Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from December 2006

مُلا نصیرالدین

December 28, 2006 · 4 Comments

مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
ان کے مزار کے لیے ایک دروازہ بنایا گیا اور بڑا سا تالا لگا کر اسے مضبوطی سے بند کر دیا گیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مزار کے چاروں طرف کی دیواریں غائب تھیں ، کیونکہ مُلا نے ایسا ہی چاہا تھا ۔ یہ ان کی زندگی کا آخری مذاق تھا ۔ 1907ء میں اس مزار کو دوبارہ تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے ۔

ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی ایک دنیا آباد کیے ہوئے تھے ۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت دنیا ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔ تُرک انہیں ”حوجا“ یعنی استاد کے نام سے پکارتے ۔ ان سے وابستہ چند دلچسپ واقعات درج ذیل ہیں ۔

* * * * * * *

ایک دن مُلا کو خیال آیا کہ ساری عمر گدھے کی سواری کی ہے کیوں نہ اب گدھے کو فروخت کر کے کوئی اچھی سی گھوڑی خریدی جائے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک گھوڑی کے مالک سے رابطہ کیا اور اس کی گھوڑی مول لینے کی بات کی ، گھوڑی کا مالک رضامند ہو گیا ۔ اب ملا نے سوچا کہ کثیر رقم خرچ کرنی ہے کیوں نے پہلے اس پر سواری کر کے تسلی کر لی جائے ۔ یوں وہ گھوڑی پر سوار ہو گئے ۔ اب گھوڑی نے جو برق رفتاری دکھائی تو ملا اسے سنبھال نہ سکے اور زمین پر آرہے ۔ لوگوں نے ملا سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آج تک گھوڑی پر سواری نہیں کی ۔ ملا نے جواب دیا ”اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔ میں تو آرام سے بیٹھا تھا ، یکایک کاٹھی سے آگے کھسک گیا ۔ پھر تھوڑی دور جا کر ایک شدید جھٹا لگا تو میں ذرا آگے گردن کے قریب چلا گیا ۔ لگام میرے ہاتھ میں تھی اور میں لمحہ بہ لمحہ آگے سِرکتا چلا جا رہا تھا ۔ رفتہ رفتہ میں گھوڑی کی گردن پر آگیا ۔ ابھی میں اپنے سرکنے کی وجہ پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میں نے محسوس کیا کہ گھوڑی کی لگام میرے ہاتھ میں ہے اور میں اس کےسر پر بیٹھا ہوں ۔ “
”اچھا پھر کیا ہوا“ ۔ لوگوں نے سوال کیا ۔
”ہونا کیا تھا ، اتنے میں گھوڑی ختم ہو گئی اور میں زمین پر آرہا“ ۔

* * * * * * *

مُلا نصیرالدین کا گدھا مر چکا تھا اور اس کے بغیر ان کی زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی تھی ۔ چنانچہ کئی مہینوں کی محنت و مشقت کے بعد کچھ رقم جمع کی اور ایک نیا گدھا خریدنے کی غرض سے بازار کا رخ کیا ۔ حسبِ منشا گدھا خریدا اور گھر کی راہ اس طرح لی کہ وہ گدھے کی رسی تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور گدھا ان کے پیچھے آرہا تھا ۔ راستے میں چند ٹھگ قسم کے لوگوں نے ملا کو گدھا لے جاتے ہوئے دیکھا تو وہ ان کے قریب ہو گئے ۔ ان میں سے ایک آدمی گدھے کے بالکل ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آہستہ سے گدھے کی گردن سے رسی نکال کر اپنی گردن میں ڈال دی اور گدھا اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیا ۔ جب ملا اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے اور مڑ کے پیچھے جو دیکھا تو چار ٹانگوں والے گدھے کی بجائے دو ٹانگوں والا گدھا نظر آیا ۔ یہ دیکھ کر ملا سخت حیران ہوئے اور کہنے لگے ”سبحان اللہ! میں نے تو گدھا خریدا تھا یہ انسان کیسے بن گیا؟“ ۔
یہ سن کر وہ ٹھگ بولا
”آقائے من! میں اپنی ماں کا ادب نہیں کرتا تھا اور ہر وقت ان کے درپے آزار رہتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بددعا دی کہ تو گدھا بن جائے ۔ چنانچہ میں انسان سے گدھا بن گیا تو میری ماں نے مجھے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا ۔ کئی سال سے میں گدھے کی زندگی بسر کر رہا تھا ۔ آج خوش قسمتی سے آپ نے مجھے خرید لیا اور آپ کی روحانیت کی برکت سے میں دوبارہ آدمی بن گیا۔“ یہ کہہ کر اس نے ملا کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور بہت عقیدت کا اظہار کیا ۔
ملا کو یہ بات بہت پسند آئی ۔ وفورِ مسرت میں نصیحت فرماتے ہوئے کہنے لگے ” اچھا اب جاؤ اور اپنی ماں کی خدمت کرو ۔ کبھی اس کے ساتھ گستاخی نہ کرنا “ ۔
ٹھگ ملا کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو گیا ۔ دوسرے دن ملا نے کسی سے کچھ رقم ادھا لی اور پھر گدھا خریدنے بازار میں پہنچ گئے ۔ ان کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ وہی گدھا ایک جگہ بندھا کھڑا ہے جو انہوں نے کل خریدا تھا ۔ چنانچہ وہ اس گدھے کے قریب گئے اور اس کے کان میں کہنے لگے ” لگتا ہے تم نے میری نصیحت پر عمل نہیں کیا اس لیے پھر گدھے بن گئے ہو “ ۔

بشکریہ: اردو ڈائجسٹ

Categories: Urdu Literature اردو ادب

قائداعظم کی سالگرہ

December 25, 2006 · 1 Comment

آج قائدِ اعظم کی ایک سو تیسویں سالگرہ ہے ۔ اس حوالے سے ایک دھواں دار قسم کی تحریر لکھنے کا سوچا تھا ۔ مگر صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے جن کی وجہ سے سورج کی روشنی دماغ تک رسائی حاصل نہیں کر سکی ۔ پھر بارش شروع ہو گئی اور ایک گھنٹے سے زائد تیز بارش ہوتی رہی ہے جن کی وجہ سے خِرد کے چراغ بجھ گئے ہیں ۔ اب بارش کے زور میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے ۔ دعا کیجیے کہ صبح تک مطلع صاف ہو جائے تو کچھ “خیالِ یار“ ذہن میں‌ آئے ۔ ویسے قائدِ اعظم کو یار کہنا سوئے ادب جملہ ہے مگر کیا کیجیے کہ ایسے انسان دوست قائد کو یار کہنے کو دل کرتا ہے ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

محفل

December 23, 2006 · 2 Comments

آج کل میں نے پھر سے محفل پر جانا شروع کر دیا ہے ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ جہاں میری آمد ہو وہاں امن برقرار نہیں رہتا ۔ درج ذیل دو روابط نمونے کے طور پر دیے جا رہے ہیں ۔

قبل از مرگ واپسی
قصہ پانچ قوالوں کا

Categories: Me بقلم خود

ملتان میں انٹرایکٹو تھیٹر میلہ

December 19, 2006 · Leave a Comment

Categories: Multan ملتان

سردی کا موسم

December 19, 2006 · 3 Comments

کہنے کو تو موسمِ سرما شروع ہو گیا ہے مگر لگتا ہے کہ اس بار مہنگائی کے مارے اس کی کمر بھی جھک گئی ہے ۔ ملتان میں ایسا موسم پہلے اکتوبر‘نومبر میں ہوا کرتا تھا ۔ ماہِ دسمبر اختتام پذیر ہے مگر سردی بس برائے نام ہی ہے ۔ خیر ہے تو سردی کا موسم ہی ، لہٰذا کچھ بات سردی کے متعلق ہو جائے ۔

سردیاں بہت خاموش سی ہوتی ہیں ، ہر طرف عجیب سی اداسی چھائی ہوتی ہے ۔ خاص طور پر دھند کی موجودگی میں تو دل کی عجب کیفیت ہوتی ہے ۔ لیکن مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا ہے ۔ میرے خیال میں ملتان میں رہنے والے 52ºC کی حرارت برداشت کرنے والے ہر شخص کو سردیوں کا موسم اچھا لگتا ہے ۔ تقریباً دو سال قبل سردی میں ملتان کا درجہ حرارت 2ºC تک گِر گیا تھا ۔ ویسے ملتان میں ریکارڈ سردی شاید 1963ء میں پڑی تھی جب درجہ حرارت 3ºC- تک گِرگیا تھا ۔

میں سردیوں میں گرم پانی سے نہیں نہاتا ۔ کیونکہ گرم پانی سے نہانے کے بعد زیادہ سردی لگتی ہے ۔ سردی تو ٹھنڈے پانی سے نہانے سے قبل بھی لگتی ہے اور جب فوارے کی پہلی بوچھاڑ پڑتی ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں ۔ مگر اس کے بعد اتنا مزہ آتا ہے کہ بس ۔ پھر تو دل چاہتا ہے کہ شاور کے نیچے ہی کھڑے رہو ۔ جو لوگ گرم پانی سے نہاتے ہیں ، یقین کیجیے کہ وہ ایک بہت خوشگوار تجربے سے محروم ہیں ۔

میرے گھر والے مجھے میری اوقات پر رکھتے ہیں ، یعنی میں اپنے اکثروبیشتر کام خود ہی کرتا ہوں ۔ ان مشکل کاموں میں سے ایک کام کپڑے اِستری کرنا ہے ۔ گرمیوں میں یہ کام کسی عذاب سے کم نہیں ہے ۔ مگر سردیوں میں تو مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔ چونکہ اوپر جرسی‘ کوٹ وغیرہ پہنا جاتا ہے اس لیے قمیص کو اوپر سے استری کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ، بس دامَن استری کیے اور اوپر سے صدری پہن لی ۔ اور شلوار کا صرف اتنا حصہ استری کرتا ہوں جتنا نظر آتا ہے (یعنی ہاف بوائل) ، اب کسی نے قمیص اٹھا کر تو دیکھنا نہیں ہے کہ بھائی یہ شلوار اوپر سے کیوں نہیں استری کی ۔علاوہ ازیں میں سردیوں میں جِینز کی پینٹ زیادہ پہنتا ہوں جسے استری نہیں کرنا پڑتا اور شرٹ ویسے ہی جرسی کے نیچے آجاتی ہے ۔ اسے کہتے ہیں ”پانچوں گھی میں ہونا“ ۔

سردیوں کے اتنے زیادہ فائدے ہیں کہ کیا بتاؤں ۔ چلیے ایک فائدہ دیکھیے ۔اگر مدرسے سے چھٹی کرنی ہو اور کوئی معقول بہانہ ہاتھ نہ آرہا ہو تو رات کو سیدھے غسل خانے میں جائیے ، دل لگا کر نہائیےاور پھر بائسیکل یا موٹر سائیکل اٹھا کر باہر جائیے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھائیے ۔ انشاءاللہ صبح آپ بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اگر آپ بدقسمتی سے لڑکی ہیں اور سائیکل وغیرہ نہیں چلا سکتیں تو اس کے لیے بھی نسخہ موجود ہے ۔ آپ نے یقیناً کبھی گھر کے کاموں کو ہاتھ نہیں لگایا ہوگا مگر اب موقع آگیا ہے سگھڑ بننے کا ۔ ایک عدد ربڑ کا طویل پائپ لیجیے اور اسے پانی کی ٹونٹی میں لگا دیجیے ۔ پھر جھاڑو اٹھا کر صحن دھونا شروع کر دیجیے ۔ اماں جان اگر منع کریں تو جواباً ایک طویل جذباتی تقریر کیجیے جس کا مرکزی خیال یہ ہو کہ اب آپ کو والدہ محترمہ کی عمر اور صحت کا خیال آ گیا ہے اور آپ کا ضمیر انگڑائی لے کر بیدار ہو گیا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔ انشاءاللہ آپ بھی صبح تک تین کا ہندسہ بن جائیں گی اور ایک ہفتے تک مدرسے کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں سے بھی قانونی طور پر چُھٹی مل جائے گی ۔

ENGLISH VERSION by me:~

Finally the winter season is here, but it seems like it’s also faint due to the burden of high prices of goods. The end of December is approaching but cold is like the months of October/November of early years. Well, as this is “called” the winter season therefore I am talking about winter.

