Urdu Blog اردو بلاگ

ہم کیا ہیں؟

March 11, 2005 · Leave a Comment

میری باتوں سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے مگر یہ درست ہے کہ من حیث القوم ہماری حرکات تہذیب سے کچھ زیادہ ہی دور ہیں ۔ لوگوں میں احساسِ محرومی ، احساسِ کمتری ، بدتہذیبی ، ناشائستگی ، بد اخلاقی اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی عادات جڑ پکڑ چکی ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں ۔ مجھے اس وقت شدید غصہ آیا ہوا ہے اپنے آپ پر اور اپنے لوگوں پر ۔ دوسری قوموں والے بھی اس برائی میں ضرور مبتلا ہونگے مگر پاکستانیوں میں دوسروں کے معاملات میں دخل دینے کی عادت کچھ زیادہ ہی ہے ۔ ہمارا معاشرہ روز بروز گھٹیا سے گھٹیا ہوتا جا رہا ہے ۔ آپ خبریں پڑھیں ، اخبار جبرواستعداد کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں اور سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جو روز واقع ہوتے ہیں اور جو اخباروں تک پہنچنے سے محروم رہتے ہیں ۔

دو دن پہلے بازار میں جانا ہوا ۔ ملتان کے حرم گیٹ میں کپڑوں کا وسیع کاروبار ہوتا ہے ۔ وہاں ایک قسمت کی ماری کوئی جاپانی لڑکی آئی ہوئی تھی ۔ اس نے شلوار قمیض کے ساتھ مکمل سکارف سر پر کیا ہوا تھا اور کہیں سے بھی بے پردگی کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا ۔ وہ دکانوں پر لٹکے ہوئے لہنگوں اور دیگر کپڑوں وغیرہ کی تصویریں لے رہی تھی ۔ مگر اس کے ساتھ لوگوں نے جو سلوک کیا ، وہ ایک پاکستانی کے لیے انتہائی شرم کا باعث ہے ۔ لوگوں نے جی بھر کر اس پر ہوٹنگ کیں ، آوازیں کسیں ، اس کا مذاق اڑایا ۔ لمبی لمبی داڑھیوں والے مولوی ٹائپ لوگ بھی منہ سے شی شی کی آوازیں نکال نکال کر اسے بلاتے رہے ۔ دکانوں والوں کو بھی مفت میں تفریح مل گئی ۔ مل جل کر ایک “غیر ملکی” اور “کافر” لڑکی سے “شغل” فرمایا گیا کہ بھائی یہ باہر والی عورتیں تو ہوتی ہی بدمعاش ہیں ، ان کا کیا جاتاہے ان باتوں سے ۔ اگر کسی کو ایسی بیہودگی سے روکا جائے تو وہ آگے سے دانت نکال کر اور بازو چڑھا کر کہتا ہے ، اوئے یہ تیری معشوق لگتی ہے ۔ پتہ نہیں بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ میں سوچتا ہوں کہ جب وہ واپس اپنے ملک جائے گی تو پاکستان کے بارے میں کیا بیان کرے گی اور کیا دوبارہ یہاں آنے کی ہمت ہوگی اس میں؟

میڈیا پر بڑا شور ڈالا جاتا ہے کہ پاکستان کے لوگ بڑے ہی ملنسار ، خلیق ، رحم دل اور مہمان نواز ہیں ۔ ایسے واقعات کے بعد ان باتوں میں کتنی صداقت رہ جاتی ہے ۔ مانا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں بھی اور مجھے بھی ایسے چند افراد سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے مگر یہ لوگ گنتی میں کتنے ہیں؟ اور مزید یہ کہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے ، میں نے خود کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی غیر ملکی افراد پاکستان میں آتے ہیں اور بازار وغیرہ میں جاتے ہیں تو ان کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوجاتا ہے جیسے وہ کوئی تماشا دکھا رہے ہوں ، گردنیں اٹھا اٹھا کر ان کا معائنہ کیا جاتا ہے اور دانت نکال نکال کر اور قہقے لگا کر ان پر تبصرے کیے جاتے ہیں ۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ اپنے ضروری کام روک کر ایسی بیہودگیوں میں کیوں لگ جاتے ہیں ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment