Urdu Blog اردو بلاگ

شاہ صاحب

March 23, 2005 · Leave a Comment

میرے دوست شاہ صاحب ACCA کر رہے ہیں بیکن ہاؤس سے ۔ کچھ عرصہ پہلے وہاں ایک امریکہ پلٹ پاکستانی لڑکی آئی ہے ۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ شاہ صاحب حقیقتاً بہت ذہین ہیں اس لیے جہاں بھی جاتے ہیں ، نقطہِ نگاہ بن جاتے ہیں ۔ چنانچہ انہیں اکثر لوگوں کی تعلیم میں مدد کرنی پڑتی ہے ۔

اب جناب ہوا یہ کہ جب بھی اس لڑکی نے شاہ صاحب سے انگلش میں کوئی بات کی تو انہوں نے اردو میں جواب دیا ۔ اگرچہ ان کی انگلش کافی بہتر ہے مگر میرے والا مسئلہ ان کو بھی درپیش ہے ، کہ وہ کسی کے سامنے روانی سے انگلش نہیں بول سکتے ۔ اس لیے انہوں نے ہمیشہ اس لڑکی کی انگریزی بات کا اردو میں جواب دیا ۔

ایک دن ممدوح کسی صاحب سے محوِ گفتگو تھے کہ اس لڑکی نے انہیں آواز دی ۔ مگر وہ سن نہ سکے ۔ دوبارہ پھر یہی کام ہوا ۔ حتیٰ کہ کئی بار آواز دینے پر بھی جب شاہ صاحب اس کی آواز نہ سن سکے تو اس نے غصے میں آکر فرمایا
“O Urdu Medium Guy! Listen to me”
اب آپ خود سوچیں کیا حال ہوا ہوگا بے چارے کا ۔ اس واقعے سے مجھے بھی خاطر خواہ عبرت ہوئی ۔ چنانچہ اس دن سے ہم دونوں نے انگلش بولنے کی مشق کا آغاز کر دیا ہے ۔ اگر اس سلسلے میں آپ کے پاس کوئی مشورہ ہو تو ضرور دیجیے ۔ کیا پتہ کبھی میرے ساتھ بھی ایسا سین پیش آ جائے ۔

*******

ایک دن شاہ صاحب اپنے انسٹیٹیوٹ میں موجود تھے ۔ ان کے آگے کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ اب ایک لڑکی نے جو گفتگو کی ، وہ قابلِ توجہ ہے ، اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس ڈگر پر چل رہا ہے ۔ پڑھیے لڑکی نے کیا کہا
“یار میں تو آج کل بہت پریشان ہوں اپنی چھوٹی بہن کی وجہ سے ۔ اس کے سکول کا جو پرنسپل ہے نا ، وہ کافی “مُلا” ٹائپ کا آدمی ہے ۔ خوامخواہ بچوں کے ذہن خراب کر رہا ہے ۔ کلاس میں اسلام کے لیکچر دیتا ہے ، کہ نمازیں پڑھو اور یہ کرو وہ کرو ۔ میری بہن تو بہت خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ جب دیکھو نمازیں پڑھ رہی ہے ۔ کہیں پکنک پر جائیں تو وہ ہمارے ساتھ نہیں جاتی ، کہتی ہے کہ میری نماز رہ جائے گی ۔ ہر وقت سر پر دوپٹہ سا اوڑھے رہتی ہے ۔ اور تو اور اب اس نے جینز پہننی بھی چھوڑ دی ہے ۔ ہم نے اس سے کہا کہ کیا ہوتا ہے جینز پہننے سے ، مگر پتہ نہیں اسے کیا مصیبت ہوئی ہے ۔ میرے بڑے بھائی کوئٹہ سے آئے تو یہ سب دیکھ کر بہت پریشان ہوئے ہیں ۔ سارے گھر کی جان عذاب میں ڈالی ہوئی ہے اس لڑکی نے ۔ اور پتہ ہے اگر کوئی میوزک سن رہا ہو تو اسے بند کر دیتی ہے کہ یہ غلط کام ہے ۔ ہم سب تو مصیبت میں پھنس گئے ہیں ۔ ہم نے اسے کہا کہ ہم تمہیں کسی اور سکول میں ایڈمشن دلا دیتے ہیں مگر وہ کہتی ہے کہ میں نے یہیں پڑھنا ہے ۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں وہ بھی “مُلا” نہ بن جائے ۔ اس لیے ہم نے ایک سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کیا ہے اور اب ہم اس کا پراپرلی علاج کرا رہے ہیں ۔”

اس سارے معاملے میں بس ایک بات ٹھیک ہے کہ اس لڑکی کی تقریر کے بعد باقی لڑکیوں نے اسے سمجھایا کہ یہ تو بہت پازیٹو چیز ہے ، اگر وہ نمازیں پڑھتی ہے تو اچھی بات ہے ، تم کیوں پریشان ہوتی ہو ۔ مگر وہ لڑکی اڑی رہی کہ نہیں یہ بنیاد پرستی ہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment