Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from October 2006

کیا کہوں ، کیا لکھوں

October 31, 2006 · 5 Comments

موسمیاتی اداروں والے ٹھیک ہی چیختے ہیں کہ زمین گرم ہو رہی ہے ۔ گرمی کی شدت کم ہی نہیں ہو رہی ۔ آج اکتوبر کی آخری تاریخ ہے اور ملتان میں رات کو پنکھے چلا کر سوتے ہیں اور دن میں پسینے چھوٹتے ہیں ۔

میں ازل سے ہی گرمی کا ستایا ہوا ہوں اس لیے رات کو چھت پر سوتا ہوں ۔ وہاں البتہ اچھی خاصی ٹھنڈ ہوتی ہے ۔ آج کل نئی افتاد آئی ہوئی ہے ، میرے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سرکس والوں نے عید سے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ساری ساری رات لاؤڈ سپیکروں میں چیختے رہتے ہیں ۔ ہماری حکومت بے چارے مولویوں کو لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے منع کرتی ہے لیکن ان بے شرموں کو کچھ نہیں کہتی جنہوں نے ہماری نیندیں خراب کی ہوئی ہیں ۔ ان کی وجہ سے اب میں نیچے گرمی میں سونے پر غور کر رہا ہوں ۔

ویسے بھی آج کل دماغ آؤٹ ہو رہا ہے ۔ کوئی خیال ، کوئی آئیڈیا ہی ذہن میں نہیں آتا ۔ کیا لکھوں ، کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ پہلے کمپیوٹر سے عشق تھا مگر اب تو اس سے بھی خار کھاتا ہوں ۔ زندگی سے بیزاری اور اکتاہٹ ہونے لگی ہے ، کچھ اچھا نہیں لگتا ۔ ویسے بھی اب پڑھائی میں مصروف ہو گیا ہوں اور اپنی گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ سردیوں کی آمد نہ ہونے اور کچھ دیگر افکار کی وجہ سے زندگی بے مزا لگ رہی ہے ۔ عید پر جتنے زیادہ مزے کیے اب اتنی ہی شدت سے بوریت ہو رہی ہے ۔

اپنی دعاؤں میں ناقص کو یاد رکھیے گا ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

عید کے بعد

October 27, 2006 · 1 Comment

پچھلی بار عید کچھ خاص نہیں تھی ، اس بار کافی اچھی رہی ۔ عید کے تیسرے دن رات کو کئی کزن وغیرہ گھر آئے تو اچھا خاصا ہنگامہ رہا ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ فدوی محفل کی جان ہے ، ایسی ایسی جگت بازی اور حرکات ہوئیں کہ بس ۔ میری “مقبولیت” کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک کزن نے گھر واپس جا کر دوسرے کزن کو یوں ایس ایم ایس کیا ، ”تم نے میرے مذاق کا برا تو نہیں منایا؟ اور مذاق سے یاد آیا قدیر کا کیا حال ہے“ ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نِرا بھانڈ ہی ہوں :)

اس کے علاوہ بچوں میں میری مقبولیت کا گراف بھی کافی بلند ہے ۔ یہ تو آپ میری بچگانہ حرکات سے جان ہی گئے ہوں گے ۔ لیکن میں ہر بچے کو ”لِفٹ“ نہیں کراتا ، صرف وہی بچے میرے معیار پر پورے اترتے ہیں جو میری طرح ”اچھے بچے“ ہوں ۔ چونکہ اس عید پر میرے چھوٹے والے کزن بھی آئے ہوئے تھے اس لیے مجھ پر دگنا پریشر تھا ۔ ویسے تو میرے بھانجے ہی میرا ستیاناس کرنے کے لیے کافی ہیں مگر میرے ماموں کے بچے ان سے بھی کئی گنا بڑھ کر ہیں ۔ ان بچوں کو اتنے جھولے دینے پڑے کہ میرے بازوؤں کی اچھی خاصی ورزش ہو گئی اور عضلات شدید درد کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے لگے ۔ یاد رہے کہ ان بچوں کی عمریں تین سے لے کر دس سال تک ہیں اور وزن 15 سے لے کر 35 کلوگرام تک :(

ہر بار رمضان کے اختتام پر میری عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ۔ مجھے اس مبارک مہینے کے گزرنے پر بہت افسوس ہوتا ہے اور اختتام پر میں سوچتا ہوں کہ کاش اس مہینے میں ہی کوئی نیکی کر لی ہوتی ۔ لیکن اس بار تو لُٹیا ہی ڈوب گئی ، پہلے کبھی میں نے رمضان شریف میں گانے وغیرہ نہیں سنے تھے اور نہ ہی ٹیلی ویژن دیکھا تھا مگر اس بار دماغ کو نہ جانے کیا ہوگیا تھا ۔ خیر کوئی بات نہیں ، اب میں نیک بندہ بننے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں اور اس ضمن میں شوال کے روزے رکھنے پر سوچ بچار شروع کر دی ہے ۔

Categories: Me بقلم خود

عید مبارک

October 25, 2006 · 7 Comments

اس بار تو اللہ کی رحمت اور برکت چھپر پھاڑ کر برسی ہے ، مسلمانوں کو عیدیں ہی عیدیں عطا کی گئی ہیں ۔ ایک عید پرسوں منائی گئی ، ایک کل اور ایک آج منائی جارہی ہے ۔ یعنی اس بار پاکستانی تین تین دن کی تین عیدیں منا رہے ہیں ، یعنی کل نو عیدیں ۔ واہ ہماری تو عید ہو گئی ۔

ان حالات میں عید مبارک کہنے کو دل تو نہیں کہ رہا ، خیر اوپری دل سے ہی سہی ، عید مبارک

;) :D :) ;) :D :) ;) :D :) ;) :D :) ;) :D :) ;) :D :) ;) :D :) ;) :D :)

Categories: Islam اسلام

لاؤڈ سپیکر اور مولوی صاحب

October 21, 2006 · 9 Comments

یہاں ملتان میں ایک بابا جی ہیں ۔ وہ رمضان شریف میں صبح تین بجے اٹھ کر مسجد کا سپیکر

سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح گویا ہوتے ہیں ، ”میری ماؤں تے بہنوں! میں وی تہاڈے نال ستاں پیا

ہامی ، ہن میں اٹھ گیاں ، تسی وی اٹھ جاؤ ” یعنی میری ماؤں و بہنو ! میں بھی تمہارے ساتھ ہی

سویا ہوا تھا ، اب میں اٹھ گیا ہوں تو تم بھی اٹھ جاؤ ۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد مولوی حضرات کی کسی سازش کا نتیجہ ہے ۔ یوں

لگتا ہے کہ جیسے یہ بنایا ہی انہی کے لیے گیا ہے ۔ اس پر طرہ کسی ستم ظریف نے یہ لگایا ہے کہ

ایمپلی فائرز میں سائرن بھی شامل کر دیے ہیں ۔ بندہ کرے تو کیا کرے ۔

اب ہوتا یوں ہے کہ کوئی بے سُرا سحری کے وقت سپیکر سنبھال لیتا ہے اور نعتوں کی بے حرمتی

شروع کر دیتا ہے ۔ میں اسے بے حرمتی ہی کہوں گا ۔ اگر لوگ کسی بے سُرے نعت خوان کی وجہ

سے نعت شریف سے دور بھاگیں تو یہ نعت کی بے حرمتی ہی ہوگی ۔ پھٹیچر آواز میں جب کوئی

نعتیہ کلام پڑھا جائے گا تو لوگ کانوں میں انگلیاں ہی دابیں گے ۔ پھر ایک بے سُرا ہٹتا ہے تو دوسرا

اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے ۔

میں نعت خوانی کے خلاف نہیں ہوں ۔ سحری کے وقت میں بھی کمپیوٹر میں موجود حمد و نعت

شریف سنتا ہوں ۔ میں ان بے سرے پھٹیچر آواز والوں کی نعت خوانی کے خلاف ہوں ۔ مجھے معلوم

ہے کہ میری آواز ایسی نہیں ہے کہ میں نعت خوانی کر سکوں ، اس لیے میں مجمع عام میں یہ

کوشش نہیں کرتا ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہر شخص اپنے آپ کو طرم خان کیوں سمجھتا ہے ۔ ہر

بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اس سے تو کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، اور اگر ہو بھی جائے تو وہ قابلِ

گرفت نہیں ہوتی ۔ اگر آپ کی آواز دوسروں کی سماعت پر بارِ گراں ہوتی ہے تو آپ نعت خوانی کرکے

لوگوں کو نعت سے متنفر کر رہے ہیں ۔

خیر ان لاؤڈ سپیکرز کا کچھ فائدہ بھی ہے ۔ میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہوں کہ آواز آتی ہے

“روزہ دارو ، اللہ نبی کے پیارو ، آسمان کے ستارو ، جنت کے حق دارو ، سحری کے لیے اٹھ جاؤ “۔

بس دل چاہتا ہے کہ جاکر اس بندے کا منہ چوم لوں ، کیسی کیسی خوشخبریاں سنا رہا ہے (شکر

ہے کہ کوئی خاتون یہ اعلان نہیں کرتیں) ۔ پھر یہ ارادہ ملتوی کر کے پھر اونگھنے لگتا ہوں کہ آواز آتی

ہے “پندرہ منٹ بعد سحری کا وقت ختم ہو جائے گا”۔ بس پھر بستر کو لات مار کر اٹھ کھڑے ہوئے اور

سحری کی تیاری کرنے لگے

Categories: Islam اسلام

آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

October 17, 2006 · 1 Comment

یہ پیروڈی اگرچہ بہت اچھی نہیں ہے ، مگر کسی مناسب “پوسٹ” کی عدم موجودگی میں کار آمد ہے ؛)

کلاس میں وہ آتے ہیں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ایک ہی ڈنڈا پڑتا ہے تو شلواریں بھیگ جاتی ہیں

استاد مولا بخش کا بس نام ہی کافی ہو جاتا ہے
کوئی بھی غلطی کر یں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

ان کے ڈنڈے سے آج تک ، کو ئی نہ بچ پایا ہے
ایسا کس کے مارتے ہیں کہ شلواریں بھیگ جاتی ہیں

نہ جانے کب وہ ہوں گے ریٹائر اِس سکول سے
کسي سے بات کرتا ہوں تو آنکھيں بھيگ جاتي ہيں

ميں سارا دن بہت پڑھتا رہتا ہوں مگر جوں ہی
قدم کلاس میں رکھتا ہوں تو آنکھيں بھيگ جاتي ہيں

ہر اک طالب علم کے ماتھے پر اَلَم کي داستانيں ہيں
کوئي چہرہ بھي پڑھتا ہوں تو آنکھيں بھيگ جاتی ہيں

Categories: Poetry شاعری