In winter, there is calm and sorrow everywhere. Especially in fog, silence gives a strange feeling. I think every Multani likes cold because he has to suffer a long duration of summer season when the temperature of Multan raises up to 52ºC. Almost two years ago the minimum recorded temperature of Multan in winter was 2ºC. Perhaps in the winter of 1963 A.D the temperature of Multan fell to approximately -3ºC. This seems like much controversial as comapred to current situation.

I don’t use hot water for bathing in winter because it gives cold feeling after flowing out. When the fist wave of shower falls on the body, I feel very cold. But the succeeding sprinkles of water give a lot of joy and then I spend so much time under the water. The people, who take bath with hot water, are unaware of a very refreshing experience.

There is a long list of services which I have to do for me. One of them is pressing cloths. In summer, it’s not less than a punishment, but in winter it’s nothing. Because jersey/coat is worn over the Qamees, therefore I don’t need to press its upper part, I just press its lower part which takes only a few seconds. Same is the case with Shalwar, I press only those parts of Shalwar which are visible to people. I call it “the half boil pressing”.

There are lots of benefits a man gets from the winter season but I will describe here only one.
If you don’t want to go to school/college/university but your parents urge you to go, you can easily get leave. If you are a boy then take a bath, take your bike and go out without any jersey to walk about in cold air. Hopefully you will get a strong fever till morning. If, unluckily you are a girl, there is an idea for you too. Most probably you would have never helped your mother in home works, yet this is the time to do a little. Pick up a rubber pipe, attach it to the water tap and start washing your courtyard. If your mother stops you doing that, make a long speech comprising the idea, “Now I’ve got enough wisdom to think about helping you in household jobs”. Hopefully you will become the figure of “S” till morning and will take a leave of one week “legally”.

ENGLISH VERSION by Iftikhar Ajmal Bhopal:~

To say it is winter but it looks like that this year it, also, has been burdened by inflation and lost its strength. Such a season used to be in October-November. Now it is later half of December but it is faintly cold. Any way, it is known as winter season so let us talk about winter.

Winter is a quiet season. A strange calm prevails all over. Specially, fog has a strange effect on one’s feelings. But it all looks pleasant to me. In my view, residents of Multan, who brave up to 52ºC in summer, do like winter. About two years back, mercury in Multan fell down to 2ºC. Record cold season in Multan was, perhaps, in 1963 AD when the temperature fell to -3ºC.

I am not used to take warm water bath because one feels chill after the bath. No doubt one shivers before a cold water bath in winter and first volley of shower comes like lightening. With continued shower, however, one feels better later and starts enjoying the bath, and I take a prolonged shower. Believe me, those who take warm water bath, are ignorant of the joy of cold water bath.

My family keeps me within my means, that is, generally I do all my work myself. One of such difficulties is ironing my clothes, which is a curse during summer, but in winter it is no problem. In winter, I iron only the lower part of the shirt and not the upper portion which gets covered by jersey/jacket worn over the shirt. So it becomes a few seconds’ job. Similar is the case of Shalwar because the upper portion of it is covered by the Qamees. Should it be called half-baked? Further, I, generally wear Jeans trousers in winter which doesn’t require ironing. These are the benefits of winter.

That reminds me of another benefit. If you are looking for a holiday from school and you have no valid reason, go take a bath and then go out for roaming on a bicycle or motorcycle. After having enough play with the cold wind, next morning you will not be able to lift your head from the bed. If by dint of luck you are a girl and do not know how to bicycle, there is a prescription for you also. You may have not been doing the household. Now you can prove your worth. Take a long hose pipe push it on to the water tap then take a broom and start washing the courtyard. If your mother tries to stop you, you deliver an emotional speech the theme of which should be that you care for health and abundance of that your mother has to do in such an age. Sure, you will be lying like S in your bed next morning which will get rid of school attendance and hold for about one week.

Categories: Multan ملتان · Season