قرونِ وسطٰی کے مجاہد اور مجھ میں کچھ مشابہت پائی جاتی ہے ، بس فرق یہ ہے کہ وہ اپنی ساری زنگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دیتے تھے ، جبکہ میں اپنا سارا دن موٹر سائیکل کی سِیٹ پر گزار دیتا ہوں ۔ تقریباً ایک سال میں نے ڈٹ کر آرام کیا ہے ، اب اس کی ساری کسریں نکل رہی ہیں ۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی مصیبت آئی رہتی ہے جس کی وجہ سے مجھے جانا پڑتا ہے ۔ چونکہ آج کل ملتان کی سڑکوں پر گھومنا کافی ہو رہا ہے ، اس لیے سوچا کہ ملتان کی سڑکوں اور اس پر چلنے والی نامعقول ٹریفک کا جائزہ لیا جائے ۔
پہلے ملتان کی سڑکوں کی مزاج پرسی کرتے ہیں ۔ بھئی کیا بات ہے ملتان کی سڑکوں کی ، ایسی زود ہضم اور پُراثر سڑکیں آپ کو شاید ہی کہیں ملیں ۔ آپ ڈٹ کر کھانا کھائیے اور کسی سواری پر بیٹھ کر سڑک پر نکل آئیے ، بس پندرہ منٹ میں ہی خوراک ہضم ہو جائے گی اور آپ کی توند معمول پر آجائے گی ۔ ایسی اچھل کود ہوگی کہ آپ کی چربی کے پگھلنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہوگا ۔ اگر آپ ایک ہفتے میں پندرہ کلو وزن کرنا چاہتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کیجیے ، ایسی ایسی سڑکوں پر لے جاؤں گا جو آپ کو سو فیصد نتائج دیں گی ۔
ویسے تو ملتان کی سڑکوں پر عقل کے اندھے کثیر تعداد میں ڈرائیونگ کرتے نظر آتے ہیں ، مگر ان سڑکوں پر کوئی اصل اندھا بھی ڈرائیونگ کر سکتا ہے ۔ جب آپ سڑک پر نکلیں گے تو ہر گاڑی ہارن بجاتی ملے گی جس کی مدد سے نابینا شخص اپنی سمت متعین کر سکتا ہے ، یہ اور بات ہے کہ ان گاڑیوں کے پریشر ہارن کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر اوپر کی سمت سفر کرنے لگے ۔ نابینا حضرات کے لیے سڑک پر موجود “کھڈے” یا گڑھے بھی مدد فراہم کرتے ہیں ۔ کوئی بھی شخص کھڈوں کی تعداد سے معلوم کر سکتا ہے کہ وہ کس جگہ پر پہنچ گیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ لاہور سے آرہے ہیں اور اچانک آپ کے نیچے دس بڑے اور بارہ چھوٹے گڑھے آجاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ جناح چوک (چوک کمہاراں والا) پہنچ گئے ہیں جو کہ ملتان کا داخلی چوک ہے ۔ اگر آپ اچانک آپ کی گاڑی کا ٹائر کسی کھلے ہوئے مین ہول میں جا پڑے تو سمجھ لیجیے کہ عید گاہ چوک آگیا ہے ۔ اگر آپ کا سر گاڑی کی چھت سے ٹکرائے اور پھر آپ سِیٹ سے نیچے جا پڑیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ نو نمبر چوک پہنچ گئے ہیں ۔ اسی طرح دیگر کئی علامتوں کی مدد سے ملتان میں “بآسانی” گاڑی چلائی جا سکتی ہے ۔
پہلے ذکر آچکا ہے کہ ملتان میں “معیاری ڈرائیونگ” کرنا صرف اور صرف عقل کے اندھے کا کام ہے ۔ چونکہ مجھے میں بھی یہ خصوصیت کسی حد تک موجود ہے اس لیے میں بھی کسی قدر کامیابی سے ڈرائیونگ کرلیتا ہوں ۔
عقل کا اندھا بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی گاڑی کی اوریجنل ہیڈلائٹس اتار کر خصوصی قسم کی “سرچ لائٹس” لگوائیں تاکہ مخالف سمت سے آنے والی گاڑی کے چودہ طبق روشن کیے جاسکیں ۔ دوسری بات یہ کہ اپنی گاڑی میں پریشر ہارن نصب کرائیں ، کیونک عام ہارن کی آواز ایسی ہی لگتی ہے جیسی نقار خانے میں طوطی کی آواز ۔ لہٰذا پریشر ہارن ثقلِ سماعت میں مبتلا افراد کو بخوبی متوجہ کر سکتا ہے اور درست حسِ سماعت رکھنے والے افراد کو اس عارضے میں مبتلا کرسکتا ہے ، اس طرح آپ اپنے مخالفین کے کان اس انداز میں کاٹ لیتے ہیں کہ کسی کو کانون کان خبر نہیں ہوتی ۔
صراطِ مستقیم پر چلنا ڈرائیونگ کے اصولوں کے عین منافی ہے ۔ ایسا کر کے آپ نہ صرف اپنی بلکہ اپنی گاڑی کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں ۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ یہاں اپنی گاڑی کو “زِگ زیگ” انداز میں چلائیے ۔ خبر ملی ہے کہ ملتان کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنے والے کئی نوجوان امریکہ کی x-games میں پوزیشنیں لیتے رہے ہیں ۔ اگر آپ اپنے بچے کو ڈرائیونگ سکھانا چاہتے ہیں تو اسے ایک عدد موٹر سائیکل یا کار پکڑا کر سڑک پر چھوڑ آئیے ، بچہ شام تک ڈرائیونگ میں مشاق ہو جائے گا ۔
ہمارے ملک کا ایک اہم مسئلہ غربت ہے ، اور غربت کئی معاشی برائیوں کو جنم دیتی ہے ، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم غربت کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ ہمارے ملک کے غریب طبقات میں ایک طبقہ پولیس کا ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پولیس کی معاشی مدد کریں تاکہ وہ فارغ البال ہو کر اپنے فرائض سے فارغ ہو سکے ۔ ملتان کے کئی “مخیر” حضرات اس نیک مقصد کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور پولیس کے ساتھ ہر قسم کا “تعاون” کرتے ہیں ، اگر نہ کریں تو پولیس ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتی ۔ خودبخود تعاون کرنے والے نیک حضرات میں ویگن اور بس ڈرائیور شامل ہیں ۔ یہ پولیس کے لیے ماہانہ “مشاہرہ” متعین کرتے ہیں تاکہ پولیس والوں کو ان سے نا مانگنا پڑے اور اس طرح ان کی “عزتِ نفس” محفوظ رہے ۔ تعاون نہ کرنے والے حضرات میں کچھ روشن ضمیر ہستیاں شامل ہیں ، ضمیر کی چکا چوند روشنی میں یہ حضرات پولیس کی غربت نہیں دیکھ سکتے اور تعاون کرنے سے انکار کر کے اپنا چالان کروا بیٹھتے ہیں ، اس طرح نادانستگی میں حکومت کا خزانہ بھر دیتے ہیں ۔
7 responses so far ↓
Iftikhar Ajmal Bhopal // October 15, 2006 at 11:35 am
اللہ آپ کی حفاظت کرے ۔ خوانوں کی طرح موٹر سائيکل نہ چلايا کريں آپ کی شکل سے ہی لوگ سمجھ ليں گے کہ آپ نوجوان ہيں
آپ ورڈپريس ميں کونسا فونٹ استعمال کر رہے ہيں؟ مجھے تو ورڈ پريس نے بہت تنگ کيا ہے ۔ اپنی مرضی سے فونٹ اور فونٹ کا سائز بدل ديتا ہے ۔ ميں نفيس ويب نسخ ميں لکھ کر کاپی پيسٹ کرتا ہوں
Asma // October 15, 2006 at 8:02 pm
اتنی لمبی پوسٹ تو ابھی نہیں پڑھی لیکن ورڈپریس پہ خوش آمدید ۔۔۔۔!
Qadeer Ahmad قدیر احمد // October 16, 2006 at 1:37 am
انکل اجمل: کیا کروں یہی تو مسئلہ ہے کہ شکل سے جوان لگتا ہی نہیں ہوں ، لوگوں کو زبردستی بتانا پڑتا ہے ۔
اسماء: کوئی بات نہیں ، پوسٹ نہیں پڑھی تو نہ سہی، آپ کی آمد ہی کافی ہے ؛)
ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // October 30, 2006 at 7:58 am
Recipesملتان کي سڑکيں اور
ادھا کپ دودھ ۔
ادھا کپ ٹھنڈا پاني۔
دو کھانے کے چمچ دہي۔
تينوں چيزوں کو گلاس ميں ڈاليں يا ڈالے بغير ہي پي ليں۔
موٹر سايکل پر بيٹھيں اور زيادہ سے زيادہ 15
ميٹر کا فاصلہ تہ کريں۔
ليجئے۔۔۔۔۔ لسي تيار۔
ياد رہے کہ موٹر سايکل کي سپيڈ چاہے کتني بھي ہو۔ لسي بن کر ہي رہے گي۔
شکريہ۔۔۔
سرديوں ميں ملتان آئيے۔
فوائد؟
١۔ منہ ميں چھلکے والا بدام يعني ہارڈ کور والا بدام رکھيں۔ موٹر کار يا موٹر سائيکل پر بيٹھ کر صرف ايک کھڈے پر سے گزريں۔ بدام کا سخت ترين چھلکہ بھي آپکے منہ ميں دھنکي ہوئي اون بن جاے گا۔
گاڑي روکئيے۔ ديھان رھے کہ گاڑي کا دروازہ کسي بھوکے مين ہول پر نہ کھلتا ہو۔
آپ حيران ہوں گے جب آپ گاڑي سے اترنے کے بعد بقئيہ بداموں کو ديکھيں گے۔ وہ جھٹکوں کي تاب نہ لاتے ہوئے ايک دوسرے سے ٹکرا کر ہي منہدم ہو چکے ہوں گے۔
بدام کا چہلکہ توڑنے کے ليئے کسي خاص مشين کي ضرورت نيہں۔ اللہ کي دي ہوئي نعمت يعني ملتان کي سڑکوں کا شکر ادا کريں۔
ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // October 30, 2006 at 8:13 am
اگر آپ کا گزر ملتان کي کسي بوسيدہ گلي سے ہو تو واہاں کے مکين آپکو اپني گلي ميں خوش آمديد کيہں گے۔۔
اور ہر شخص آپکي خير و آفيعيت کي دعا کرے گا۔
اور آپ گلي ميں گاڑي کو ڈرائو کرنے ميں ايسے مشغول نظر آينگے جيسے کوي کان کن ريت ميں سے سونا ڈھونڈتا نظر آتا ہے۔
آپکا دل دھک دھک کر راہا ہو گا۔ کہ گاڑي کيہں سے رگڑ نہ کھا جاۓ۔
آپکے چہرے کي حالت ديکھ کر مائیں اپنے بچوں کو سينے سے لگا ليں گي۔
اور با ر بار يہ کيہں گي “ايسا ہوتا ہے بھئو اور بچے کي جو شکل اپکي شکل ديکھنے کے بعد بنے گي وہ ناقابل ديد ہے۔۔۔” اور آپ اپنے کام ميں مشغول بچوں کو راستے سے ہٹانے ميں لگے رہيں گے۔
بلآخر آپ اس تنگ گلي کو پار کر ہي ليں گے۔ اور مين روڈ پر آتے ہي ايک سکير يچ ماريں گے۔ اور اپنے آپ کو پھنے خان سمجھنے لگيں گے۔
سمجھنا بھي چايہے۔ کيونکہ جو کام آپ کريں گے، وہ پھنے خان نے بھي نہيں کيا ہو گا۔۔۔
Qadeer Ahmad قدیر احمد // November 1, 2006 at 5:25 am
بہت اچھے عبداللہ ، تمہارے یہ گُن اب کھل رہے ہیں مجھ پر ۔ اگر تم بندے کے پتر بن کر اردو بلاگنگ شروع کر دو تو تمہاری واہ واہ ہو جائے گی
ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // November 1, 2006 at 1:28 pm
yo!
a’ve created a section on http://www.Multan.co.nr
as a URDU POINT
SOURCE = http://www.urdublog.wordpress.com
YO!