پاکستان کے شمالی علاقہ جات ، صوبہ سرحد ، آزاد کشمیر ، اسلام آباد اور پنجاب میں آنے والے زلزلوں نے توقعات سے کہیں زیادہ تباہی اور بربادی پھیلائی ہے ۔ امدادی کاروائیاں جاری تو ہیں مگر اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ۔ اب تو وہاں کے لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ ہمیں بے شک روٹی نہ دو مگر خدا کے لیے ہمیں بیلچے اور اوزار دے دو تاکہ ہم اپنے پیاروں ، اپنے جگر کے ٹکڑوں کو منوں ملبے کے نیچے سے نکال سکیں ۔ وہ لوگ اپنے عزیزوں کی آوازیں سن رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ابھی زٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍندہ ہیں ۔ مگر وہ انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ رہے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے ۔ چھ دن گزرجانے کے باوجود ابھی تک سینکڑوں ، ہزاروں لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے اور لاپتہ ہیں ۔ BBC کے مطابق لوگ گھاس کھا رہے ہیں اور صدر صاحب فرماتے ہیں “مجھے افسوس ہے” ۔ ان کے جدِ امجد بھی یہی فرمایا کرتے ہیں ۔
وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے بیان دیا ہے کہ ہمیں مزید ہیلی کاپٹروں کی ضرورت نہیں ہے ، ہمارے پاس چھبیس ہیلی کاپٹر موجود ہیں ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کو ہیلی کاپٹروں کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ آپ کو انسانوں کی جان کی قیمت کا اندازہ نہیں ہے ، یا ان کو بچانا پاکستان کی غربت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ؟ ملبے میں کیڑے مکوڑوں کی طرح دبے ان انسانوں کی جان بچانے کے لیے آپ کو ہیلی کاپٹروں کی ضروت نہیں ہے ، اور سڑک کے راستے تو ویسے ہی نہیں جا سکتے ، کیونکہ آپ کی جان کو کوئی تودہ لاحق ہو سکتا ہے ، اور ایک وزیر کی جان بہرحال ایک عام انسان سے زیادہ قیمت رکھتی ہے ۔ پاؤ صاحب اگر آپ بی بی سی اور دیگر میڈیا سے خبریں سنیں اور زمین پر برساتی کھمبیوں کی طرح پڑی تعفن ذدہ لاشوں کی تصویریں ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو کہ ان علاقوں میں پہنچنا کیوں ضروری نہیں ہے ۔ آپ تو رات کو ایئر کنڈیشنر چلا کر کمبل اوڑھ کر سوتے ہوں گے ، ذرا کچھ دیر کے لیے وہاں جا کر تو دیکھیں ، پھر آپ کو موت کے رقص سے لطف بالکل نہیں آئے گا !
ماشاءاللہ بیرونی ممالک سے لاکھوں اور کروڑوں ڈالر کی امداد آرہی ہے اور ہماری عظیم قوم بھی اپنا سب کچھ زلزلہ ذدگان کے لیے فراہم کر رہی ہے ۔ مگر اس عظیم قوم کے کئی لعل ایسے بھی ہیں جن کے لیے یہ صورتحال ایک نعمت سے کم نہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ابھی چند دن پہلے جب امریکہ میں کیٹرینا طوفان نے تباہی مچائی تھی تو سینکڑوں کی تعداد میں غنڈے اور ڈاکو بچ جانے والے سامان کو لوٹنے اور تباہ کرنے میں مصروف تھے اور انہیں امریکی فوج بھی مکمل طور پر روک نہیں پائی تھی ۔ اس لیے یاد رکھیے کہ ایسے “سپوت” ہماری “عظیم قوم” میں بھی موجود ہیں جن کے لیے یہ آفات عذابِ الٰہی نہیں بلکہ انعامِ الٰہی ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ جتنا سامان متاثرین کے لیے اکٹھا کیا جارہا ہے اگر اس کا دس فیصد بھی ان کو مل جائے تو میں اسے ان کی خوش قسمتی جانوں گا ۔ ابھی سامان کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرنا ہے ۔ زلزلہ ذدگان سے زیادہ “مستحقین” پہلے ہی اپنا “حق” حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب کہیں کسی بس یا ٹرین کا حادثہ ہوتا ہے تو ایک طرف کچھ انسان زخمیوں کو بچانے میں مصروف ہوتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف انسان نما درندے جاں بحق افراد کی رقوم ، سامان اور زیورات وغیرہ لوٹنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ یہی عمل یہاں بھی دہرایا جائے گا ۔ آپ خبروں میں پڑھ سکتے ہیں کہ کہ امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو ناکے لگا کر لوٹا جا رہا ہے اور لوٹنے والے متاثرین نہیں بلکہ دوسرے لوگ ہیں ۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے جنگ اخبار اور بی بی سی ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جسے آپ “ملبہ” کہ رہے ہیں کیا وہ پورے کا پورا ملبہ ہے ؟ نہیں ! ضروری نہیں ہے کہ گھروں میں موجود تمام چیزیں تباہ ہوگئی ہوں ۔ مکانوں کی جب چھتیں اور دیواریں گرتی ہیں تو وہ ٹوٹ کر الماریوں ، صندوقوں اور تجوریوں میں نہیں گھستیں ۔ ہر مکان سے تقریباً آدھا سامان تو بحفاظت نکالا جا سکتا ہے ۔ مثلاً کمبل اور کپڑے وغیرہ تو وزن سے نہیں ٹوٹ سکتے ، ان پر مٹی وغیرہ پڑی ہوگی جو کہ جھاڑ کر صاف کی جا سکتی ہے ۔ اسی طرح زیورات وغیرہ نکالے جا سکتے ہیں ۔ بنکوں کی عمارتیں گری ہیں تو ان میں تجوریوں میں کافی رقوم محفوظ ہوں گی ۔ سوال یہ ہے کہ جو سامان “ملبے” سے نکالا جائے گا وہ کہاں جائے گا ؟ یہ سارا سامان ان “مستحقین” کے گھروں اور پیٹوں میں جائے گا جو کہ ملبہ اٹھانے اور تماشا دیکھنے میں مصروف ہوں گے ۔ آپ اسے عذابِ الٰہی کہتے ہیں ، جی نہیں ، یہ عذابِ الٰہی نہیں ہے ، یہ تو انعام ہے بے ضمیروں کے لیے ۔ ان کی تو موجیں ہو گئی ہیں ۔
یہ جو لاکھوں ڈالر آرہے ہیں کیا یہ ان متاثرین کے لیے کھانے اور کپڑے خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے ؟ کیا یہ پیسے انہیں دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے گھر دوبارہ تعمیر کر لیں؟ شاید ہیں ۔ ان مظلوم انسانوں کو تو پتہ ہی نہیں لگنا کہ ان کے نام پر کیا کیا کس کس پیٹ میں گیا ہے ۔ حکومت اگر بہت زیادہ خدا ترس ہو گئی تو بس یہ کر لے گی ہر خاندان کو بیس بیس ہزار روپے دے کر کہے گی ، ” لو بھئی ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ، اب تم باقی پیسے خود ملاؤ اور اپنا گھر بناؤ ۔” اگر آپ کو میری باتوں پر اعتراض ہے تو مجھے دکھائیے گا کہ کتنے لوگوں کے لیے گھر بنائے گئے ہیں یا انہیں مکان تعمیر کرنے کے لیے مناسب رقوم دی گئی ہیں ۔ اور بتائیے گا کہ کتنے لوگ بھوک اور سردی کے باوجود موت کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں ؟
0 responses so far ↓
There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.