Urdu Blog اردو بلاگ

سیاسی گلی ڈنڈا

August 31, 2005 · Leave a Comment

سیاسی کھیل ہر زمانے میں سیاستدانوں اور عوام میں دلچسپی کا باعث رہے ہیں ۔ یہ کھیل اپنی قوت بڑھانے اور بدامنی پھیلانے کا موجب ہوتے ہیں ۔ یہ جہاں اکھاڑ پچھاڑ کی تلقین کرتے ہیں وہاں کرپشن کے سبق بھی دیتے ہیں ۔ اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ سیاسی کھیل معاشرے کے انحطاط میں اہم کردار کرتے ہیں ۔ پاکستان کے “غریب” سیاستدانوں اور حکمرانوں کی مالی صحت کے لیے یہ کھیل بہت مفید ہیں تاکہ ان کے بنک اکاؤنٹ خوب فربہ و صحت مند ہوجائیں ۔

پاکستان کا ایک قدیم اور مقبول کھیل “سیاسی گلی ڈنڈا” ہے ۔ یہ ہو بہو بے جان گلی ڈنڈے کی طرح ہوتا ہے ، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرداروں میں جان ہوتی ہے اور کافی زیادہ ہوتی ہے ۔ آپ کو سمجھانے کی خاطر ہم جدید دور کے عہدوں کو قدیم دور کے عہدوں سے بدل دیتے ہیں تاکہ آسانی رہے اور برا وقت پڑنے پر ہمیں نقصان سے بچائے ۔

گُلی ڈنڈا کھیلنے کے ایک ریاست بطور میدان استعمال کی جاتی ہے اور اس میں عوام کے لیے گڑھا کھودا جاتا ہے ۔ اس کھیل میں مرکزی کردار بادشاہ کا ہوتا ہے جو کہ گُلی (وزیرِ اعظم) کو ٹل لگاتا ہے ۔ دوسرا کھلاڑی غریب عوام ہوتا ہے جس کی طرف ٹُل شدہ گلی (وزیرِ اعظم) کو پھینکا جاتا ہے ۔ ٹُل لگانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ کے پاس ایک اور گُلی پڑی ہوتی ہے جسے وہ کھیل کو جاری رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے مگر پرانی گلی کی وجہ سے نئی امپورٹڈ گلی کو استعمال نہیں کر سکتا ۔ یہ امپورٹڈ گُلی امریکہ سے خصوصی طور پر منگوائی جاتی ہے جو کہ معاشی لحاظ سے کافی اہم ہوتی ہے ۔ پرانی گلی کی کچھ “دیسی مجبوریاں” ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ مزید نہیں چل سکتی ۔ جب گلی کو ڈنڈا مار کر پھینکا جاتا ہے تو سامنے والا کھلاڑی (عوام) اگر گلی کو پکڑ لے یعنی سہارا دے دے تو بادشاہ کھیل سے باہر ہو سکتا ہے ۔ لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ۔ عام طور پر عوام گلی کو سہارا دینا گوارا نہیں کرتی اس لیے گلی سیدھا اپنے گھر جاتی ہے ۔ گلی کے کھڈے لائن لگنے کے بعد باقی ساتھیوں سے رائے لی جاتی ہے یعنی ڈھکوسلا انتخابات کرائےجاتے ہیں اور پھر امپوٹڈ گلی کو کھیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ گلی چونکہ مہنگی اور کھیلنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے اس لیے اپنے بنانے والوں کو معاشی اور دیگر لحاظ سے کافی فائدے دیتی ہے ۔

اس کھیل میں وقت کا تعین نہیں ہوتا ۔ بادشاہ آخر بادشاہ ہوتا ہے ، وہ جتنی دیر جم کر کھڑا رہے ، مخالف ٹیم کو کھلانے پر مجبور رکھتا ہے اور خوب کھیلتا اور کھاتا ہے ۔ اگر کوئی گلی اس کے ساتھ کھیلنے میں تعاون نہ کرے یعنی خراب ہو جائے تو بادشاہ اسے تبدیل کر دیتا ہے ۔ اسے خرابی سے بچانے کے لیے بادشاہ گلی کو بار بار ڈنڈا لگا کر اسے مخالف کھلاڑی یعنی عوام کی طرف بھیجتا رہتا ہے اور خود کھڑا ہو کر نتیجے کا انتظار کرتا ہے ۔ بعض اوقات مخالف کھلاڑی بادشاہ کے کسی غلط انداز کی مخالفت کرتا ہے ، ایسے موقعے پر بادشاہ کا ڈنڈا اسے درست کر دیتا ہے ۔ مغربی ممالک میں یہ کھیل نہیں کھیلا جاتا اس لیے وہ ہم سے کچھ زیادہ ترقی کر گئے ہیں ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment