Entries from August 2005
سیاسی کھیل ہر زمانے میں سیاستدانوں اور عوام میں دلچسپی کا باعث رہے ہیں ۔ یہ کھیل اپنی قوت بڑھانے اور بدامنی پھیلانے کا موجب ہوتے ہیں ۔ یہ جہاں اکھاڑ پچھاڑ کی تلقین کرتے ہیں وہاں کرپشن کے سبق بھی دیتے ہیں ۔ اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ سیاسی کھیل معاشرے کے انحطاط میں اہم کردار کرتے ہیں ۔ پاکستان کے “غریب” سیاستدانوں اور حکمرانوں کی مالی صحت کے لیے یہ کھیل بہت مفید ہیں تاکہ ان کے بنک اکاؤنٹ خوب فربہ و صحت مند ہوجائیں ۔
پاکستان کا ایک قدیم اور مقبول کھیل “سیاسی گلی ڈنڈا” ہے ۔ یہ ہو بہو بے جان گلی ڈنڈے کی طرح ہوتا ہے ، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرداروں میں جان ہوتی ہے اور کافی زیادہ ہوتی ہے ۔ آپ کو سمجھانے کی خاطر ہم جدید دور کے عہدوں کو قدیم دور کے عہدوں سے بدل دیتے ہیں تاکہ آسانی رہے اور برا وقت پڑنے پر ہمیں نقصان سے بچائے ۔
گُلی ڈنڈا کھیلنے کے ایک ریاست بطور میدان استعمال کی جاتی ہے اور اس میں عوام کے لیے گڑھا کھودا جاتا ہے ۔ اس کھیل میں مرکزی کردار بادشاہ کا ہوتا ہے جو کہ گُلی (وزیرِ اعظم) کو ٹل لگاتا ہے ۔ دوسرا کھلاڑی غریب عوام ہوتا ہے جس کی طرف ٹُل شدہ گلی (وزیرِ اعظم) کو پھینکا جاتا ہے ۔ ٹُل لگانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ کے پاس ایک اور گُلی پڑی ہوتی ہے جسے وہ کھیل کو جاری رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے مگر پرانی گلی کی وجہ سے نئی امپورٹڈ گلی کو استعمال نہیں کر سکتا ۔ یہ امپورٹڈ گُلی امریکہ سے خصوصی طور پر منگوائی جاتی ہے جو کہ معاشی لحاظ سے کافی اہم ہوتی ہے ۔ پرانی گلی کی کچھ “دیسی مجبوریاں” ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ مزید نہیں چل سکتی ۔ جب گلی کو ڈنڈا مار کر پھینکا جاتا ہے تو سامنے والا کھلاڑی (عوام) اگر گلی کو پکڑ لے یعنی سہارا دے دے تو بادشاہ کھیل سے باہر ہو سکتا ہے ۔ لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ۔ عام طور پر عوام گلی کو سہارا دینا گوارا نہیں کرتی اس لیے گلی سیدھا اپنے گھر جاتی ہے ۔ گلی کے کھڈے لائن لگنے کے بعد باقی ساتھیوں سے رائے لی جاتی ہے یعنی ڈھکوسلا انتخابات کرائےجاتے ہیں اور پھر امپوٹڈ گلی کو کھیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ گلی چونکہ مہنگی اور کھیلنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے اس لیے اپنے بنانے والوں کو معاشی اور دیگر لحاظ سے کافی فائدے دیتی ہے ۔
اس کھیل میں وقت کا تعین نہیں ہوتا ۔ بادشاہ آخر بادشاہ ہوتا ہے ، وہ جتنی دیر جم کر کھڑا رہے ، مخالف ٹیم کو کھلانے پر مجبور رکھتا ہے اور خوب کھیلتا اور کھاتا ہے ۔ اگر کوئی گلی اس کے ساتھ کھیلنے میں تعاون نہ کرے یعنی خراب ہو جائے تو بادشاہ اسے تبدیل کر دیتا ہے ۔ اسے خرابی سے بچانے کے لیے بادشاہ گلی کو بار بار ڈنڈا لگا کر اسے مخالف کھلاڑی یعنی عوام کی طرف بھیجتا رہتا ہے اور خود کھڑا ہو کر نتیجے کا انتظار کرتا ہے ۔ بعض اوقات مخالف کھلاڑی بادشاہ کے کسی غلط انداز کی مخالفت کرتا ہے ، ایسے موقعے پر بادشاہ کا ڈنڈا اسے درست کر دیتا ہے ۔ مغربی ممالک میں یہ کھیل نہیں کھیلا جاتا اس لیے وہ ہم سے کچھ زیادہ ترقی کر گئے ہیں ۔
Categories: Miscellaneous متفرق
میرے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ابھی تک سیاہی کی لکیر موجود ہے ۔ یہ ان ووٹوں کی نشانی ہے جو میں نے پرسوں ڈالے ہیں ۔ مجھے زندگی میں پہلی بار یہ کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے ۔ میں تو ووٹ ڈالنے جا ہی نہیں رہا تھا لیکن میرے ابو نے کہا کہ جاؤ ، اس طرح تمہیں پتہ چلے گا کہ ووٹ کیسے ڈالتے ہیں ۔ خیر میں چلا گیا ۔ اب وہاں پہنچ کر مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے ۔ خیر وہاں ایک سابق کونسلر صاحب کھڑے تھے جنہوں نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا تھا ۔ ان سے ان کا انتخابی نشان پوچھا ۔ اور پھر اندر جا کر ان کے نشان پر مہر لگائی ۔ باقی نشانوں کا چونکہ پتہ نہیں تھا اس لیے ان پر “انھے واہ” مہریں لگاتا گیا ۔
پولنگ سٹیشن میں اتنا رش نہیں تھا ۔ میں اندر گیا اور پہلے شخص کو پرچی دی ۔ اس نے میرا نام تلاش کر کے اس کو کاٹ دیا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کے پاس جو ووٹر لسٹ ہے اس میں میرا نام اور ولدیت تو بالکل درست ہے اور ووٹ نمبر بھی ٹھیک ہے لیکن شناختی کارڈ کے نمبر میں 6 کی بجائے 8 کا ہندسہ ہے ۔ میں نے متعلقہ افسر کی اس جانب توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ جانے دو یار ، ایسے ہی چیلنج ہو جائے گا ۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ تھا کہ یہ چیلنج کیا بلا ہوتی ہے لیکن اس کاروائی کی تھوڑی تھوڑی سمجھ آگئی ۔ ووٹ کے کاغذات لینے کے بعد مہر لگانی والی جگہ کی جانب نگاہ دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو میز ایک دوسرے کے اوپر الٹے رکھے ہوئے ہیں اور ان کی آڑ میں تین چار آدمی اکٹھے کھڑے ہوئے مشورے سے مہریں لگا رہے ہیں ۔ اسے دیکھ کر مجھے “شفاف انتخابات” کی سمجھ بھی آگئی ۔ آخر پولنگ افسر کے کہنے پر وہ لوگ الگ ہوئے ، اور کچھ اشخاص کے انگوٹھوں پر تو سیاہی کی لکیر بھی نہیں لگائ گئی ۔ اب میں نے مہریں لگانی تھی ۔ دو کاغذوں پر تو اپنے جاننے والے شخص کے انتخابی نشان پر مہر لگائی لیکن باقی نشانوں کا پتہ نہیں تھا کہ وہ کس کے ہیں ۔ جنانچہ میں تصویریں دیکھنے لگا ، جو تصویر پسند آتی اس پر مناسب تنقید کرنے کے بعد مہر لگا دیتا ۔ یوں میں نے ووٹ ڈالے ۔
ہماری یونین کونسل میں ناظم کی سیٹ جیتنے والے شخص نے انتخابات سے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ مجھے تو میری بہنیں ہی جِیتا دیں گی ۔ ہوا بھی یوں ہی ۔ الیکشن والے دن اس کی ایک بہن نے 250 ووٹ ڈالے ۔ اس کی ایک اور بہن نے اہلکاروں کو باتوں میں الجھایا جبکہ دوسری اس دوران بیلٹ باکس اٹھا کر لے گئی ، جو کافی دیر بعد ملا ۔ بے ایمانی کی وجہ سے اس شخص اور جنرل کونسلر کے امیدوار کے درمیان پھڈا ہوا جس کی وجہ سے دونوں نے حوالات کی سیر کی ۔
مزید برآں ایک امیدوار ڈاکٹر کی لیڈی ڈاکٹر بیوی جعلی نوٹ ڈالتے ہوئے پکڑی گئی اور اس کی لیڈی پولیس کے ہاتھوں ٹھکائی ہوئی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ شخص ہار گیا ۔ نیز الیکشن جیتنے والے امیدوارں نے مخالفین کے گھروں کے سامنے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ بھنگڑے ڈالے اور آتشبازی کا مظاہرہ کیا اور پٹاخے بجائے ۔ یوں شفاف انتخابات پر امن طریقے سے اختتام پزیر ہوئے ۔
