Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from November 2006

لینے کے دینے

November 25, 2006 · 3 Comments

کل شام کو میرے دوست (م) نے مجھ سے شاپنگ کے لیے جانے کو کہا ۔ شاپنگ کیا تھی ، بس ایک عدد کومبو ڈرائیو (combo drive) خریدنا تھا ۔ کومبو ڈرائیو کثیرالمقاصد ڈیوائس ہے ۔ اس میں سی ڈی روم ، سی ڈی رائٹر ، سی ڈی ری رائٹر اور ڈی وی ڈی پلیئر شامل ہیں ۔ میں نے سوچا چلو اس کے ساتھ چل کر کچھ اس کی جیب ہلکی کریں گے ، یعنی کچھ اس کے پلے سے کھاؤں پیوں گا ، مگر ہائے ری قسمت ، الٹا لینے کے دینے پڑ گئے ۔

مجھے کسی نے اطلاع دی تھی کہ کومبو ڈرائیو پندرہ سو روپے کا آتا ہے ۔ چنانچہ میں نے اپنے دوست (م) کو یہی بتایا ۔ اب جناب ہم کینٹ میں واقع خان پلازہ پہنچ گئے جو یہاں کمپیوٹر کی مصنوعات کا بڑا مرکز ہے ۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ کسی کومبو ڈرائیو کی قیمت 2100 روپے سے کم نہیں ہے ۔ اب اس نے میرے لتے لینے شروع کیے کہ تم نے بکواس کی تھی ، اب میں گھر والوں سے پورے سورے پیسے ہی لے کر آیا ہوں ۔ خیر گھوم پھر کر ایک دکان پر رکے ۔ اس نے 2025 روپے بتائے ۔ اب جناب میرے دوست صاحب کی جیب میں تھے انیس سو روپے ۔ مجبوراً اوپر کے پیسے مجھے دینے پڑے ، قسمت پر ماتم کیا ۔ پھر واپسی پر چلتے چلتے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو گیا ، نئی مصیبت ۔ موٹر سائیکل بھی دوست کی تھی اور اس کی جیب میں صرف بارہ روپے تھے ۔ اب میں نے اس کو کوسنا شروع کیا تو اس نے جواباً میری کلاس لے ڈالی کہ تم نے غلط اطلاع دی تھی ۔ اب میں الگ روؤں کہ دعوتِ شیراز بھی گئی ، الٹا ڈرائیو کے پیسے بھی مجھے دینے پڑے اور اب یہ پٹرول ۔ چنانچہ پٹرول کے دس روپے میں نے دیے اور دس اس نے ۔ آگے چل کر پٹرول پمپ سے بیس روپے کا پٹرول ڈلوایا اور خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔

نتیجہ : اپنی نیت ہمیشہ صاف رکھو اور زیادہ لمبے چوڑے منصوبے مت بناؤ خاص طور پر کھانے کے معاملے میں ۔

Categories: Me بقلم خود

رہے نام اللہ کا

November 23, 2006 · 5 Comments

بلاگ سپاٹ پر جو میرا اردو بلاگ چل رہا تھا اس پر پندرہ بیس ہزار وزٹ ہوئے تھے ۔ 3 اکتوبر 2006 کو
اس نئی جگہ پر میں نے اردو بلاگ شروع کیا ۔ اب میں نے دیکھا کہ اس بلاگ پر unique visits کی تعداد 1,404 تھی ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ میں تو ایک نکما اور نالائق شخص ہوں ۔ مجھ جیسے مبتدی کے لیے یہی بڑی بات ہے کہ پچاس دنوں میں ایک ہزار سے زائد افراد نے میرا بلاگ دیکھا ۔

میں نے ایک بات نوٹ کی ہے ۔ وہ یہ کہ مزاح نگاروں کی اکثریت لکھتے وقت اپنے لیے “ہم” کا لفظ استعمال کرتی ہے ۔ میں اس کی وجہ نہیں سمجھ سکا ۔ شاید ہم استعمال کرنے سے مزاح میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ میں اگرچہ مزاح نگار نہیں ہوں ، مگر کبھی کوئی شگفتہ بات لکھنی ہو تو “میں” کا لفظ استعمال کرتا ہوں ۔ شاید آپ یہ سوچیں کہ مجھ میں “میں” یعنی انا گھسی ہوئی ہے ، لیکن میری تحریریں اس بات کی تردید کرتی ہیں ۔
میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں کہ لفظ میں اور ہم میں سے کس لفظ کا استعمال مناسب ہے ۔ اور یہ کہ کیا ان الفاظ سے تحریر کی صحت پر کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں؟

Categories: Blogging بلاگنگ

کچھ خبریں

November 21, 2006 · 4 Comments

تقریباً 9 بجے شب سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ہے ۔ چند دقیقوں (منٹ) کے لیے تیز بارش بھی ہوئی ہے ۔ موسم خوشگوار ہوگیا ہے ۔ چار پانچ روز قبل بھی بارش اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے کی وجہ سے خنکی بڑھ گئی تھی اور جرسیاں ، سویٹریں نکل پڑیں تھی ۔ لگتا ہے کل پھر جرسی پہننی پڑے گی ۔

باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ مولانا الیاس قادری کے ملتان نہ آنے میں وزیراعظم شوکت عزیز کا ہاتھ ہے ۔ خیال رہے کہ 17،18،19 نومبر کو ملتان میں دعوتِ اسلامی کا تین روزہ سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ ہر سال اس دینی اجتماع میں شرکت کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں ، اور کہا جاتا ہے کہ افراد کی تعداد کے حوالے سے یہ اجتماع رائے ونڈ میں منعقد ہونے والے اجتماع سے بڑا ہوتا ہے ۔ بہرحال ، اجتماع کے تیسرے روز دعوتِ اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری کی زیرِ سیادت دعا مانگی جاتی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بار شوکت عزیز صاحب (جو کہ لودھراں کے دورے پر آنے والے تھے ) نے اجتماع سے خطاب کرنے کا عندیہ دیا تھا ، مگر الیاس قادری صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ دعوتِ اسلامی سیاسی جماعت نہیں ہے ۔ اس خیال کہ پیشِ نظر کہ کہیں شوکت عزیز صاحب زبردستی اجتماع سے خطاب کرنے نہ پہنچ جائیں ، مولانا الیاس قادری صاحب نے اجتماع میں شرکت نہیں کی ۔

مزید خبر یہ ہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کی ملتان آمد سے جہاں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، وہیں کچھ فائدے بھی برآمد ہوئے ہیں ۔ پورے ملتان کی پولیس کو سٹیڈیم جانے والے راستوں پر متعین کر دیا گیا ہے ۔ ہر پچاس گز کے فاصلے پر چار چار مامے (پولیس مین) تعینات کیے گئے ہیں ۔ اس سے فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان راستوں پر ٹریفک کے حادثات اور جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ دوسری طرف نواں شہر کا علاقہ جہاں ہالی ڈے اِن ہوٹل میں یہ ٹیمیں قیام پذیر ہیں ، شدید مصیبت میں گھرا ہوا ہے ۔ اِن علاقوں کی مسلسل ناکہ بندی کی گئی ہے اور ہوٹل کے قریبی علاقوں کو سِیل کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ان علاقوں میں رہنے والے افراد کی زندگی دوبھر ہو گئی ہے ، ان کے آنے جانے اور کاروبار کی بندش کے علاوہ ٹریفک کی آمدورفت میں شدید دشواری اور ٹریفک جام کے مسائل حرزِ جاں بنے ہوئے ہیں ۔ خیال رہے کہ یہ علاقہ نہایت گنجان آباد ہے ۔

Categories: Multan ملتان

مزید باتیں

November 19, 2006 · 8 Comments

پچھلی پوسٹ جو کہ سیاحتی دورے سے متعلق تھی ، ذرا جلدی میں لکھی گئی تھی ۔ اس پر میرے قارئین کی کثیر تعداد (یعنی دو افراد) نے تبصرہ کیا کہ اس تحریر میں کچھ مرچ مصالحہ نہیں لگایا گیا ۔ اچھا بھئی ، اس تحریر میں کچھ چھچھورا پن دکھانے کی کوشش کرتے ہیں :)

تو جناب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ فدوی بلا کا سحر خیر ہے ، یعنی اسے بڑی بڑی بلائیں بھی سحر خیزی سے باز نہیں رکھ سکتیں ۔ یاد رہے کہ یہاں سحر سے مراد میری ہمسائی نہیں بلکہ صبح ہے جسے انگریزی میں مارننگ کہتے ہیں ۔ خیر ، میں کہہ رہا تھا کہ ویسے تو میں صبح صبح آٹھ نو بجے ہی (بہ ہزار مشکل) اٹھ جاتا ہوں مگر ہفتہ کے دن اس سے بھی جلدی اٹھنا پڑا ۔ میرے محترم استاد صاحب (عمر 30 سال) نے تاکید کی تھی کہ سات بجے سے پہلے اکیڈمی پہنچ جانا کیونکہ ساتھ بج کر ایک منٹ اور تینتیس سیکنڈ پر بس روانہ ہو جائے گی ۔ چنانچہ اس روز مجھے گھر والوں نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پانچ بجے اٹھایا اور کان سے پکڑ کر غسل خانے میں دھکا دے دیا ۔ اس طرح اتفاق سے اس دن میں نے فجر کی صلوٰۃ بھی ادا کر لی اور پونے سات بجے اکیڈمی پہنچ گیا ۔

