الحمدللہ کہ ہمیں ایک اور ماہِ رمضان نصیب ہوا ۔ اللہ ہمیں اس کی برکتیں لُوٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
عام طور پر لفظ برکت کا مطلب لیا جاتا ہے زیادتی ۔ لہٰذا اس تناظر میں دیکھا جائے تو رمضان کی برکات اس کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔ چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کے متعلق اختلاف میں برکت پڑ جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں مختلف لوگوں کا چاند مختلف تاریخوں کو طلوع ہوتا ہے ۔ چونکہ پشاور میں دین سے تعلق رکھنے والے افراد کی زیادتی ہے ، اس لیے وہاں نیکیاں کمانے میں سبقت کی جاتی ہے لہٰذا ان کا چاند بھی سبقت کرتے ہوئے باقی ملک سے ایک روز پہلے نظر آجاتا ہے ۔
رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں ، اُن کی عدم موجودگی میں آن کے قائم مقام جانشین اُن کے فرائض انجام دیتے ہیں ، اس طرح کاروبارِ مملکتِ ابلیس بطریقِ احسن چلتا رہتا ہے ۔ اس عبوری دور کے عہدیداران میں پولیس اور تاجر برادری سرفہرست ہے ۔
سارا سال کام میں مصروف رہنے والے شیاطین ایک ماہ آرام کرکے اپنی توانائیاں بحال کرتے ہیں ، جب وہ واپس آتے ہیں تو اُن پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے جانشینوں نے اُن کی گیارہ ماہ کی دوڑ دھوپ سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے ۔ رمضان کے دوران پولیس والے سارا دن افطاری کے لیے “کمائی” کرتے رہتے ہیں ، جو جوتیوں میں بٹنے والی دال کی طرح ان میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ رمضان کے اختتام پر چاند رات کو اُن کی چاندی ہو جاتی ہے ، جب شیاطین قیدی سے آزاد ہو جاتے ہیں اور اس خوشی میں اپنے جانشینوں کو انعامات سے نوازتے ہیں ۔ یہ انعامات “مُک مُکا” کی شکل میں دیے جاتے ہیں جو کہ عوام سے وصول کیے جاتے ہیں ۔
رمضان کی برکات تاجروں پر بطورِ خاص زیادہ ہوتی ہیں ۔ آغازِ رمضان کے ساتھ ہی تاجر حضرات کی آمدنی دوگنی، چوگنی ہو جاتی ہے ۔ اگر اُن سے گرانیِ اشیائے صرف کی وجہ معلوم کی جائے تو جواب ملتا ہے ، اللہ رزق دینے والا ہے ، آپ اس کے کاموں میں دخل دینے والے کون ہوتے ہیں ؟
رمضان کا چاند طلوع ہوتے ہی مساجد میں جگہ کم پڑ جاتی ہے ۔ وہ حضرات جو سارا سال نماز کے اوقات میں “بالی ووڈ” کے لیے ریونیو فراہم کرتے ہیں ، رمضان کے شروع میں مساجد میں پائے جاتے ہیں ۔ مگر یہ جوش و خروش رمضان کے عروج پر زوال پذیر ہو جاتا ہے ، آہستہ آہستہ مساجد کشادہ ہوتی جاتی ہیں اور ان کی گنجائش بڑھ جاتی ہے ۔
چونکہ ہمارے ہاں نازک مزاج خواتین و حضرات کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ، اس لیے اُن کا تذکرہ نہ کرنا بعید از انصاف ہوگا ۔ اس قسم کے لوگ مجبوری کی حالت میں یا “ڈائیٹنگ” کے طور پر روزہ رکھ تو لیتے ہیں مگر اسے سنبھالنا ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہ یا تو سحری کے بعد نیند کی گولی کھا کر افطاری تک کے لیے سو جاتے ہیں ، یا پھر بازار سے چار عدد فلموں کی کیسٹیں/سی ڈیز لے آتے ہیں ، اس طرح ان کے بارہ گھنٹے نہایت سکون و اطمینان سے گزر جاتے ہیں ۔ ویسے سی ڈی کی بجائے کیبل کا استعمال زیادہ مفید رہتا ہے ۔
رمضان کے اختتام پر تازہ دم شیاطین اپنی پوزیشنیں پھر سے سنبھال لیتے ہیں اور لڑکوں بالوں کی مدد کے لیے پھر سے کوشاں ہو جاتے ہیں ۔ چاند رات کو ہمارے نوجوان طبقے کی موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر عید کی چھٹی پر چلے جاتے ہیں ، اس لیے مجبوراً انہیں بغیر سلنسر موٹر سائیکل چلانی پڑتی ہے ۔ اِک طوفانِ بے ہنگم مچاتی موٹر سائیکلوں کے ساتھ نوجوان سڑکوں پر نکل جاتے ہیں تاکہ خواتین کی شاپنگ میں مدد کی جائے ۔ چونکہ یہ نوجوان بہت رحم دل ہوتے ہیں ، لہٰذا یہ خواتین کے پرس اور دیگر سامان اٹھانے میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سیٹیاں بجا کر اور گانے سنا کر خواتین کے لیے تفریح فراہم کرتے ہیں ۔
2 responses so far ↓
نعمان // October 15, 2006 at 8:14 am
بہت بہت خوب۔ ماشااللہ آپ کا مشاہدہ زبردست ہوتا جارہا ہے ۔ بہت ہی عمدہ اور معیاری تحاریر ہیں۔
Qadeer Ahmad // October 16, 2006 at 1:29 am
شکریہ شکریہ