Urdu Blog اردو بلاگ

پاکستان کی کہانی

November 1, 2006 · 7 Comments

گورو اور چیلے

ایک تھا گورو ، بڑا نیک دھر ماتما ۔ دو اس کے چیلے تھے ، وفادار جاں نثار ۔ گورو کے خون کی جگہ اپنا پسینہ بہانے کے لیے تیار ۔ ایک کا شبھ نام پوربو مل تھا ، دوسرے کا پچھمی چند ۔ گوروجی جب لوگوں کو اپدیش دینے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کے بعد آرام کرنے کو لیٹتے تو چیلا پوربومل ان کی داہنی ٹانگ دباتا اور پچھمی چند بائیں ٹانگ کی ٹہل سیوا کرتا ۔ دونوں اپنے اپنے حصے کی ٹانگ کی مٹھی چاپی کرتے ، تیل چپڑ کر اسے چمکاتے ، جھنڈیاں اور گھنگرو باندھ کر اسے سجاتے ۔ اس پر مکھی بھی نہ بیٹھنے دیتے تھے۔ ایک روز کرنا پرماتما کا ایسا ہوا کہ گورو جی ایک کروٹ لیٹ گئے اور ان کی بائیں ٹانگ داہنی ٹانگ کے اوپر جا پڑی ۔ چیلے پوربومل کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے فورا ایک ڈنڈا اٹھایا اوربائیں ٹانگ پر رسید کر دیا ۔ گوروجی نے بلبلا کر داہنی ٹانگ اوپر کر لی ۔ اب پچھمی چند کی غیرت نے جوش مارا ۔ اس نے اپنی لٹھیا اٹھائی اور داہنی ٹانگ کی خوب مرمت کی ۔ گوروجی بہت چلائے کہ ظالمو کیوں مارے ڈالتے ہو ہائے ، لیکن چیلے کب مانتے تھے ۔ گوروجی کی ٹانگیں سوج کر کُپا ہو گئیں ، مدتوں ہلدی چونا لگانا پڑا ۔

اب آگے چلیے ، کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ لالہ پچھمی چند کے کئی بیٹے تھے ، بڑے ہونہار اور ہوشیار ؛ پشاوری مل ، سندھو رام ، لاہوری مل اور بلوچ رائے ۔ لالہ جی کا دیہانت ہوا تو یہ ٹانگ انہوں نے ورثے میں پائی ۔ وہ گوروجی کی ٹانگ دباتے تھے لیکن کوئی ران کا حصہ زیادہ دباتا تھا ۔ کوئی پنڈلی پر زیادہ توجہ دیتا تھا ۔ اُخر ایک زبردست جھگڑا ہو اور طے ہوا کہ ہم اپنا حصہ الگ کر لیں گے ۔ لالہ پوکو مل نے کہا ، ہاں ہاں ٹھیک کر رہے ہو میں بھی اپنے حصے کی ٹانگ کاٹ کر لے جا رہا ہوں ۔ اب ان برخورداروں نے گنڈاسا منگوایا ۔ ایک نے ران سنبھالی ، بوری میں ڈالی ۔ دوسرے نے پنڈلی لے لی ، تیسرے نے گھٹنا ، چوتھے نے باقی کو سمیٹا اور گھر کی راہ لی اور اس کے بعد سبھی ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے ۔ گوروجی کیا کیا ہوا؟ مرے یا جیئے ۔ جیئے تو کتنے دن تک جیئے ۔ اس کا کہانی میں ذکر نہیں ۔

مصنف: ابنِ انشاء

Categories: Pakistan پاکستان

7 responses so far ↓

  • Iftikhar Ajmal Bhopal // November 1, 2006 at 10:26 am

    يہ آپ کو بھی انشاء جی ہو گيا ہے
    ورڈ پريس ميرے قابو ميں نہيں آ رہا وہ بھی پوربو مل کی اولاد ميں سے لگتا ہے ۔ جب جياسا جی چاہے چھاپ ديتا ہے ۔ آپ والا نسخہ کارگر نہيں ہوا۔

  • میرا پاکستان // November 1, 2006 at 1:42 pm

    دور کی کوڑی لاۓ ہیں اب جو سمجھے اس کا بھی بھلا اور جو نہ سمجھے اس کابھی بھلا۔

  • umair // November 1, 2006 at 5:33 pm

    wah g wah

  • قدیر احمد // November 2, 2006 at 4:27 am

    افتخار اجمل: عجیب بات ہے ، میرے پاس تو یہ نسخہ بخوبی چل رہا ہے ، آپ ایسا کیجیے کہ جس طریقے سے آپ پوسٹ بھیجتے ہیں ، اس کی سکرین شاٹس لے کر میرے پاس بھیج دیجیے ۔

    میرا پاکستان: جی ہاں

    عمیر: ابن انشاء کی واہ واہ

  • Asma // November 2, 2006 at 5:10 am

    Ibn e insha ki tu kiya hii baat hay … i’m deeply in love with his witty writings :)

    Cha gaye ho!

  • نعمان // November 5, 2006 at 1:17 am

    مجھے تو اردو کی آخری کتاب از بر ہے۔ میں تو ابن انشاء کا بہت بڑا پنکھا ہوں۔ طنز و ظرافت میں یہ کتاب واقعی اردو کی آخری کتاب ہے۔

    گرچہ پطرس بھی بہترین لکھتےتھے مگر ان کے ہاں وہ بے ساختگی، وہ کٹیلا پن اور وہ توازن نہیں جو ابن انشاء کے ہاں ہے۔ نثر میں شاعرانہ موسیقیت کی جب ہم بات کرتے ہیں تو عموما اس خوبی کو رومانی ناولوں میں زیادہ پایا گیا ہے مگر ابن انشاء کا طنز بھی بے سرا نہیں۔

    بھئی واہ۔ قدیر بہت اچھے۔

  • قدیر احمد // November 5, 2006 at 4:38 pm

    اسماء اور نعمان: شکریہ
    :)

Leave a Comment