کاش یہ بلدیاتی انتخابات سال میں دو بار ہوا کریں !!!
میری یہ خواہش بے جا نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہماری تو قسمت سنور جائے ۔ یقین کریں اگر بلدیاتی الیکشن سال میں دو تین بار ہو جائیں تو پاکستان صرف تین چار سال ہی میں امریکہ کے مقابلے پر کھڑا ہو جائےگا ۔ اور ترقی اور خوشحالی میں دنیا کا کوئی ملک ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا ۔ ہمارا جنت نظیر ملک مکمل طور پر جنت بن جائےگا ۔ ملک سے کرپشن ، رشوت ، سفارش اوردیگر تمام خرابیاں غائب ہو جائیں گی ۔ ملتان کے گٹر ابلنا بند کر دیں گے ۔ سڑکیں تیر کی طرح سیدھی اور شیشے کی طرح ہموار ہو جائیں گی ۔ شہر میں کم از کم سو دو سو پارک موجود ہوں گے جن میں چوبیس گھنٹے فوارے ابل ابل کر حیاتِ نو کا پیغام دیں گے ۔ حکمران لوگ صبح صبح اٹھ کر عوام کے گھروں میں جائیں گے اور ہر شخص کو بالترتیب سلام کریں گے ، نیز ان کو بازار سے سودا سلف بھی لادیں گے ۔ اس کے علاہ گلیوں میں کھیلنے والے بچوں کو اپنے خرچ پر کھلونے لے کر دیں گے اور ہر جمعرات کو محلے کے تمام بزرگوں کو جمع کر کے ان سے آشیر باد وصول کریں گے ، نیز وقت بچنے پر ان کے گوڈے وغیرہ بھی دبائیں گے ۔ سڑکوں پر جا بجا گلدستے رکھے ہوں گے اور رات کے وقت ہر گلی میں دس بلب ضیا پاشیاں کر رہے ہوں گے ۔ بلدیہ والے خود آ کر عوام کے گھروں کی صفائی ستھرائی کر جائیں گے ۔ نتیجتاً ملک جنت بن جائے گا اور سب لوگ ہنسی خوشی رہنے لگیں گے ۔
آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں اور یہ کہ یہ سب ناممکن ہے ۔ جی نہیں! آپ بالکل غلط کہ رہے ہیں ۔ جو کچھ میں نے اوپر لکھا ہے ، اس کا تقریباً پانچ فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔ اور اگر میری تجویز پر عمل درآمد ہو جائے تو اگلے سال تک ہم جی ایٹ کے ممالک کی صف میں کھڑے ہو کر اسے جی نائن بنا دیں گے ۔
تقریباً تین ہفتے قبل ہمارے محلے کے لوگوں نے ایک میٹنگ منعقد کی جس میں بڑے بوڑھوں کے علاوہ چھوٹے جوان بھی شریک ہوئے ۔ ایک ڈاکٹر صاحب دوڑ کر گئے اور یونین کونسل کے ایک کونسلر اور ناظم کو گھسیٹ آئے ۔ اب جو سیاسی جلسہ منعقد ہوا ، توبہ توبہ ۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ سیاسی جلسہ دیکھا ہے ۔ بہرحال ایک بزرگ کھڑے ہوئے اور مقصدِ اجلاس بیان کیا ۔ پہلے انہوں نے محلے کے مسائل پر روشنی ڈالی اور پھر ناظم صاحب اور کونسلر صاحبان پر نہایت رکیک انداز میں پے در پے کئی الزام لگائے ، نیز انہوں نے گفتگو میں لطف پیدا کرنے کے لیے شستہ زبان میں ایک دو گالیاں بھی رسید کیں ۔
اس کے جواب میں ناظم صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک سو بندوں کے سامنے معافی مانگی (میں بالکل سچ کہ رہا ہوں) اور کہا کہ میں شرمندہ ہوں کہ آپ کے کسی کام نہ آسکا ۔ اس پر کونسلر صاحب کھڑے ہوئے (جو کہ کافی جہاندیدہ اور عمر رسیدہ ہیں) اور انہوں نے ناظم کو(جو ابھی جوان ہے) بے نقط سنائیں کہ “بیوقوف آدمی تمہیں معافی مانگنے کی کیا ضرورت تھی ، میں نے تمہیں کئی بار کہا ہے کہ مجھ سے مشورہ کر کے ہر کام کیا کرو” ۔ پھر کونسلر صاحب نے بالکل اسی انداز میں تقریر کی جس انداز میں حجاج بن یوسف نے کوفہ میں کی تھی ۔ انہوں نے عوام کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی اور کافی سارے احسان بھی جتائے ۔ انہوں نے فرمایا
“میرے پاس جتنے پیسے تھے میں نے خرچ کر دیے (پتہ نہیں کس چیز پر) ۔ میں نے پوری دو گلیوں کی سولنگ کروائی اور ایک گلی کی ری سولنگ کروائی (یعنی پرانی اینٹیں اکھاڑ کر انہیں دوبارہ لگایا ، یہ خیال رہے کہ اس یونین کونسل میں سو کے قریب گلیاں ہیں) ۔ یہ میری نیکی ہے کہ میں نے تین گلیاں درست کروائی ہیں مگر پھر بھی آپ لوگ خوش نہیں ہیں ۔ اگر میں یہ کام بھی نہ کرتا اور آپ کو چکر دیتا رہتا تو پھر ٹھیک تھا؟ آپ لوگ نیکی کو مانتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔”
غور طلب بات یہ ہے کہ یہ شخص پورے محلے کے سامنے کھڑا ہوکر انہیں چکر دینے کی بات کر رہا ہے ۔ بہرحال کافی ساری بحث کے بعد محفل اختتام پذیر ہوئی اور پھر اس کے نتائج سامنے آنے لگے ۔ کیونکہ کونسلر صاحب نے ووٹ بھی تو لینے ہیں ۔
اب اس کے بعد جو ترقیاتی کام شروع ہوئے ، وہ ہارٹ فیل کرانے والے ہیں ۔ یعنی ہمارے علاقے کی آدھی سڑکوں پر اینٹیں لگائی گئیں اور آدھی میٹیلک یعنی پکی سڑکیں بنائی گئی ہیں ۔ ابھی بھی کئی سڑکوں پر بجری وغیرہ بچھائی جارہی ہے ۔ تقریباً چار پانچ کلومیٹر طویل سڑک کو ازسرِ نو تعمیر کیا گیا ہے اور اسے پانچ فٹ کشادہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارے علاقے میں موجود ایک پارک کی صفائی ستھرائی کی گئی ہے اور اس میں جوگنگ ٹریک اور سرچ لائٹیں لگائی گئی ہیں نیز جا بجا گلاب کے پھولوں کی باڑیں بنائی گئی ہیں ۔ طرہ یہ کہ ہمارے محلے میں ایک وسیع پلاٹ کافی عرصے سے خالی پڑا تھا ، اس کو ایک نئے پارک میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کی نوک پلک درست کی جارہی ہے ۔ نیز تمام گٹروں کے مین ہولز پر چوبیس گھنٹے مشینیں لگی ہوئی ہیں جو سیوریج لائنوں کی صفائی کر رہی ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک ریکارڈ واقعہ ہوا ہے کہ دو تین ہفتوں سے ہمارے محلے میں کوئی گٹر نہیں اُبلا ۔ ہمارا پورا بلاک اس وقت ایک مثال کے طور پر موجود ہے ۔ اور یہ سب عنقریب منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے ہوا ہے ۔