Urdu Blog اردو بلاگ

میرا پہلا ووٹ

اگست 20, 2005 · Leave a Comment

میرے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ابھی تک سیاہی کی لکیر موجود ہے ۔ یہ ان ووٹوں کی نشانی ہے جو میں نے پرسوں ڈالے ہیں ۔ مجھے زندگی میں پہلی بار یہ کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے ۔ میں تو ووٹ ڈالنے جا ہی نہیں رہا تھا لیکن میرے ابو نے کہا کہ جاؤ ، اس طرح تمہیں پتہ چلے گا کہ ووٹ کیسے ڈالتے ہیں ۔ خیر میں چلا گیا ۔ اب وہاں پہنچ کر مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے ۔ خیر وہاں ایک سابق کونسلر صاحب کھڑے تھے جنہوں نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا تھا ۔ ان سے ان کا انتخابی نشان پوچھا ۔ اور پھر اندر جا کر ان کے نشان پر مہر لگائی ۔ باقی نشانوں کا چونکہ پتہ نہیں تھا اس لیے ان پر “انھے واہ” مہریں لگاتا گیا ۔

پولنگ سٹیشن میں اتنا رش نہیں تھا ۔ میں اندر گیا اور پہلے شخص کو پرچی دی ۔ اس نے میرا نام تلاش کر کے اس کو کاٹ دیا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کے پاس جو ووٹر لسٹ ہے اس میں میرا نام اور ولدیت تو بالکل درست ہے اور ووٹ نمبر بھی ٹھیک ہے لیکن شناختی کارڈ کے نمبر میں 6 کی بجائے 8 کا ہندسہ ہے ۔ میں نے متعلقہ افسر کی اس جانب توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ جانے دو یار ، ایسے ہی چیلنج ہو جائے گا ۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ تھا کہ یہ چیلنج کیا بلا ہوتی ہے لیکن اس کاروائی کی تھوڑی تھوڑی سمجھ آگئی ۔ ووٹ کے کاغذات لینے کے بعد مہر لگانی والی جگہ کی جانب نگاہ دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو میز ایک دوسرے کے اوپر الٹے رکھے ہوئے ہیں اور ان کی آڑ میں تین چار آدمی اکٹھے کھڑے ہوئے مشورے سے مہریں لگا رہے ہیں ۔ اسے دیکھ کر مجھے “شفاف انتخابات” کی سمجھ بھی آگئی ۔ آخر پولنگ افسر کے کہنے پر وہ لوگ الگ ہوئے ، اور کچھ اشخاص کے انگوٹھوں پر تو سیاہی کی لکیر بھی نہیں لگائ گئی ۔ اب میں نے مہریں لگانی تھی ۔ دو کاغذوں پر تو اپنے جاننے والے شخص کے انتخابی نشان پر مہر لگائی لیکن باقی نشانوں کا پتہ نہیں تھا کہ وہ کس کے ہیں ۔ جنانچہ میں تصویریں دیکھنے لگا ، جو تصویر پسند آتی اس پر مناسب تنقید کرنے کے بعد مہر لگا دیتا ۔ یوں میں نے ووٹ ڈالے ۔

ہماری یونین کونسل میں ناظم کی سیٹ جیتنے والے شخص نے انتخابات سے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ مجھے تو میری بہنیں ہی جِیتا دیں گی ۔ ہوا بھی یوں ہی ۔ الیکشن والے دن اس کی ایک بہن نے 250 ووٹ ڈالے ۔ اس کی ایک اور بہن نے اہلکاروں کو باتوں میں الجھایا جبکہ دوسری اس دوران بیلٹ باکس اٹھا کر لے گئی ، جو کافی دیر بعد ملا ۔ بے ایمانی کی وجہ سے اس شخص اور جنرل کونسلر کے امیدوار کے درمیان پھڈا ہوا جس کی وجہ سے دونوں نے حوالات کی سیر کی ۔

مزید برآں ایک امیدوار ڈاکٹر کی لیڈی ڈاکٹر بیوی جعلی نوٹ ڈالتے ہوئے پکڑی گئی اور اس کی لیڈی پولیس کے ہاتھوں ٹھکائی ہوئی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ شخص ہار گیا ۔ نیز الیکشن جیتنے والے امیدوارں نے مخالفین کے گھروں کے سامنے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ بھنگڑے ڈالے اور آتشبازی کا مظاہرہ کیا اور پٹاخے بجائے ۔ یوں شفاف انتخابات پر امن طریقے سے اختتام پزیر ہوئے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment