پچھلی بار عید کچھ خاص نہیں تھی ، اس بار کافی اچھی رہی ۔ عید کے تیسرے دن رات کو کئی کزن وغیرہ گھر آئے تو اچھا خاصا ہنگامہ رہا ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ فدوی محفل کی جان ہے ، ایسی ایسی جگت بازی اور حرکات ہوئیں کہ بس ۔ میری “مقبولیت” کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک کزن نے گھر واپس جا کر دوسرے کزن کو یوں ایس ایم ایس کیا ، ”تم نے میرے مذاق کا برا تو نہیں منایا؟ اور مذاق سے یاد آیا قدیر کا کیا حال ہے“ ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نِرا بھانڈ ہی ہوں
اس کے علاوہ بچوں میں میری مقبولیت کا گراف بھی کافی بلند ہے ۔ یہ تو آپ میری بچگانہ حرکات سے جان ہی گئے ہوں گے ۔ لیکن میں ہر بچے کو ”لِفٹ“ نہیں کراتا ، صرف وہی بچے میرے معیار پر پورے اترتے ہیں جو میری طرح ”اچھے بچے“ ہوں ۔ چونکہ اس عید پر میرے چھوٹے والے کزن بھی آئے ہوئے تھے اس لیے مجھ پر دگنا پریشر تھا ۔ ویسے تو میرے بھانجے ہی میرا ستیاناس کرنے کے لیے کافی ہیں مگر میرے ماموں کے بچے ان سے بھی کئی گنا بڑھ کر ہیں ۔ ان بچوں کو اتنے جھولے دینے پڑے کہ میرے بازوؤں کی اچھی خاصی ورزش ہو گئی اور عضلات شدید درد کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے لگے ۔ یاد رہے کہ ان بچوں کی عمریں تین سے لے کر دس سال تک ہیں اور وزن 15 سے لے کر 35 کلوگرام تک
ہر بار رمضان کے اختتام پر میری عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ۔ مجھے اس مبارک مہینے کے گزرنے پر بہت افسوس ہوتا ہے اور اختتام پر میں سوچتا ہوں کہ کاش اس مہینے میں ہی کوئی نیکی کر لی ہوتی ۔ لیکن اس بار تو لُٹیا ہی ڈوب گئی ، پہلے کبھی میں نے رمضان شریف میں گانے وغیرہ نہیں سنے تھے اور نہ ہی ٹیلی ویژن دیکھا تھا مگر اس بار دماغ کو نہ جانے کیا ہوگیا تھا ۔ خیر کوئی بات نہیں ، اب میں نیک بندہ بننے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں اور اس ضمن میں شوال کے روزے رکھنے پر سوچ بچار شروع کر دی ہے ۔
1 response so far ↓
Syeda Mehar Afshan // November 2, 2006 at 12:38 am
Jab jagay jab sawaira!
Allah istiqamat ata farmaay or sonchon ko amal main dhal day,aameen