Urdu Blog اردو بلاگ

پاکستان کے دینی مدارس

اگست 17, 2005 · Leave a Comment

اگرچہ میرا دینی مدارس سے کبھی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا مگر اپنے فطری تجسس کی وجہ سے مجھے دینی مدارس کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ، اس طرح مجھے ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں دینی مدارس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے ۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے خواندہ افراد میں سے کم از کم چالیس فیصد افراد دینی مدارس سے ہی تعلیم حاصل کر چکے ہیں ۔ ان مدارس میں ابتدائی جماعتوں میں قرآن مجید کی ناظرہ اور حفظ کی تعلیم دی جاتی ہے ، جبکہ بڑی جماعتوں میں بتدریج صرف و نحو ، حفظ و تجوید ، دورہِ حدیث ، تفسیرِ قرآن اور درسِ نظامی وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ وہاں عام سائنسی اور ریاضی کی کتب بھی اسی طرح پڑھائی جاتی ہیں جس طرح عام سرکاری سکولوں میں ۔ ان مدارس میں جماعتوں کے درجے بھی قریب قریب اسی طرح ہوتے ہیں جیسے سرکاری سکولوں میں ، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ یہاں ان کلاسز کے نام تبدیل کر دیے جاتے ہیں ۔ ان مدارس کے طلباء کو پرائمری ، مڈل اور میٹرک کی لازمی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے باقائدہ سرکاری تعلیمی بورڈ کے تحت امتحانات لیے جاتے ہیں ۔ یہ طلباء اپنے مدارس کے امتحانات دینے کے ساتھ ساتھ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانات بھی پاس کرتے ہیں ۔ میٹرک کی سند حاصل کرنے کے بعد ان طلباء کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہیں تو آگے تعلیم حاصل کریں اور چاہیں تو اپنا کاروبار یا ملازمت شروع کریں یا چاہیں تو کسی مدرسے یا مسجد میں مؤذن کی خدمات انجام دیں ۔

میٹرک کے بعد جو طلباء دینی مدارس میں ہی رہنا چاہتے ہیں وہ اسی طریقے سے تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ یعنی وہ دینی کتب بھی پڑھتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ایف اے ، ایف ایس سی ، بی اے ، بی ایس سی ، اور ایم اے ، ایم ایس سی کے امتحانات بھی دیتے ہیں ۔ اگر کوئی طالب علم بی اے یا ایم ایے وغیرہ نہ کرنا چاہے بلکہ وہ دینی تعلیم کا کورس مکمل کرے تو اسے ان کورسز کے مکمل ہونے پر باقاعدہ سند دی جاتی ہے ۔ اکثر رجسٹرڈ مدارس کی دی گئی ڈگریوں کو سرکاری سطح پر مانا جاتا ہے اور ان کو باقاعدہ رجسٹریشن نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں ۔ مدارس کی یہ ڈگریاں بی اے اور ایم اے کے مساوی درجہ رکھتی ہیں ۔ یہ طلباء مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یا تو انہی مدارس میں بطورِ اساتذہ کام کرتے ہیں ، یا سرکاری ،غیر سرکاری سکولوں میں سائنسی ، غیر سائنسی علوم کے اساتذہ کے طور پر کام کرتے ہیں ، یا اپنی ڈگریوں کی بنیاد پر کوئی ملازمت یا کاروبار وغیرہ کرتے ہیں ۔

اس لحاظ سے ان دینی مدارس کو کسی طرح بھی پسماندہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ان مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کا علم عام طور پر وسیع ہوتا ہے اور وہ انگریزی بولنے اور لکھنے پر عام طلباء جیسی قدرت رکھتے ہیں ۔ یہی طلباء سیاسی جماعتوں میں آ کر حالاتِ حاضرہ اور عالمی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں ۔ پھر ان کو بنیاد پرست اور پسماندہ کیسے قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ دینی مدارس ہزاروں یا شاید لاکھوں بچوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان کی سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔ ان مدارس میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے علاوہ وہ بچے بھی تعلیم پاتے ہیں جن کے والدین حیات ہوتے ہیں مگر اپنے بچوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ۔ دینی مدارس ان طلباء کو مفت کھانا مہیا کرتے ہیں ، مفت میں رہائش مہیا کرتے ہیں ، اور بے سہارا بچوں کو لباس بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ آج کل طلباء کو کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان مدارس میں کچھ برائیاں بھی ہیں ۔ عام طور پر بڑے اور رجسٹرڈ مدارس اور وہ مدارس جو جماعتی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں ، اپنے اپنے چندہ کلیکٹر افراد رکھتے ہیں جو بیرون ملک اور اندرون ملک سے مخیر افراد سے خطیر رقوم حاصل کرتے ہیں ۔ یہ صاحبِ حیثیت لوگ ان مدارس میں ہونے والے تعمیری کاموں میں بھاری رقوم دینے کے علاوہ طلباء کی خوراک اور لباس کے لیے بھی عطیات دیتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے کئی مدارس کے سالانہ اخراجات تیس لاکھ فی مدرسہ یعنی 3 ملین سے بھی زائد ہیں ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس پیسے میں گھپلے بھی ہوتے ہیں اور وہ افراد جو چندہ وصول کرنے بیرونِ ملک جاتے ہیں ، وہاں سے اپنے لیے کئی فائدے بھی لاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مدارس کے اربابِ اختیار کبھی کبھی مدارس کو اپنے مفادات کی خاطر بھی استعمال کرتے ہیں ۔

وہ مدارس جو چھوٹے پیمانے پر خود انحصاری کے تحت بنائے گئے ہیں ، اکثر سرمائے کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ چنانچہ یہ مدارس اپنے طلباء کو چندہ وصول کرنے کے لیے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں ، جس سے ان طلباء میں اخلاقی بیماریاں در آتی ہیں اور ان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے ۔ کئی چھوٹے مدارس میں طلباء کو لوگوں کے گھروں سے آٹا اور پکایا ہوا کھانا وصول کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جو کہ بھیک مانگنے کے مترادف ہے ۔ اس کے علاوہ ان مدارس میں اساتذہ طلباء کے ساتھ اور طلباء آپس میں بارہا ہم جنسیت کے مرتکب ہوتے ہیں ، جس کو روکنا مدرسے کی انتظامیہ کے بس کی بات نہیں ہے ، ہاں وہ ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو کہ اس قبیح فعل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں ۔

یہ بھی سچ ہے کہ ان مدارس میں طلباء کو جہاد کی ترغیب دی جاتی ہے اور ان میں کافروں کے خلاف جوش ابھارا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں دینی مدارس کے طلباء لڑائی کی تربیت حاصل کرنے اور لڑنے افغانستان اور کشمیر میں جاتے رہے ہیں ۔ افغانستان اور کشمیر میں جنگ بندی ہونے کے بعد یہ مجاہدین واپس آ کر انہی مدرسوں میں پھیل گئے ہیں ۔ مگر ان مجاہدین کو ان مدارس میں پھیلنے کا کام حکومتی سطح پر کیا گیا ہے ۔ حکومت کی سرپرستی کے بغیر یہ مدارس اور ان کے طلباء چیونٹی مارنے کے متحمل بھی نہیں ہیں ۔

موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ اپنی جگہ برحق ہے کہ ان مدارس کو رجسٹرڈ کیا جائے مگر ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے جس کے نتائج خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ان مدارس کو اپنے اصولوں کے مطابق چلانے کا حکومتی فیصلہ ایسا ہی ہے جیسا بھینس کے آگے بین بجانا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں کئی فرمانرواؤں نے دینی مدارس کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور عوام پر اپنے نظریات ٹھونسنے کی کوشش کی ہے ، مگر وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ زبردستی کرنے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ علماء سے باقاعدہ مذاکرات کرے اور ان سے یہ بات طے کرے کہ وہ طلباء کو اشتعال انگیز یا نفرت انگیز مضامین نہ پڑھائیں ۔ اگرچہ یہ مضامین تاریخ کے مطالعہ کے وقت ضرور سامنے آئیں گے مگر ان کی مثبت انداز میں تشریح کی جا سکتی ہے اور طلباء کو بتایا جاسکتا ہے کہ منفی رویوں کے اظہار سے کیا نقصانات سامنے آتے ہیں اور کس طرح بدامنی اور شورش انگیزی پھیلتی ہے ۔ مگر ان مدارس کو چھیڑنا ، کسی خوابیدہ آتش فشاں کو بیدار کرنا ہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment