پچھلی پوسٹ جو کہ سیاحتی دورے سے متعلق تھی ، ذرا جلدی میں لکھی گئی تھی ۔ اس پر میرے قارئین کی کثیر تعداد (یعنی دو افراد) نے تبصرہ کیا کہ اس تحریر میں کچھ مرچ مصالحہ نہیں لگایا گیا ۔ اچھا بھئی ، اس تحریر میں کچھ چھچھورا پن دکھانے کی کوشش کرتے ہیں
تو جناب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ فدوی بلا کا سحر خیر ہے ، یعنی اسے بڑی بڑی بلائیں بھی سحر خیزی سے باز نہیں رکھ سکتیں ۔ یاد رہے کہ یہاں سحر سے مراد میری ہمسائی نہیں بلکہ صبح ہے جسے انگریزی میں مارننگ کہتے ہیں ۔ خیر ، میں کہہ رہا تھا کہ ویسے تو میں صبح صبح آٹھ نو بجے ہی (بہ ہزار مشکل) اٹھ جاتا ہوں مگر ہفتہ کے دن اس سے بھی جلدی اٹھنا پڑا ۔ میرے محترم استاد صاحب (عمر 30 سال) نے تاکید کی تھی کہ سات بجے سے پہلے اکیڈمی پہنچ جانا کیونکہ ساتھ بج کر ایک منٹ اور تینتیس سیکنڈ پر بس روانہ ہو جائے گی ۔ چنانچہ اس روز مجھے گھر والوں نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پانچ بجے اٹھایا اور کان سے پکڑ کر غسل خانے میں دھکا دے دیا ۔ اس طرح اتفاق سے اس دن میں نے فجر کی صلوٰۃ بھی ادا کر لی اور پونے سات بجے اکیڈمی پہنچ گیا ۔
دروازے پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گیٹ “پاٹوں پاٹ” کھلا ہوا ہے ۔ سامنے ایک کمپیوٹر کے ساتھ زبردست قسم کے سپیکر رکھے ہوئے ہیں جن سے موسیقی کی لہریں کثیر تعداد میں برآمد ہو رہی ہیں اور استاد صاحب ندارد ۔ دراصل استاد صاحب کے کئی شاگر عمر اور جُثے میں ان سے کہیں بڑے ہیں اس لیے استاد صاحب کو استاد سے زیادہ “معشوق” سمجھا جاتا ہے ۔ خیر خدا خدا کر کے استاد صاحب کہیں سے تشریف لائے ، معلوم ہوا کہ انتظامات میں مصروف تھے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی تو سارے لڑکے بھی نہیں پہنچے اور بس بھی نہیں آئی ۔ پھر جو لڑکے آئے تو اپنے ساتھ محلے داروں اور رشتے داروں کو بھی گھسیٹ لائے یعنی ایک کی قیمت میں تین تین بندے ۔ بس میں پچاس بندوں کی گنجائش تھی مگر اس میں سوار ہوئے ساٹھ سے زائد ۔ بس تقریباً نو بجے ملتان سے روانہ ہوئی ۔
ہمارے ساتھ کیلے ، سیب اور مسمیوں کی کئی پیٹیاں تھیں ، چائے کے لیے دودھ کے ڈرم اور 16 کلو مرغی کے گوشت کی دیگ بھی تھی ۔ یعنی کھانے کا کھلا بندوبست تھا ۔ لیکن اس کے باوجود لڑکے گھروں سے اچھا خاصا ناشتہ بھی ٹھونس آئے تھے ۔ نتیجے کے طور پر تھوڑی ہی دیر بعد بس میں اعلانات شروع ہوگئے کہ مِسڈ کالز آرہی ہیں ۔ چنانچہ پونے گھنٹے بعد ہی بستی ملوک میں بس روکی گئی اور لڑکے “محفوظ مقامات” کی تلاش میں بکھر گئے ، یاد رہے کہ میں ان میں شامل نہیں تھا ، میں تو بس کی چھت پر تھا ۔ ارے ارے میں وہاں کال ریسیو نہیں کر رہا تھا ، بلکہ لڑکوں کی “سرگرمیاں” نوٹ کر رہا تھا ۔ کئی لڑکے تو سڑک پر پھیل گئے اور آتی جاتی بسوں کو چھیڑنے لگے ۔ اتفاق سے موٹر وے پٹرولنگ پولیس کی ایک گاڑی ادھر آنکلی اور اس نے ان بکھری ہوئی موجوں کو کنارے لگایا ۔ اسی قیام کے دوران بچوں میں پھل وغیرہ تقسیم کیے گئے ۔ نتیجتاً اگلی بریک بہاولپور کے ایک پٹرول پمپ پر لگی ۔
اس بار قیام کا مقصد گاڑی کے پنکچر شدہ ٹائر کی مرمت بھی تھا ۔ ادھر پٹرول پمپ کے بے چارے دو عدد بیت الخلاؤں پر قطاریں بنی ہوئی تھیں ۔ پھر جناب کوئی ایک ڈیڑھ بجے ہم بہاولپور سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ” لال سوہانرا نیشنل پارک ” پہنچے ۔ یہاں کئی اقسام کے جانور موجود ہیں اور وسیع جنگلات ہیں ۔ قریب ہی علاقہ غیر ہے ، یہاں ایک ہیڈ ورکس بھی ہے جس سے دو نہریں نکالی گئی ہیں ۔ یہ علاقہ فوجی نوعیت کے لحاظ سے بھی اہم ہے ، تقریباً ہر وقت فوجیوں کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آتی ہیں ۔ اس پارک میں کافی رش ہوتا ہے ، دور دور سے لوگ آتے ہیں ، اندر کچھ دکانیں وغیرہ بھی ہیں ۔ گھاس کے قطعات اور پھولوں، پودوں کی باڑوں کی صفائی ستھرائی بھی اچھی ہوتی ہے ۔ یہاں ہم کافی گھومے پھرے ، تصویریں کھینچی گئیں ۔ پھر مرغی اور بوتلوں سے انصاف کیا گیا اور پھر بیڈمنٹن فٹ بال کھیلا ۔ جس کے نتیجے میں تین چار دن تک میری ٹانگوں اور بازوؤں کے عضلات میں درد ہوتا رہا ، کبھی ورزش جو نہیں کی
یہاں سے چلنے کے بعد ہم پندرہ کلومیٹر کی دوری پر Whispering Hill پہنچے ۔ یہاں پر ایک مصنوعی ٹیلے پر تفریحی مقام بنایا گیا ہے اس لیے اسے ہِل کہتے ہیں ۔ اچھی جگہ ہے ، ریسٹ ہاؤس بھی ہے جہاں ہمیں گھسنے نہیں دیا گیا ۔ بس باہر باہر ہی پھرتے رہے ۔ جھیل بھی تھی اور کشتیاں بھی ۔ یہاں کرکٹ کھیلی گئی اور دوستوں کے ساتھ شرارتیں بھی کی گئیں ، ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں ہے
رات کو سات بجے واپسی ہوئی ۔ آمد و رفت کے وقت بس میں خوب ہلا گلا کیا ۔ لڑکوں نے بس میں ڈانس کیے اور میری “خوبصورت ، دلکش اور سریلی” آواز میں گانے سنے گئے ، بلکہ بار بار فرمائش کر کر کے مجھے بلایا گیا (بھانڈ؟) ۔ لطیفے وغیرہ بھی سنائے اور شرارتوں کی تو بات ہی نہ پوچھیے ، جہاں فدوی ہو وہاں سکون تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ واپسی پر بہاولپور میں پھر اسی پٹرول پمپ پر بس روکی گئی جہاں ہم پہلے اترے تھے ، فوراً ہی آمد ہوئی ۔ ۔ ۔
” لے آئی پھر کہاں سے ، قسمت ہمیں کہاں پر
یہ تو وہی جگہ ہے ، مُوترے تھے ہم جہاں پر “۔
8 responses so far ↓
بدتمیز // November 20, 2006 at 8:38 am
salam
do u kno jahanzaib’s fone number? i have one but its out of order seem like he changed his number do u have his current number ?
if u have plz mail me
thanks
قدیر احمد // November 20, 2006 at 11:08 am
بدتمیز: تم تو ہو ہی بدتمیز ، تمہیں کیا کہوں ، یہ بات ای میل میں بھی تو کہی جا سکتی تھی ، یہاں چہ معنی دارد؟
ویسے میرے پاس ان کا کوئی نمبر نہین ہے ۔ تم نے کرنا کیا ہے؟
بدتمیز // November 20, 2006 at 4:43 pm
یار میں نے کہا کہ کسی نے اس پر کمنٹس نہیں کیا تو کوئی تو کمنٹ ہو۔
محمد شاکر عزیز // November 21, 2006 at 3:49 am
اچھی تحریر ہے۔
مزہ آیا پڑھ کر اور معلومات میں بھی اضافہ ہوا۔
وسلام
GH // November 21, 2006 at 5:55 pm
This post and pics reminded me the time i spent in BWP. HAd been to Lsohanra but never been to whispering hill. Seems like a good place to visit. I can foresee a good urdu writer in you. Keep consulting your urdu teacher timet to time.
شارق // November 22, 2006 at 8:17 am
پھر اسی پٹرول پمپ پر بس روکی گئی جہاں ہم پہلے اترے تھے ، فوراً ہی آمد ہوئی ۔ ۔ ۔”"
شعر کی یا ۔ ۔۔ ؟؟؟
Qadeer Ahmad قدیر احمد // November 23, 2006 at 7:26 pm
شارق: آپ خود سمجھدار ہیں
Test // January 11, 2007 at 3:50 pm
Test
Test