Categories: Miscellaneous متفرق
اگرچہ میرا دینی مدارس سے کبھی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا مگر اپنے فطری تجسس کی وجہ سے مجھے دینی مدارس کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ، اس طرح مجھے ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں دینی مدارس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے ۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے خواندہ افراد میں سے کم از کم چالیس فیصد افراد دینی مدارس سے ہی تعلیم حاصل کر چکے ہیں ۔ ان مدارس میں ابتدائی جماعتوں میں قرآن مجید کی ناظرہ اور حفظ کی تعلیم دی جاتی ہے ، جبکہ بڑی جماعتوں میں بتدریج صرف و نحو ، حفظ و تجوید ، دورہِ حدیث ، تفسیرِ قرآن اور درسِ نظامی وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ وہاں عام سائنسی اور ریاضی کی کتب بھی اسی طرح پڑھائی جاتی ہیں جس طرح عام سرکاری سکولوں میں ۔ ان مدارس میں جماعتوں کے درجے بھی قریب قریب اسی طرح ہوتے ہیں جیسے سرکاری سکولوں میں ، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ یہاں ان کلاسز کے نام تبدیل کر دیے جاتے ہیں ۔ ان مدارس کے طلباء کو پرائمری ، مڈل اور میٹرک کی لازمی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے باقائدہ سرکاری تعلیمی بورڈ کے تحت امتحانات لیے جاتے ہیں ۔ یہ طلباء اپنے مدارس کے امتحانات دینے کے ساتھ ساتھ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانات بھی پاس کرتے ہیں ۔ میٹرک کی سند حاصل کرنے کے بعد ان طلباء کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہیں تو آگے تعلیم حاصل کریں اور چاہیں تو اپنا کاروبار یا ملازمت شروع کریں یا چاہیں تو کسی مدرسے یا مسجد میں مؤذن کی خدمات انجام دیں ۔
میٹرک کے بعد جو طلباء دینی مدارس میں ہی رہنا چاہتے ہیں وہ اسی طریقے سے تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ یعنی وہ دینی کتب بھی پڑھتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ایف اے ، ایف ایس سی ، بی اے ، بی ایس سی ، اور ایم اے ، ایم ایس سی کے امتحانات بھی دیتے ہیں ۔ اگر کوئی طالب علم بی اے یا ایم ایے وغیرہ نہ کرنا چاہے بلکہ وہ دینی تعلیم کا کورس مکمل کرے تو اسے ان کورسز کے مکمل ہونے پر باقاعدہ سند دی جاتی ہے ۔ اکثر رجسٹرڈ مدارس کی دی گئی ڈگریوں کو سرکاری سطح پر مانا جاتا ہے اور ان کو باقاعدہ رجسٹریشن نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں ۔ مدارس کی یہ ڈگریاں بی اے اور ایم اے کے مساوی درجہ رکھتی ہیں ۔ یہ طلباء مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یا تو انہی مدارس میں بطورِ اساتذہ کام کرتے ہیں ، یا سرکاری ،غیر سرکاری سکولوں میں سائنسی ، غیر سائنسی علوم کے اساتذہ کے طور پر کام کرتے ہیں ، یا اپنی ڈگریوں کی بنیاد پر کوئی ملازمت یا کاروبار وغیرہ کرتے ہیں ۔
اس لحاظ سے ان دینی مدارس کو کسی طرح بھی پسماندہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ان مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کا علم عام طور پر وسیع ہوتا ہے اور وہ انگریزی بولنے اور لکھنے پر عام طلباء جیسی قدرت رکھتے ہیں ۔ یہی طلباء سیاسی جماعتوں میں آ کر حالاتِ حاضرہ اور عالمی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں ۔ پھر ان کو بنیاد پرست اور پسماندہ کیسے قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ دینی مدارس ہزاروں یا شاید لاکھوں بچوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان کی سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔ ان مدارس میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے علاوہ وہ بچے بھی تعلیم پاتے ہیں جن کے والدین حیات ہوتے ہیں مگر اپنے بچوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ۔ دینی مدارس ان طلباء کو مفت کھانا مہیا کرتے ہیں ، مفت میں رہائش مہیا کرتے ہیں ، اور بے سہارا بچوں کو لباس بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ آج کل طلباء کو کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان مدارس میں کچھ برائیاں بھی ہیں ۔ عام طور پر بڑے اور رجسٹرڈ مدارس اور وہ مدارس جو جماعتی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں ، اپنے اپنے چندہ کلیکٹر افراد رکھتے ہیں جو بیرون ملک اور اندرون ملک سے مخیر افراد سے خطیر رقوم حاصل کرتے ہیں ۔ یہ صاحبِ حیثیت لوگ ان مدارس میں ہونے والے تعمیری کاموں میں بھاری رقوم دینے کے علاوہ طلباء کی خوراک اور لباس کے لیے بھی عطیات دیتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے کئی مدارس کے سالانہ اخراجات تیس لاکھ فی مدرسہ یعنی 3 ملین سے بھی زائد ہیں ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس پیسے میں گھپلے بھی ہوتے ہیں اور وہ افراد جو چندہ وصول کرنے بیرونِ ملک جاتے ہیں ، وہاں سے اپنے لیے کئی فائدے بھی لاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مدارس کے اربابِ اختیار کبھی کبھی مدارس کو اپنے مفادات کی خاطر بھی استعمال کرتے ہیں ۔
وہ مدارس جو چھوٹے پیمانے پر خود انحصاری کے تحت بنائے گئے ہیں ، اکثر سرمائے کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ چنانچہ یہ مدارس اپنے طلباء کو چندہ وصول کرنے کے لیے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں ، جس سے ان طلباء میں اخلاقی بیماریاں در آتی ہیں اور ان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے ۔ کئی چھوٹے مدارس میں طلباء کو لوگوں کے گھروں سے آٹا اور پکایا ہوا کھانا وصول کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جو کہ بھیک مانگنے کے مترادف ہے ۔ اس کے علاوہ ان مدارس میں اساتذہ طلباء کے ساتھ اور طلباء آپس میں بارہا ہم جنسیت کے مرتکب ہوتے ہیں ، جس کو روکنا مدرسے کی انتظامیہ کے بس کی بات نہیں ہے ، ہاں وہ ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو کہ اس قبیح فعل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں ۔
یہ بھی سچ ہے کہ ان مدارس میں طلباء کو جہاد کی ترغیب دی جاتی ہے اور ان میں کافروں کے خلاف جوش ابھارا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں دینی مدارس کے طلباء لڑائی کی تربیت حاصل کرنے اور لڑنے افغانستان اور کشمیر میں جاتے رہے ہیں ۔ افغانستان اور کشمیر میں جنگ بندی ہونے کے بعد یہ مجاہدین واپس آ کر انہی مدرسوں میں پھیل گئے ہیں ۔ مگر ان مجاہدین کو ان مدارس میں پھیلنے کا کام حکومتی سطح پر کیا گیا ہے ۔ حکومت کی سرپرستی کے بغیر یہ مدارس اور ان کے طلباء چیونٹی مارنے کے متحمل بھی نہیں ہیں ۔
موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ اپنی جگہ برحق ہے کہ ان مدارس کو رجسٹرڈ کیا جائے مگر ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے جس کے نتائج خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ان مدارس کو اپنے اصولوں کے مطابق چلانے کا حکومتی فیصلہ ایسا ہی ہے جیسا بھینس کے آگے بین بجانا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں کئی فرمانرواؤں نے دینی مدارس کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور عوام پر اپنے نظریات ٹھونسنے کی کوشش کی ہے ، مگر وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ زبردستی کرنے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ علماء سے باقاعدہ مذاکرات کرے اور ان سے یہ بات طے کرے کہ وہ طلباء کو اشتعال انگیز یا نفرت انگیز مضامین نہ پڑھائیں ۔ اگرچہ یہ مضامین تاریخ کے مطالعہ کے وقت ضرور سامنے آئیں گے مگر ان کی مثبت انداز میں تشریح کی جا سکتی ہے اور طلباء کو بتایا جاسکتا ہے کہ منفی رویوں کے اظہار سے کیا نقصانات سامنے آتے ہیں اور کس طرح بدامنی اور شورش انگیزی پھیلتی ہے ۔ مگر ان مدارس کو چھیڑنا ، کسی خوابیدہ آتش فشاں کو بیدار کرنا ہے ۔
Categories: Miscellaneous متفرق
ایک اور 14 اگست گزر گیا ۔ اس کے بعد ایک اور 14 اگست بھی گزر جائے گا اور ہماری قوم کی حالت تب بھی ایسی ہی ہوگی ، یا شاید اس سے بھی پسماندہ ۔ ان 58 سالوں میں ہم نے جتنی ترقی کی ہے ، وہ سب کو معلوم ہے ۔ اور اب ہم جس طرح کی ترقی کر رہے ہیں ، وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ یعنی روشن خیال اعتدال پسندی میں ترقی ۔ تفریح کے نام پر جو بیہودگی ہماری قوم کی رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے ، وہ روشن خیال اعتدال پسندی کی ہی مرہونِ منت ہے ۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔
میں بازار میں گیا تو لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اس بار معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ جشنِ آزادی قریب ہے ۔ اس بار نہ بازار سجے نہ لوگوں کے گھروں میں وہ رونق دیکھنے میں آئی ۔ لوگوں کے گھروں میں بدستور غیر ملکی موسیقی اور فلمیں چلتی رہیں ۔ گاہک بدستور دکاندار کے نرغے میں عوام سیاستدان کے پنجے میں ۔
خیر کئی لوگوں نے قومی حمیت کا ثبوت گھروں میں جھنڈیاں اور چھتوں پر جھنڈے لگا کر دیا ہے ۔ مگر ان لوگوں کی یہ غیرت بس یہیں تک ہوتی ہے ۔ قومی پرچم چھت پر لگا کر بھول جاتے ہیں کہ اسے سرِ شام اتارنا بھی ہوتا ہے ۔ مگر کہاں صاحب ۔ یہ جھنڈا ایک دو مہینے چھت پر کھڑا لہراتا رہتا ہے ، اور آخر کار سخت ہواؤں کے تھپیڑوں کی تاب نہ لا کر چیتھڑوں کی شکل میں بکھر جاتا ہے ۔ یہی حشر جھنڈیوں کا ہوتا ہے ۔ جو پھٹ کر نیچے گر جاتی ہیں اور لوگوں کے پاؤں تلے روندی جاتی ہیں یا جھاڑو سے سمیٹ کر کوڑے میں پھینک دی جاتی ہیں ۔ اور لوگ خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم نے جشنِ آزادی منایا ۔
Categories: Miscellaneous متفرق