Urdu Blog اردو بلاگ

عید کے بعد

October 27, 2006 · 1 Comment

پچھلی بار عید کچھ خاص نہیں تھی ، اس بار کافی اچھی رہی ۔ عید کے تیسرے دن رات کو کئی کزن وغیرہ گھر آئے تو اچھا خاصا ہنگامہ رہا ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ فدوی محفل کی جان ہے ، ایسی ایسی جگت بازی اور حرکات ہوئیں کہ بس ۔ میری “مقبولیت” کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک کزن نے گھر واپس جا کر دوسرے کزن کو یوں ایس ایم ایس کیا ، ”تم نے میرے مذاق کا برا تو نہیں منایا؟ اور مذاق سے یاد آیا قدیر کا کیا حال ہے“ ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نِرا بھانڈ ہی ہوں :)

اس کے علاوہ بچوں میں میری مقبولیت کا گراف بھی کافی بلند ہے ۔ یہ تو آپ میری بچگانہ حرکات سے جان ہی گئے ہوں گے ۔ لیکن میں ہر بچے کو ”لِفٹ“ نہیں کراتا ، صرف وہی بچے میرے معیار پر پورے اترتے ہیں جو میری طرح ”اچھے بچے“ ہوں ۔ چونکہ اس عید پر میرے چھوٹے والے کزن بھی آئے ہوئے تھے اس لیے مجھ پر دگنا پریشر تھا ۔ ویسے تو میرے بھانجے ہی میرا ستیاناس کرنے کے لیے کافی ہیں مگر میرے ماموں کے بچے ان سے بھی کئی گنا بڑھ کر ہیں ۔ ان بچوں کو اتنے جھولے دینے پڑے کہ میرے بازوؤں کی اچھی خاصی ورزش ہو گئی اور عضلات شدید درد کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے لگے ۔ یاد رہے کہ ان بچوں کی عمریں تین سے لے کر دس سال تک ہیں اور وزن 15 سے لے کر 35 کلوگرام تک :(

ہر بار رمضان کے اختتام پر میری عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ۔ مجھے اس مبارک مہینے کے گزرنے پر بہت افسوس ہوتا ہے اور اختتام پر میں سوچتا ہوں کہ کاش اس مہینے میں ہی کوئی نیکی کر لی ہوتی ۔ لیکن اس بار تو لُٹیا ہی ڈوب گئی ، پہلے کبھی میں نے رمضان شریف میں گانے وغیرہ نہیں سنے تھے اور نہ ہی ٹیلی ویژن دیکھا تھا مگر اس بار دماغ کو نہ جانے کیا ہوگیا تھا ۔ خیر کوئی بات نہیں ، اب میں نیک بندہ بننے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں اور اس ضمن میں شوال کے روزے رکھنے پر سوچ بچار شروع کر دی ہے ۔

Categories: Me بقلم خود

1 response so far ↓

  • Syeda Mehar Afshan // November 2, 2006 at 12:38 am

    Jab jagay jab sawaira!
    Allah istiqamat ata farmaay or sonchon ko amal main dhal day,aameen

Leave a Comment