Urdu Blog اردو بلاگ

تعلیم نہیں کھیل

October 17, 2005 · Leave a Comment

آج کا دن عبدالمنعم کے لیے بہت سخت تھا ۔ آج وہ وردی (uniform) کے بغیر ہی گورنمنٹ کالج ملتان (Governmet College Multan) کے گیٹ سے داخل ہو رہا تھا ، مگر اسے احساس نہیں تھا کہ اس کا یونیفارم میں نہ ہونا اس کے لیے کتنے مسائل کھڑے کر سکتا ہے ۔
اپنی دھن میں آگے بڑھتے ہوئے جب وہ گیٹ سے چند گز آگے آیا تو اس نے ایک خوش پوش شخص کو وہاں کھڑے دیکھا ، وہ بے نیازی میں اس شخص کے پاس سے (جو کہ استاد تھا ) گزرنے لگا تو اچانک ایک گرج دار آواز ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی اس کے کانوں سے پار ہوتی گئی ۔ وہ مڑا تو پروفیسر صاحب کے چہرے پر خشونت کے آثار نمایاں تھے ۔ پروفیسر صاحب نے دریافت فرمایا
“اوئے تمہاری یونیفارم کہاں ہے “۔

عبدالمنعم اس سوال پر گھبرا گیا ، مگر پھر سنبھل کر جواب دیا
“سر وہ دھلنے والی ہے ” ۔

پروفیسر صاحب نے نادری حکم دیتے ہوئے فرمایا
“نکل جاؤ کالج سے ، تم کالج میں آئے ہو یا کمپنی باغ میں “

عبدالمنعم کی ہزار منتوں اور ترلوں کے باوجود پروفیسر صاحب اڑے رہے اور اسے کالج سے نکال دیا ۔ وہ بیچارہ علم کی طلب میں دوسرے گیٹ سے کالج میں بخیروعافیت داخل ہوا اور لیبارٹری ( Laboratory) کی طرف عازمِ سفر ہوا ۔ لیبارٹری (Laboratory) میں قدم رکھتے ہی وہاں موجود پروفیسر صاحب نے اسے سرتاپا ملاحظہ فرمایا اور اس سے وردی کے بارے میں پوچھا ۔ تسلی بخش جواب موصول نہ ہونے پر انہوں نے اسے تجربہ (practical) کرنے کی اجازت نہ دی اور لیبارٹری سے باہر نکال دیا ۔ یہ پیریڈ ادھر ادھر گھوم پھر کر گزارنے کے بعد وہ اگلے پیریڈ میں اپنی کلاس میں داخل ہوا تو وہاں موجود پروفیسر صاحب نے بھی اس کے سادہ لباس پر کڑی نکتہ چینی کی اور اسے کلاس سے بارہ پتھر باہر کر دیا ۔

اپنی قسمت کو کوستا ہوا وہ لائبریری کی طرف روانہ ہوا تا کہ وہاں سے کوئی مفید کتاب لے سکے ۔ لائبریری میں داخل ہو کر وہ کاؤنٹر پر گیا اور لائبریرین سے پوچھا کہ کیا گورنمنٹ کالج ملتان کی اس لائبریری میں محض کہانیاں اور ناول ہی ہوتے ہیں یا کورس کی کوئی کتاب بھی مل سکتی ہے ۔ لائبریرین نے جمہوریت کے اس مظاہرے پر اسے گھور کر دیکھا اور پھر اس کے کپڑوں پر ایک نگاہِ غضب ڈالی ۔ اب ان کے ہاتھ میں درست جواز آگیا ۔ انہوں نے اس سے کہا
“یونیفارم کے بغیر تم نے لائبریری میں داخل ہونے کی جرات کیسے کی ، نکل جاؤ تم یہاں سے ، اب وردی کے بغیر یہاں آنے کی ہمت نہ کرنا “

گزشتہ واقعات کے پیشِ نظر وہ چپ چاپ وہاں سے کھسک گیا ۔ اب اس نے سوچا کہ میں کالج کے گراسی پلاٹ میں جاکر خود ہی پڑھ لیتا ہوں ۔ جیسے ہی وہ وہاں داخل ہوا وہاں موجود proctors نے اسے وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ ان تمام واقعات سے وہ نہایت تنگ آچکا تھا ، اب وہ پڑھائی کے خیال کو لات مار کر گھر جانے ہی والا تھا کہ اس کا ایک دوست اس کے پاس آیا اور اسے کرکٹ کھیلنے کی پیش کش کی ، مگر وہ ڈرا ہوا تھا ، اس لیے کچھ پس و پیش کے بعد کرکٹ کھیلنے پر آمادہ ہوا ۔ لیکن جب وہ کالج کے کرکٹ گراؤنڈ میں داخل ہوا تو وہاں اسے روکنے والا کوئی موجود نہ تھا ۔ کرکٹ گراؤنڈ وہ واحد جگہ ہے جہاں وردی کی قید نہیں ہے ۔ چنانچہ آزادی پاتے ہی وہ میدان میں کود پڑا اور ایک دو گھنٹے کرکٹ کھیلنے کے بعد گھر کی طرف عازمِ سفر ہوا ۔

یہ ہے ہمارا نظامِ تعلیم ۔ کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ، مگر پڑھتے وقت آپ کو مخصوص لباس میں ہونا چاہیے تاکہ استاد صاحبان کی آنکھوں کو طراوت مل سکے ۔ اس طرح فرائض کی انجام دہی سے یقیناً بہت جلد ہماری تعلیمی حالت اپنے انجام کو پہنچ جائے گی ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

0 responses so far ↓

  • There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment