdu naskh asia is breaking up in FIRE FOX. :( bbye

ويسے يور اردو از ۔۔۔۔۔سمپلي ونڈر فل۔۔۔ اسپيشيلي فار مي۔۔ کوز آي کينٹ رايٹ ڈيٹ مچ اردو :)

Harris – حارث کا تبصرہ بوقت Wednesday, April 06, 2005 4:19:29 AM
time note na kerna kay kab post kia hai ;)

Harris – حارث کا تبصرہ بوقت Wednesday, April 06, 2005 4:24:22 AM
sorry for another comment,, (another irrelevant)
i’ve also got the idea to use blog as website,, n u know i’ve been using it. check the
learnurdu.blogspot.com
medicaledge.blogspot.com
cellworld.blogspot.com (is per mehnat kam hai coz this on is just for google ads)

Harris – حارث کا تبصرہ بوقت Wednesday, April 06, 2005 5:14:46 AM
sorry to bother u again…. ab to yehi howa keray ga.. its 5:15 am and shukar hai i’ve figured out the problem.. changed the layout of my blog and now its ok in FireFox

قدیراحمد رانا Qadeer Ahmad Rana کا تبصرہ بوقت Wednesday, April 06, 2005 4:45:30 PM
I can’t come for some days. I will come after some days

Asif کا تبصرہ بوقت Sunday, April 17, 2005 3:13:22 PM
جی جناب قدیر بھائی۔ آپ کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی :) واقعی آپ عمدہ اردو لکھتے ہیں۔ جی میں نے بھی اسلام کے فہم کے متعلق ہی سوال پوچھا تھا۔

Categories: Miscellaneous متفرق

تضیع اوقات

March 30, 2005 · Leave a Comment

پتہ نہیں کتنی دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تھا بادشاہ ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔ وہ بادشاہ بہت نیک تھا ، اس لیے اس نے خلقِ خدا کی فلاح و بہبود کے لیے دریا پر ایک پُل بنانے کے بارے میں سوچا ۔ عام طور پر بادشاہ جو بات سوچتے ہیں ، اس کا وقوع ہونا لازم ہوتا ہے ، چنانچہ دریا پر پُل بن گیا اور اس پر خلقِ خدا کی آمد و رفت شروع ہو گئی ۔

کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کا وزیرِ بڑا ہی بدطینت تھا ۔چنانچہ اس نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ پُل پر سے گزرنے والوں پر ٹیکس نافذ کر دیا جائے ۔ بادشاہ چونکہ نیک تھا اس لیے اس نے یہ بات گوارا نہ کی کہ مخلوقِ خدا کو دِق کیا جائے ۔ مگر وزیر نے کہا کہ آپ ایک بار ایسا کر کے تو دیکھیں ، اگر عوام کو کوئی پریشانی ہوئی تو وہ احتجاج کریں گے اور پھر آپ اپنا فیصلہ واپس لے سکیں گے ۔ بادشاہ نے تجویز کو منظور کر لیا اور پُل پر سے آمد و رفت پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔

ایک سال گزر گیا ، پُل پر لگنے والے ٹیکس سے خزانے کی صحت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔ اب بادشاہ نے سوچا کہ بس ، بہت ہوگیا ، اب عوام کو تکلیف سے نجات دی جائے ۔ مگر وزیر پھر آڑے آ گیا ۔ اس نے عرض کی کہ بادشاہ سلامت ، اگر عوام کو کوئی تکلیف ہوتی تو وہ ضرور چہ مہ گوئیاں کرتے ، مگر کوئی بھی نہیں بولا ۔ اس کا مطلب ہے کہ مخلوق آپ کی خیر خواہ ہے اور حکومت کی آمدنی پر راضی ہے ۔ چنانچہ آپ ٹیکس کو دگنا کر دیں ۔ بادشاہ نے پہلے تو اس بات کو تسلیم نہیں کیا ، مگر پھر مان گیا اور پُل پر سے گزرنے والوں پر پہلے سے دگنا ٹیکس نافذ کر دیا گیا ۔

دوسرا سال بھی گزر گیا ، بادشاہ نے سوچا کہ میری عوام تو بہت ہی سیدھی سادھی اور فرمانبردار ہے ۔ ان کو غلط بات اور ناانصافی پر بولنا چاہیے ، اس سے ان کے ضمیر کی بیداری کا پتہ لگے گا ۔ چنانچہ اس نے پُل پر سے گزرنے والوں پر لگنے والے ٹیکس کی مقدار تین گُنا کر دی ۔ اب وہ بے چینی سے انتظار کرنے لگا کہ عوام کا کوئی وفد آئے اور اس ٹیکس کی شکایت کرے ۔ مگر یہ سال بھی گزر گیا اور پُل سے متعلق اسے کوئی شکایت موصول نہ ہوئی ۔
اب اس نے حکم دیا کہ ” اب پُل پر سے گزرنے والوں سے ٹیکس بھی وصول کیا جائے اور ساتھ ہی ہر شخص کو تین تین جوتے بھی لگائے جائیں ” ۔ اس کو یقین تھا کہ اب عوام ضرور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے ۔ مگر یہ سال بھی بخیروخوبی گزر گیا ۔

چوتھا سال گزرنے کے بعد بادشاہ نے ازخود ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے دربارِ عام لگانے کا اعلان کیا تا کہ عوام آ کر بادشاہ کو بنفسِ نفیس اپنی مشکلات سے آگاہ کریں ۔ چنانچہ مقررہ تاریخ کو دربار لگا اور خلقِ خدا کی کثیر تعداد اکٹھی ہو کر آئی اور بادشاہ کو اپنی مشکلات اور پریشانیوں سے آگاہ کرنے لگی ۔ مگر کسی نے بھی پُل کے ٹیکس سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی ۔ بادشاہ بہت چیں بہ جبیں ہوا ۔ آخر اس نے خود کہا کہ
“مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے ہم نے دریا پر پُل بنایا تھا ، اس سے متعلق اگر کوئی شکایت ہو تو بیان کی جائے ۔”
اس بات پر ایک بوڑھا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ بادشاہ سلامت ہمیں ایک شکایت ہے ۔ بادشاہ کے چہرے پر روتق آگئی اور اسے یقین ہونے لگا کہ عوام کا ضمیر زندہ ہے ۔ اس نے بوڑھے سے کہا کہ بیان کرو ۔

بوڑھا بولا ” حضور پُل پر سے گزرنے والوں پر پہلے تھوڑا ٹیکس لگایا گیا ، پھر اسے دگنا کیا گیا ، اور پھر اسے تین گنا کر دیا گیا اور پھر پُل پر سے گزرنے والوں کو جوتے لگائے جانے لگے ۔ ہمیں اس سے بہت تکلیف ہے ۔”

بادشاہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ میری عوام اپنے برے بھلے سے بخوبی واقف ہے اور وہ اپنے حقوق کو بھی جانتی ہے ، اسے بہت مسرت ہوئی کہ آخر اس کی دلی مراد بر آئی اور اس کی عوام نے اپنی عزتِ نفس کے لیے آواز بلند کی ہے ۔

بوڑھے شخص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “حضور پُل پر گزرتے وقت ٹیکس ادا کرتے ہوئے اور جوتے کھاتے ہوئے ہمارا بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے اپنے کاموں پر دیر سے پہنچتے ہیں اور ہمارا مالی نقصان ہوتا ہے (بادشاہ کا چہرہ کھِل اٹھا) ۔
ہماری گزارش یہ ہے کہ پُل پر جوتے لگانے والے سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہم جلدی جلدی جوتے کھا کر اپنے کاموں کے لیے وقت پر پہنچ سکیں ۔”

قارئین حضرات خود فیصلہ کریں کہ یہ داستان کس قوم سے تعلق رکھتی ہے اور یہ کہ ضمیر کے لحاظ سے اب وہ قوم کس درجے پر ہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

شاہ صاحب

March 23, 2005 · Leave a Comment

میرے دوست شاہ صاحب ACCA کر رہے ہیں بیکن ہاؤس سے ۔ کچھ عرصہ پہلے وہاں ایک امریکہ پلٹ پاکستانی لڑکی آئی ہے ۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ شاہ صاحب حقیقتاً بہت ذہین ہیں اس لیے جہاں بھی جاتے ہیں ، نقطہِ نگاہ بن جاتے ہیں ۔ چنانچہ انہیں اکثر لوگوں کی تعلیم میں مدد کرنی پڑتی ہے ۔

اب جناب ہوا یہ کہ جب بھی اس لڑکی نے شاہ صاحب سے انگلش میں کوئی بات کی تو انہوں نے اردو میں جواب دیا ۔ اگرچہ ان کی انگلش کافی بہتر ہے مگر میرے والا مسئلہ ان کو بھی درپیش ہے ، کہ وہ کسی کے سامنے روانی سے انگلش نہیں بول سکتے ۔ اس لیے انہوں نے ہمیشہ اس لڑکی کی انگریزی بات کا اردو میں جواب دیا ۔

ایک دن ممدوح کسی صاحب سے محوِ گفتگو تھے کہ اس لڑکی نے انہیں آواز دی ۔ مگر وہ سن نہ سکے ۔ دوبارہ پھر یہی کام ہوا ۔ حتیٰ کہ کئی بار آواز دینے پر بھی جب شاہ صاحب اس کی آواز نہ سن سکے تو اس نے غصے میں آکر فرمایا
“O Urdu Medium Guy! Listen to me”
اب آپ خود سوچیں کیا حال ہوا ہوگا بے چارے کا ۔ اس واقعے سے مجھے بھی خاطر خواہ عبرت ہوئی ۔ چنانچہ اس دن سے ہم دونوں نے انگلش بولنے کی مشق کا آغاز کر دیا ہے ۔ اگر اس سلسلے میں آپ کے پاس کوئی مشورہ ہو تو ضرور دیجیے ۔ کیا پتہ کبھی میرے ساتھ بھی ایسا سین پیش آ جائے ۔

*******

ایک دن شاہ صاحب اپنے انسٹیٹیوٹ میں موجود تھے ۔ ان کے آگے کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ اب ایک لڑکی نے جو گفتگو کی ، وہ قابلِ توجہ ہے ، اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس ڈگر پر چل رہا ہے ۔ پڑھیے لڑکی نے کیا کہا
“یار میں تو آج کل بہت پریشان ہوں اپنی چھوٹی بہن کی وجہ سے ۔ اس کے سکول کا جو پرنسپل ہے نا ، وہ کافی “مُلا” ٹائپ کا آدمی ہے ۔ خوامخواہ بچوں کے ذہن خراب کر رہا ہے ۔ کلاس میں اسلام کے لیکچر دیتا ہے ، کہ نمازیں پڑھو اور یہ کرو وہ کرو ۔ میری بہن تو بہت خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ جب دیکھو نمازیں پڑھ رہی ہے ۔ کہیں پکنک پر جائیں تو وہ ہمارے ساتھ نہیں جاتی ، کہتی ہے کہ میری نماز رہ جائے گی ۔ ہر وقت سر پر دوپٹہ سا اوڑھے رہتی ہے ۔ اور تو اور اب اس نے جینز پہننی بھی چھوڑ دی ہے ۔ ہم نے اس سے کہا کہ کیا ہوتا ہے جینز پہننے سے ، مگر پتہ نہیں اسے کیا مصیبت ہوئی ہے ۔ میرے بڑے بھائی کوئٹہ سے آئے تو یہ سب دیکھ کر بہت پریشان ہوئے ہیں ۔ سارے گھر کی جان عذاب میں ڈالی ہوئی ہے اس لڑکی نے ۔ اور پتہ ہے اگر کوئی میوزک سن رہا ہو تو اسے بند کر دیتی ہے کہ یہ غلط کام ہے ۔ ہم سب تو مصیبت میں پھنس گئے ہیں ۔ ہم نے اسے کہا کہ ہم تمہیں کسی اور سکول میں ایڈمشن دلا دیتے ہیں مگر وہ کہتی ہے کہ میں نے یہیں پڑھنا ہے ۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں وہ بھی “مُلا” نہ بن جائے ۔ اس لیے ہم نے ایک سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کیا ہے اور اب ہم اس کا پراپرلی علاج کرا رہے ہیں ۔”

اس سارے معاملے میں بس ایک بات ٹھیک ہے کہ اس لڑکی کی تقریر کے بعد باقی لڑکیوں نے اسے سمجھایا کہ یہ تو بہت پازیٹو چیز ہے ، اگر وہ نمازیں پڑھتی ہے تو اچھی بات ہے ، تم کیوں پریشان ہوتی ہو ۔ مگر وہ لڑکی اڑی رہی کہ نہیں یہ بنیاد پرستی ہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

ہم کیا ہیں؟

March 11, 2005 · Leave a Comment

میری باتوں سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے مگر یہ درست ہے کہ من حیث القوم ہماری حرکات تہذیب سے کچھ زیادہ ہی دور ہیں ۔ لوگوں میں احساسِ محرومی ، احساسِ کمتری ، بدتہذیبی ، ناشائستگی ، بد اخلاقی اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی عادات جڑ پکڑ چکی ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں ۔ مجھے اس وقت شدید غصہ آیا ہوا ہے اپنے آپ پر اور اپنے لوگوں پر ۔ دوسری قوموں والے بھی اس برائی میں ضرور مبتلا ہونگے مگر پاکستانیوں میں دوسروں کے معاملات میں دخل دینے کی عادت کچھ زیادہ ہی ہے ۔ ہمارا معاشرہ روز بروز گھٹیا سے گھٹیا ہوتا جا رہا ہے ۔ آپ خبریں پڑھیں ، اخبار جبرواستعداد کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں اور سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جو روز واقع ہوتے ہیں اور جو اخباروں تک پہنچنے سے محروم رہتے ہیں ۔

دو دن پہلے بازار میں جانا ہوا ۔ ملتان کے حرم گیٹ میں کپڑوں کا وسیع کاروبار ہوتا ہے ۔ وہاں ایک قسمت کی ماری کوئی جاپانی لڑکی آئی ہوئی تھی ۔ اس نے شلوار قمیض کے ساتھ مکمل سکارف سر پر کیا ہوا تھا اور کہیں سے بھی بے پردگی کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا ۔ وہ دکانوں پر لٹکے ہوئے لہنگوں اور دیگر کپڑوں وغیرہ کی تصویریں لے رہی تھی ۔ مگر اس کے ساتھ لوگوں نے جو سلوک کیا ، وہ ایک پاکستانی کے لیے انتہائی شرم کا باعث ہے ۔ لوگوں نے جی بھر کر اس پر ہوٹنگ کیں ، آوازیں کسیں ، اس کا مذاق اڑایا ۔ لمبی لمبی داڑھیوں والے مولوی ٹائپ لوگ بھی منہ سے شی شی کی آوازیں نکال نکال کر اسے بلاتے رہے ۔ دکانوں والوں کو بھی مفت میں تفریح مل گئی ۔ مل جل کر ایک “غیر ملکی” اور “کافر” لڑکی سے “شغل” فرمایا گیا کہ بھائی یہ باہر والی عورتیں تو ہوتی ہی بدمعاش ہیں ، ان کا کیا جاتاہے ان باتوں سے ۔ اگر کسی کو ایسی بیہودگی سے روکا جائے تو وہ آگے سے دانت نکال کر اور بازو چڑھا کر کہتا ہے ، اوئے یہ تیری معشوق لگتی ہے ۔ پتہ نہیں بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ میں سوچتا ہوں کہ جب وہ واپس اپنے ملک جائے گی تو پاکستان کے بارے میں کیا بیان کرے گی اور کیا دوبارہ یہاں آنے کی ہمت ہوگی اس میں؟

میڈیا پر بڑا شور ڈالا جاتا ہے کہ پاکستان کے لوگ بڑے ہی ملنسار ، خلیق ، رحم دل اور مہمان نواز ہیں ۔ ایسے واقعات کے بعد ان باتوں میں کتنی صداقت رہ جاتی ہے ۔ مانا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں بھی اور مجھے بھی ایسے چند افراد سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے مگر یہ لوگ گنتی میں کتنے ہیں؟ اور مزید یہ کہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے ، میں نے خود کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی غیر ملکی افراد پاکستان میں آتے ہیں اور بازار وغیرہ میں جاتے ہیں تو ان کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوجاتا ہے جیسے وہ کوئی تماشا دکھا رہے ہوں ، گردنیں اٹھا اٹھا کر ان کا معائنہ کیا جاتا ہے اور دانت نکال نکال کر اور قہقے لگا کر ان پر تبصرے کیے جاتے ہیں ۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ اپنے ضروری کام روک کر ایسی بیہودگیوں میں کیوں لگ جاتے ہیں ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

Urdu Editor اردو ایڈیٹ

March 9, 2005 · Leave a Comment

اسے ایک انقلابی قدم کہنا بے جا نہ ہوگا .

آخرکار نبیل بھائی نے مسئلہ حل کر دیا ، جس کا انتظار تھا وہ اب مل گیا ہے ، یعنی اردو ایڈیٹر ۔ ہم سب اردو کے شائقین ایک عرصہ سے ایک ایسے اردو ایڈیٹر کی تلاش میں تھے جو یونیکوڈ میں اردو لکھ سکے اور اسے دیگر پروگرامز مثلاً phpBB میں استعمال کیا جا سکے ۔ نبیل نقوی مبارکباد سے زیادہ کے مستحق ہیں اور انہوں نے بلاشبہ ایک زبردست کام سر انجام دیا ہے ۔

نبیل بھائی کا تفصیلی مضمون اردو بلاگنگ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس مضمون میں انہوں نے اردو ایڈیٹر کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ، اس کے کام کرنے کا طریقہ اور یہ کہ کہ اسے دوسرے پروگرامز میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کی طرح اپنے کام کو دوسروں سے بچانے کی کوشش نہیں کی ، بلکہ اپنی محنت کو دوسروں کے لیے آزادی سے پیش کر دیا ہے اور یارانِ نکتہ دان کو صلائے عام دی ہے کہ وہ آئیں اور اردو ایڈیٹر کی ترقی اور بہتری کے کام میں مدد کریں ۔

اردو لائف کے اردو پیڈ کے برعکس ، یہ اردو ایڈیٹر کئی گنا زیادہ کارآمد اور عامل ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر ونڈوز میں بالکل درست کام کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ویب بیسڈ ہے اس لیے اس کو انٹرنیٹ ایکسپلورر میں استعمال کیا جاتا ہے ، فائر فوکس کے ساتھ کام کرنے میں فی الحال دشواری ہے مگر اس کو بھی انشاءاللہ جلد ہی دور کر دیا جائے گا ۔ اس کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ویب پیج پر موجود تمام فارم فیلڈز میں اردو لکھی جاسکتی ہے ۔ یعنی صرف ٹیکسٹ ایریا ہی نہیں بلکہ تمام خانے اردو کے قابل ہیں ۔ آپ کو فارم کے تمام خانے اردو میں دستیاب ہونگے ۔

اردو ایڈیٹر سے متعلق دیگر تفصیلات نبیل بھائی کے بلاگ پر دیکھی جا سکتی ہیں ۔

Nabeel کا تبصرہ بوقت Wednesday, March 09, 2005 6:03:18 PM
بس بس اب اتنی تعریف بھی نہ کرو۔ میں تمہارا بھی شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کام کی ترغیب دی ۔ مجھے خوشی ہو گی اگر لوگوں کو اس کام سے فائدہ پہنچے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ لوگ اردو کی ترویج کی خاطر زیادہ سے زیادہ اوپن سورس پراجیکٹس پر کام کریں گے ۔ میری دعا ہے کہ اردو کی ترقی کے لیے تمہارا جوش و جذبہ اسی طرح باقی رہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق