Urdu Blog اردو بلاگ

لاؤڈ سپیکر اور مولوی صاحب

October 21, 2006 · 9 Comments

یہاں ملتان میں ایک بابا جی ہیں ۔ وہ رمضان شریف میں صبح تین بجے اٹھ کر مسجد کا سپیکر

سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح گویا ہوتے ہیں ، ”میری ماؤں تے بہنوں! میں وی تہاڈے نال ستاں پیا

ہامی ، ہن میں اٹھ گیاں ، تسی وی اٹھ جاؤ ” یعنی میری ماؤں و بہنو ! میں بھی تمہارے ساتھ ہی

سویا ہوا تھا ، اب میں اٹھ گیا ہوں تو تم بھی اٹھ جاؤ ۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد مولوی حضرات کی کسی سازش کا نتیجہ ہے ۔ یوں

لگتا ہے کہ جیسے یہ بنایا ہی انہی کے لیے گیا ہے ۔ اس پر طرہ کسی ستم ظریف نے یہ لگایا ہے کہ

ایمپلی فائرز میں سائرن بھی شامل کر دیے ہیں ۔ بندہ کرے تو کیا کرے ۔

اب ہوتا یوں ہے کہ کوئی بے سُرا سحری کے وقت سپیکر سنبھال لیتا ہے اور نعتوں کی بے حرمتی

شروع کر دیتا ہے ۔ میں اسے بے حرمتی ہی کہوں گا ۔ اگر لوگ کسی بے سُرے نعت خوان کی وجہ

سے نعت شریف سے دور بھاگیں تو یہ نعت کی بے حرمتی ہی ہوگی ۔ پھٹیچر آواز میں جب کوئی

نعتیہ کلام پڑھا جائے گا تو لوگ کانوں میں انگلیاں ہی دابیں گے ۔ پھر ایک بے سُرا ہٹتا ہے تو دوسرا

اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے ۔

میں نعت خوانی کے خلاف نہیں ہوں ۔ سحری کے وقت میں بھی کمپیوٹر میں موجود حمد و نعت

شریف سنتا ہوں ۔ میں ان بے سرے پھٹیچر آواز والوں کی نعت خوانی کے خلاف ہوں ۔ مجھے معلوم

ہے کہ میری آواز ایسی نہیں ہے کہ میں نعت خوانی کر سکوں ، اس لیے میں مجمع عام میں یہ

کوشش نہیں کرتا ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہر شخص اپنے آپ کو طرم خان کیوں سمجھتا ہے ۔ ہر

بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اس سے تو کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، اور اگر ہو بھی جائے تو وہ قابلِ

گرفت نہیں ہوتی ۔ اگر آپ کی آواز دوسروں کی سماعت پر بارِ گراں ہوتی ہے تو آپ نعت خوانی کرکے

لوگوں کو نعت سے متنفر کر رہے ہیں ۔

خیر ان لاؤڈ سپیکرز کا کچھ فائدہ بھی ہے ۔ میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہوں کہ آواز آتی ہے

“روزہ دارو ، اللہ نبی کے پیارو ، آسمان کے ستارو ، جنت کے حق دارو ، سحری کے لیے اٹھ جاؤ “۔

بس دل چاہتا ہے کہ جاکر اس بندے کا منہ چوم لوں ، کیسی کیسی خوشخبریاں سنا رہا ہے (شکر

ہے کہ کوئی خاتون یہ اعلان نہیں کرتیں) ۔ پھر یہ ارادہ ملتوی کر کے پھر اونگھنے لگتا ہوں کہ آواز آتی

ہے “پندرہ منٹ بعد سحری کا وقت ختم ہو جائے گا”۔ بس پھر بستر کو لات مار کر اٹھ کھڑے ہوئے اور

سحری کی تیاری کرنے لگے

Categories: Islam اسلام

9 responses so far ↓

  • Syeda Mehar Afshan // October 21, 2006 at 6:10 am

    Khob,aaj aap ki agli pichli sari posts perh daleen or hasbe tawaqa hans hans kar bay hal hotay rahay,
    yeh jaan kar khoshi hoi kay aap bhi Ibne Safi kay Fan hain hum bhi kabhi is dewangi main mubtila howay thay or aap hi kay hum umer thay yani 9 saal kay,bas aap nay Mazhar Kaleem ko pakra or hum nay Ibne Safi ko or un ko parhnay kay baad phir kisi or jasosi novel nigar ko moonh naheen lagaya :)

  • Asma // October 21, 2006 at 6:17 am

    Lolz …. :~D

  • Iftikhar Ajmal Bhopal // October 21, 2006 at 7:41 am

    کوئی يہ نہيں بتاتا کہ ان ان پڑھ مولويوں سے چھٹکارہ کيسے حاصل کيا جائے ۔ انہوں نے تو مولوی نام کو ہی بٹہ لگا ديا ہوا ہے ۔

  • قدیر احمد // October 21, 2006 at 9:07 am

    سیدہ مہر افشاں: بہت بہت شکریہ ۔ میں آپ کی آمد کو دوسرے بلاگز پر ملاحظہ فرماتا رہا ہوں ، آج آپ نے میری عزت افزائی کی شکریہ :)
    ویسے حیرانی کی بات ہے کہ آپ ابنِ صفی کی پرستار ہیں ، حیرانی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے متعلق کافی موشگافیاں کی ہیں اور تقریباً تمام ناولوں میں خواتین کے مختلف مظاہر پر بحث کرتے رہے ہیں ۔ :)

    انکل اجمل: اس سوال کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں ہے ، ویسے میرا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں تو دوسرے بھی ٹھیک ہو جائیں گے ۔ ویسے اس تحریر میں میں نے ان کی مکمل برائی نہیں کی ، ان کی بعض باتوں کے حق میں بھی ہوں ۔

  • Syeda Mehar Afshan // October 22, 2006 at 4:51 am

    hum nay aap ko bataya na kay hum us waqt 9 saal kay thay or ab to humain yaad bhi naheen kay unhon nay kia likha tha albata unkay mazahia jumlay kuch kuch zahan main hain or rahi khawateen ki baat to is male dominated society main khawateen in rawayon ki itni aadi ho chuki hain kay ab unhain kuch bura naheen lagta ,

  • میرا پاکستان // October 24, 2006 at 7:20 pm

    آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عید مبارک ہو۔

  • ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // October 30, 2006 at 7:17 am

    lolz

  • ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // October 30, 2006 at 7:34 am

    ضرورت اس بات کي ہے کہ اس خوبصورت دين کي نزاکت کو برقرار رکھا جائے۔
    نعت گوي معزز فعل ہے اسے عزت بخشي جاۓ۔
    لحاضہ بھارتي گانوں کي طرزوںپر مبني نعتيں نا پڑھي جايں، اور نعت شريف کي بڑائي اور اہميت برقرار رہ سکے۔
    تاکہ ہم جيسے نوجوان ايسي نعتيں پڑہتے پڑھتے بھارتي گانے کے بول غلطي سے نہ گن گنا جايں۔

    اور يہ اکثر ہو چکا ہے۔

    ٹايپنگ کے دوران غلطيوں کي معافي کا طلب گار ہوں۔
    شکريہ۔

  • ABDULLAH KHURRAM عبداللھ خرم // October 31, 2006 at 7:59 am

    check out more comments by me on.

    the post.

    ملتان کا نظامِ مواصلات

Leave a Comment