Urdu Blog اردو بلاگ

نائی محلے کی دائ

November 4, 2006 · 13 Comments

کہتے ہیں نائی محلے کی دائی ہوتا ہے ۔ نائی کے متعلق لکھنے کا خیال ایسے آیا کہ ایک انگریزی فلم میں ایک نائی دیکھا جو نہایت خاموشی سے اپنا کام کر رہا تھا ۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات صرف برصغیر پاک و ہند کے نائیوں تک ہی محدود ہے ۔

نائی کی دکان کا ماحول کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک کونے میں اوپر ٹی وی رکھا ہے جس کے ساتھ سیٹلائیٹ چینلز کی کیبل منسلک ہے ، آپ گود میں اخبار لے کر کرسی پر تشریف فرما ہیں ، ساتھ ہی حضرتِ مشاط موجود ہیں جن کی قینچی اور زبان یکساں رفتار سے دوڑ رہی ہے ۔ حجام صاحب آپ کی گت بنانے کے ساتھ ساتھ محلے میں موجود خواتین و حضرات اور عالمی مسائل پر اپنے ماہرانہ تجزیے سے آگاہ کر رہے ہیں اور وقفے وقفے سے آپ کی رائے بھی معلوم کر رہے ہیں جسے یقیناً مثبت ہی ہونا چاہیے ۔ اردگرد کچھ افراد اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ، ان افراد میں پیر و جوان دونوں شامل ہیں ۔ کچھ نوجوان آپس میں محوِ گفتگو ہیں اور کچھ ٹی وی پر دکھائے جانے والے “علم الابدان” سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ بزرگ حضرات بظاہر اخبار لے کر بیٹھے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد کنکھیوں سے ٹی وی پر ناچنے والی صنفِ نازک کے کردار سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے استغفراللہ پڑھ کر دوبارہ اخبار کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ۔

Musharraf as Naiاب تو شہروں میں موجود نائیوں کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں ، مگر دیہات میں پرانی صورتِ حال برقرار ہے ۔ کچھ دہائیاں قبل تک نائی علاقے کی اہم ضرورت ہوتا تھا ۔ یوں تو وہ حالاتِ حاضرہ و گزشتہ کا عالم ہوتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عامل بھی تھا ۔ یعنی علاقے میں ہونے والے بیشتر کام اس کے ہاتھوں انجام پاتے تھے ۔ کسی بھی تقریب کے مہمانوں کو بلانے کی ذمہ داری نائی کے سپرد کی جاتی تھی (اس وقت دعوتی کارڈوں کی بدعت ایجاد نہیں ہوئی تھی) ۔ نائی گھر گھر جاکر لوگوں کو تقریب کے متعلق آگاہ کرتا تھا ۔ پیدائیش ، شادی ، فوتگی ، سیاسی و مذہبی نوعیت کی تقریبات میں دیگیں پکانے کا کام بھی یہی کرتا تھا ۔ پیدا ہونے والے بچے کی جھنڈ اتارنے اور ختنہ کرنے کا فریضہ بھی نائی ہی انجام دیتا تھا ۔ تعلیمی مدرسوں سے جو طلباء بھاگ کر آتے ان کو واپس مدرسے میں استاد کے سپرد کرنے اور استاد کے پیغامات والدین تک پہنچانے کا کام بھی کرتا ۔ دو ملاؤں میں مرغی حرام کرانے اور خفیہ طور پر اِدھر کی اُدھر لگانے یعنی لگائی بجھائی کرنے کا کام بھی بعض منفی طبیعت کے حامل نائی انجام دیتے تھے ۔ لگائی بجھائی کرنے کے کام تو جدید نائی بھی بخوبی انجام دیتے ہیں ، خیر یہ تو ہماری پوری قوم کا ہی خاصہ ہے ۔ حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت حجام نہایت وثوق سے اعلان کرتا ہے کہ امریکہ کا اگلا قدم کیا ہوگا اور ملک کے اربابِ اقتدار کتنی رقم پر اپنے ضمیر کا سودا کرنے کے لیے تیار ہوں گے ۔

کہتے ہیں کہ قائدِ اعظم نے ساری زندگی میں صرف ایک شخص کے سامنے سر جھکایا جو کہ اُن کا نائی تھا ۔ بڑے بڑے سر پھرے نائی کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ بڑے بڑے سیاستدانوں، بدمعاشوں اور امیروں کی نائی کے سامنے بس ہو جاتی ہے اور وہ بخوشی نائی سے “حجامت” بنواتے ہیں ۔ چمپی کرنے کے بہانے نائی ان سے گِن گِن کے بدلے لیتا ہے اور ان کے سر پر ایسی تال بجاتا ہے کہ مضروب کی مضراب بج جاتی ہے اور اس کے ہوش ٹھکانے آ جاتے ہیں ۔

Categories: Society معاشرہ

13 responses so far ↓

  • Iftikhar Ajmal Bhopal // November 4, 2006 at 3:44 am

    کسی زمانہ ميں نائی ايک فعال کردار تھا ۔ غمزدہ کی دلجوئی کرنا يا ڈھارس بندھان ۔ ناراض ہو جانے والوں ميں صُلح کرانا اور جھوٹوں کو بڑوں کی عزت اور خدمت کا سبق دينا بھی اس سے بہتر کوئی نہ کر سکتا تھا۔ جب فيملی سسٹم کا شيرازہ بکھر گيا تو نائی کا انسٹيٹيوشن بھی ختم ہو گيا ۔
    کوئی مانے يا نہ مانے وہ زمانہ بہت اچھا تھا جو اب کبھی نہيں آ سکتا ۔

  • Mera Pakistan // November 4, 2006 at 12:50 pm

    پرانے زمانے کا نائي سرجن بھي ہوتا تھا۔ چھوٹے موٹے آپريشن اپنے استرے سے کرنا اس کا دائيں ہاتھ کا کھيل ہوتا تھا۔
    آپ نے نائي کي بيوي کا ذکر نہيں کيا۔ اسکيلۓ آپ کو الگ پوسٹ لکھني پڑے گي۔ کيونکہ نائن يا نين کا کردار نائي سے کم نہيں رہا۔ رشتے لينے دينے ميں وہ ثالث ہوتي تھي۔ شادي بياہ ميں گھر کے کاموں ميں وہ ہاتھ بٹايا کرتي تھي۔
    يورپ کے نائي بھي کسي سے کم نہيں ہيں۔ يہاں بھي وہي زبان کي قينچي چلتي ہے اور حالاتِ حاضرہ پر ماہرانہ راۓ سنني پڑتي ہے۔ يورپ ميں ايک چيز منفرد ہے اور وہ ہے عورتوں کا نائي بن کر لوگوں کي حجامت کرنا۔ کئ دکانيں تو صرف صنفِ نازک کي وجہ سے چلتي ہيں۔

  • شعیب صفدر // November 4, 2006 at 5:54 pm

    خوب!!!

  • قدیر احمد // November 4, 2006 at 6:09 pm

    انکل اجمل: میرے اندر پچاس سال پرانی روح رہتی ہے اس کا اندازہ آپ کو میری تحریروں سے ہوتا ہوگا ۔ اس لیے مجھے بھی پرانا زمانہ اچھا لگتا ہے اور یاد بھی آتا ہے ۔

    میرا پاکستان: دراصل نائی کی بیوی سے میری ملاقات نہیں ہوئی اس لیے اس کے بارے میں لکھ نہیں سکا ;)

  • نعمان // November 5, 2006 at 1:11 am

    میں نے سنا ہے کہ دیہاتوں میں ابھی بھی نائی یہ سب کام انجام دیتے ہیں۔ مگر شاید کہیں کہیں۔

    آپ کا مشاہدہ بہت تیز ہے۔ بہت اچھی طرح نائی کی دکان کا نقشہ کھینچا ہے۔ میں اس قسم کی مزید تحاریر کا منتظر رہوں گا۔

  • Mrs Mehar Afshan Saeed // November 5, 2006 at 5:18 am

    Itna acha likha hay kay lagta hay kisi baray musanif ki kitab ka iqtibas parh rahay hain;

  • قدیر احمد // November 5, 2006 at 4:42 pm

    نعمان: میں آپ کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا

    سیدہ مہر افشاں: یہ آپ نے تعریف کی ہے یا ۔۔۔۔۔۔ یعنی آپ کے خیال میں میں بڑا مصنف نہیں ہوں:(
    آپ کے نام کے ساتھ مسز لکھا دیکھ کر خوشی ہوئی ، اب میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے قارئین میں جہاندیدہ بزرگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ، اب میں آپ کو آنٹی کہوں گا۔

  • Sadia // November 6, 2006 at 6:17 am

    khub bohut acha likha hai

  • نعمان // November 6, 2006 at 7:38 am

    ارے نہیں بھائی میری امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ تو ایک لکھنے والے ذہن پر جبر ہے۔ بس جیسا تم لکھنا چاہوں ویسے لکھو۔

  • بدتمیز // November 6, 2006 at 7:24 pm

    سلام
    بھیا ای میل ایڈریس تو لکھ آتے۔ خیر اب بتا دو تا کہ تم کو انویٹیشن بھیج سکو

  • Mrs Mehar Afshan Saeed // November 9, 2006 at 5:31 am

    Aap basade shoq humain Aunty kah saktay hain, yon bhi hamara beta aap ka humumar hay:)
    is tahreer par to kuch shubah tha laikin mazeed tahreerain parh kar woh door ho gaya hay:)
    Allah karay zore qalam or ziada!

  • Bruce M. Axtens // September 27, 2007 at 2:39 pm

    Mujhe mu’af kijie, but this has nothing to do with what this site is about.

    What does the word بجھائی mean?

    Kind regards,
    Bruce.

  • قدیر احمد // September 27, 2007 at 9:31 pm

    Bruce: Will you please introduce yourself? You seem like and English man but you are writing Urdu.

    Please note that my blog is shifted to http://blog.bayaaz.com

    If you are interested in Urdu, then please see http://forums.urdutech.com

Leave a Comment