دروازے پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گیٹ “پاٹوں پاٹ” کھلا ہوا ہے ۔ سامنے ایک کمپیوٹر کے ساتھ زبردست قسم کے سپیکر رکھے ہوئے ہیں جن سے موسیقی کی لہریں کثیر تعداد میں برآمد ہو رہی ہیں اور استاد صاحب ندارد ۔ دراصل استاد صاحب کے کئی شاگر عمر اور جُثے میں ان سے کہیں بڑے ہیں اس لیے استاد صاحب کو استاد سے زیادہ “معشوق” سمجھا جاتا ہے ۔ خیر خدا خدا کر کے استاد صاحب کہیں سے تشریف لائے ، معلوم ہوا کہ انتظامات میں مصروف تھے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی تو سارے لڑکے بھی نہیں پہنچے اور بس بھی نہیں آئی ۔ پھر جو لڑکے آئے تو اپنے ساتھ محلے داروں اور رشتے داروں کو بھی گھسیٹ لائے یعنی ایک کی قیمت میں تین تین بندے ۔ بس میں پچاس بندوں کی گنجائش تھی مگر اس میں سوار ہوئے ساٹھ سے زائد ۔ بس تقریباً نو بجے ملتان سے روانہ ہوئی ۔

ہمارے ساتھ کیلے ، سیب اور مسمیوں کی کئی پیٹیاں تھیں ، چائے کے لیے دودھ کے ڈرم اور 16 کلو مرغی کے گوشت کی دیگ بھی تھی ۔ یعنی کھانے کا کھلا بندوبست تھا ۔ لیکن اس کے باوجود لڑکے گھروں سے اچھا خاصا ناشتہ بھی ٹھونس آئے تھے ۔ نتیجے کے طور پر تھوڑی ہی دیر بعد بس میں اعلانات شروع ہوگئے کہ مِسڈ کالز آرہی ہیں ۔ چنانچہ پونے گھنٹے بعد ہی بستی ملوک میں بس روکی گئی اور لڑکے “محفوظ مقامات” کی تلاش میں بکھر گئے ، یاد رہے کہ میں ان میں شامل نہیں تھا ، میں تو بس کی چھت پر تھا ۔ ارے ارے میں وہاں کال ریسیو نہیں کر رہا تھا ، بلکہ لڑکوں کی “سرگرمیاں” نوٹ کر رہا تھا ۔ کئی لڑکے تو سڑک پر پھیل گئے اور آتی جاتی بسوں کو چھیڑنے لگے ۔ اتفاق سے موٹر وے پٹرولنگ پولیس کی ایک گاڑی ادھر آنکلی اور اس نے ان بکھری ہوئی موجوں کو کنارے لگایا ۔ اسی قیام کے دوران بچوں میں پھل وغیرہ تقسیم کیے گئے ۔ نتیجتاً اگلی بریک بہاولپور کے ایک پٹرول پمپ پر لگی ۔

اس بار قیام کا مقصد گاڑی کے پنکچر شدہ ٹائر کی مرمت بھی تھا ۔ ادھر پٹرول پمپ کے بے چارے دو عدد بیت الخلاؤں پر قطاریں بنی ہوئی تھیں ۔ پھر جناب کوئی ایک ڈیڑھ بجے ہم بہاولپور سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ” لال سوہانرا نیشنل پارک ” پہنچے ۔ یہاں کئی اقسام کے جانور موجود ہیں اور وسیع جنگلات ہیں ۔ قریب ہی علاقہ غیر ہے ، یہاں ایک ہیڈ ورکس بھی ہے جس سے دو نہریں نکالی گئی ہیں ۔ یہ علاقہ فوجی نوعیت کے لحاظ سے بھی اہم ہے ، تقریباً ہر وقت فوجیوں کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آتی ہیں ۔ اس پارک میں کافی رش ہوتا ہے ، دور دور سے لوگ آتے ہیں ، اندر کچھ دکانیں وغیرہ بھی ہیں ۔ گھاس کے قطعات اور پھولوں، پودوں کی باڑوں کی صفائی ستھرائی بھی اچھی ہوتی ہے ۔ یہاں ہم کافی گھومے پھرے ، تصویریں کھینچی گئیں ۔ پھر مرغی اور بوتلوں سے انصاف کیا گیا اور پھر بیڈمنٹن فٹ بال کھیلا ۔ جس کے نتیجے میں تین چار دن تک میری ٹانگوں اور بازوؤں کے عضلات میں درد ہوتا رہا ، کبھی ورزش جو نہیں کی :)

یہاں سے چلنے کے بعد ہم پندرہ کلومیٹر کی دوری پر Whispering Hill پہنچے ۔ یہاں پر ایک مصنوعی ٹیلے پر تفریحی مقام بنایا گیا ہے اس لیے اسے ہِل کہتے ہیں ۔ اچھی جگہ ہے ، ریسٹ ہاؤس بھی ہے جہاں ہمیں گھسنے نہیں دیا گیا ۔ بس باہر باہر ہی پھرتے رہے ۔ جھیل بھی تھی اور کشتیاں بھی ۔ یہاں کرکٹ کھیلی گئی اور دوستوں کے ساتھ شرارتیں بھی کی گئیں ، ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں ہے ;)

رات کو سات بجے واپسی ہوئی ۔ آمد و رفت کے وقت بس میں خوب ہلا گلا کیا ۔ لڑکوں نے بس میں ڈانس کیے اور میری “خوبصورت ، دلکش اور سریلی” آواز میں گانے سنے گئے ، بلکہ بار بار فرمائش کر کر کے مجھے بلایا گیا (بھانڈ؟) ۔ لطیفے وغیرہ بھی سنائے اور شرارتوں کی تو بات ہی نہ پوچھیے ، جہاں فدوی ہو وہاں سکون تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ واپسی پر بہاولپور میں پھر اسی پٹرول پمپ پر بس روکی گئی جہاں ہم پہلے اترے تھے ، فوراً ہی آمد ہوئی ۔ ۔ ۔
” لے آئی پھر کہاں سے ، قسمت ہمیں کہاں پر
یہ تو وہی جگہ ہے ، مُوترے تھے ہم جہاں پر “۔

Categories: Travel سیاحت

سیاحتی دورہ

November 16, 2006 · 10 Comments

11-11-2006بروز ہفتہ ہماری اکیڈمی کا ٹرِپ صبح آٹھ بجے روانہ ہوا اور رات کو گیارہ بجے واپسی ہوئی ۔ بس کے سست رفتار ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت سفر میں ہی لگ گیا ۔ راستے میں بستی ملوک اور بہاولپور میں آدھا آدھا گھنٹہ قیام کیا ۔ اور تقریباً ڈیڑھ بجے بہاولپور سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر لال سوہانرا نیشنل پارک میں اترے ۔ گھومنے ، کھانے اور کھیلنے کے بعد تین بجے وہاں سے روانہ ہوئے اور نصف گھنٹے بعد وسپرنگ ہِل پہنچے ۔ وہاں سابق نوازشریف کے “دستِ مبارک” سے افتتاح کردہ ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس اور جھیل موجود ہے ۔

یہ سارا علاقہ جہاں گھومتے رہے ، بہت سرسبز ہے ۔ یہاں وسیع رقبے پر جنگلات موجود ہیں ۔ چونکہ بھارت کی سرحد وہاں سے تقریباً دس کلومیٹر دورے ہے اس لیے فوجی نوعیت کے اعتبار سے یہ اہم علاقہ ہے ۔ کشیدگی کے دنوں میں وہ سارا علاقہ جہاں ہم گھومتے پھرتے رہے ، فوجیوں سے اٹا رہتا ہے ۔

لال سوہانرا نیشنل پارک اور وسپرنگ ہل کے درمیان لائن سفاری پارک ہے جہاں شیر آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں اور سیاح ان کے درمیان بند گاڑیوں میں نظارے کر سکتے ہیں ۔ مگر ہمارے وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے یہ پارک بند ہے ۔ خیر ہم نے لال سوہانرا میں موجود گینڈوں اور موروں سے ہی دل بہلا لیا ۔ اس کے علاوہ بھی وہاں کئی جانور موجود ہیں ۔ قریب ہی نایاب کالے ہرنوں کی افزائش گاہ ہے ۔ لال سوہانرا میں سیاحوں کا کافی رش ہوتا ہے مگر وسپرنگ ہل بہت پرسکون جگہ ہے ۔ اگر آپ کا ملتان یا بہالپور کا چکر لگے تو ان مقامات کی سیر ضرور کیجیے ۔

داستان تو بہت طویل ہے ، مگر تصویروں کی شمولیت کی وجہ سے پوسٹ طویل ترین ہو گئی ہے اس لیے کئی دلچسپ باتوں کا تذکر موخر کر دیا گیا ہے ۔ اور ہاں ، چونکہ میری شکل کچھ خاص نہیں ہے اس لیے ان تصویروں میں موجود میرے چہرے کو مزید خوبصورت بنادیا ہے تاکہ آپ کو کچھ نظر نہ آسکے :)

Categories: Travel سیاحت