موسمیاتی اداروں والے ٹھیک ہی چیختے ہیں کہ زمین گرم ہو رہی ہے ۔ گرمی کی شدت کم ہی نہیں ہو رہی ۔ آج اکتوبر کی آخری تاریخ ہے اور ملتان میں رات کو پنکھے چلا کر سوتے ہیں اور دن میں پسینے چھوٹتے ہیں ۔
میں ازل سے ہی گرمی کا ستایا ہوا ہوں اس لیے رات کو چھت پر سوتا ہوں ۔ وہاں البتہ اچھی خاصی ٹھنڈ ہوتی ہے ۔ آج کل نئی افتاد آئی ہوئی ہے ، میرے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سرکس والوں نے عید سے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ساری ساری رات لاؤڈ سپیکروں میں چیختے رہتے ہیں ۔ ہماری حکومت بے چارے مولویوں کو لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے منع کرتی ہے لیکن ان بے شرموں کو کچھ نہیں کہتی جنہوں نے ہماری نیندیں خراب کی ہوئی ہیں ۔ ان کی وجہ سے اب میں نیچے گرمی میں سونے پر غور کر رہا ہوں ۔
ویسے بھی آج کل دماغ آؤٹ ہو رہا ہے ۔ کوئی خیال ، کوئی آئیڈیا ہی ذہن میں نہیں آتا ۔ کیا لکھوں ، کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ پہلے کمپیوٹر سے عشق تھا مگر اب تو اس سے بھی خار کھاتا ہوں ۔ زندگی سے بیزاری اور اکتاہٹ ہونے لگی ہے ، کچھ اچھا نہیں لگتا ۔ ویسے بھی اب پڑھائی میں مصروف ہو گیا ہوں اور اپنی گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ سردیوں کی آمد نہ ہونے اور کچھ دیگر افکار کی وجہ سے زندگی بے مزا لگ رہی ہے ۔ عید پر جتنے زیادہ مزے کیے اب اتنی ہی شدت سے بوریت ہو رہی ہے ۔
اپنی دعاؤں میں ناقص کو یاد رکھیے گا ۔