Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from January 2007

بسنت ، موت کا کھیل

January 30, 2007 · 8 Comments

کل میری آنکھوں کے سامنے ایک لڑکا بسنت کا شکار ہونے سے سے بال بال بچا ۔ وہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے سے پتنگ کی ڈور ٹکرائی ۔ لڑکا محتاط تھا ، اس نے فوراً موٹر سائیکل کو بریک لگائی اور ڈور کو ہاتھ سے پکڑ لیا ۔ اگر وہ چند لمحوں کی دیر کر دیتا تو ۔۔۔۔۔۔۔

چونکہ میں بھی اس وقت موٹر سائیکل پر تھا ، اس لیے میں بھی کافی خائف ہو گیا :) اگرچہ میں نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے مگر وہ گلے کو نہیں چھپا سکتا ، جیکٹ کے کالر کھڑے کرنے سے اور ہائی نیک سویٹر پہننے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے ۔

اللہ ان پتنگیں اڑانے والوں کو ہدایت دے اور ہمیں تمام آفات سے محفوظ رکھے ، آمین ۔

Categories: Miscellaneous متفرق

بلاگ کی دوسری سالگرہ

January 26, 2007 · 13 Comments

23 جنوری کو میرے بلاگ کی دوسری سالگرہ تھی ۔ میں نے 23 جنوری 2005 کو اپنے اردو بلاگ پر پہلی تحریر لکھی تھی ۔ بلاگنگ شروع کرتے وقت مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ میرے بلاگ کو اتنا زیادہ دیکھا جائے گا ۔

ان دو سالوں میں اس اردو بلاگ پر تقریباً بیس ہزار unique visits ہوئے ہیں ، ماشاءاللہ ۔

وَ تُعِزُّ مَن تَشَا وَ تُزِلُّ مَن تَشَا

Categories: Blogging بلاگنگ

انہونی

January 25, 2007 · 8 Comments

یہ کیا چکر ہے ، میرے پاس بلاگ سپاٹ کھل رہا ہے

لگتا ہے اب وہ لوگ کوئی پکا بندوبست کر رہے ہیں

Categories: Blogging بلاگنگ

منگلا کی یادیں ۔ قسط1

January 24, 2007 · 8 Comments

میں 1993ء میں فیڈرل گورنمنٹ مڈل ماڈل سکول منگلا میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا ، اس وقت میں سات سال کا تھا ۔ ایک روز تفریح کے وقت جب ساری جماعت باہر کھیل رہی تھی ، میں کمرہِ جماعت میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا (اسی لیے اس وقت میری صحت قابلِ رشک تھی) ۔ میرے علاوہ کمرے میں تین لڑکیاں محوِ گفتگو تھیں ۔

ایک لڑکی نے دوسری دونوں سے کہا ، میں نے تمہیں ایک شرم والی بات بتانی ہے لیکن یہ لڑکا یہاں بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک لڑکی بولی ، جو بھی کہنا ہے کہہ دو ، یہ لڑکا بہت اچھا ہے ، اسے اپنا بندہ ہی سمجھو ۔ پہلی لڑکی کو اطمینان ہو گیا تو بولی ، “تمہیں پتا ہے کل مجھے بخار ہو گیا تھا تو میں سی ایم ایچ گئی ۔ وہاں ڈاکٹر نے مجھے “تشریف” پر ٹیکہ لگایا ، مجھے بہت شرم آئی ۔”

میں نے کہا لو یہ کون سی بات ہے ، ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوتا رہتا ہے ، بلکہ سارے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لڑکیوں نے مجھ سے اتفاق کیا ۔

میں نے اس مدرسے میں دو سال اور آٹھ ماہ تک تعلیم حاصل کی ۔ اگرچہ میں اس وقت بہت کم عمر تھا لیکن منگلا میں گزارے ہوئے وہ شب روز مجھے آج بھی یاد ہیں ۔ وہ بہت خوب صورت جگہ تھی ۔ پہلے ہم ٹھِل کالونی میں رہتے تھے ، وہاں ہمارے گھر کے قریب ہی سکول تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز بہت تیز بارش میں ہم سکول پہنچے تو معلوم ہوا کہ کسی نے کہیں کوئی بابری مسجد گرا دی ہے اس لیے آج چھٹی ہے ۔ مسجد کے گرنے پر تھوڑا سا افسوس کرنے کے بعد ہم چھٹی ملنے پر بہت خوش ہوئے ۔

ٹھل کے ساتھ ہی لالہ زار کالونی تھی وہ بھی اچھی جگہ تھی ۔ پورے منگلا میں اونچی نیچی پہاڑیاں اور جا بجا سبزہ تھا ۔ رات کو ہم باہر گھومتے پھرتے ، جگنو پکڑتے ، وہاں جگنو بہت ہوتے تھے ۔ کچھ عرصے بعد ہم ٹھل سے اٹھ کر گلبرگ میں آ گئے ۔ یہ بھی اچھی جگہ تھی ۔ مکانات کے تین چار بلاک بنے ہوئے تھے ، گلیاں بہت چوڑی تھیں ۔ یہاں سے سکول کافی دور ہو جاتا تھا ۔ کبھی ہم گاڑی پر جاتے ، کبھی پیدل ہی سکول کی طرف روانہ ہو جاتے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار گرمیوں میں سکول سے واپس آتے ہوئے جب میں پہاڑی پر چڑھ رہا تھا تو اچانک میرے اوپر سایہ ہو گیا ۔ میں نے اوپر نگاہ کی تو میرے سر سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک بہت بڑا پرندہ نظر آیا جس کا ایک بازو میرے پورے قد کے برابر تھا ۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سا پرندہ تھا ، کیونکہ اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی میں نے دوڑ لگا دی تھی اور گھر پہنچ کر ہی دم لیا تھا ۔

ہمارے گھر سے دو تین سو گز کے فاصلے پر اوپر پہاڑی تھی جہاں ہماری یونٹ تھی ۔ سکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر اور ہوم ورک کر کے میں یونٹ میں نکل جاتا تھا ، کیونکہ وہاں میری بہت آؤ بھگت ہوتی تھی ، کوئی نہ کوئی انکل مجھے ٹافیاں ، بسکٹ وغیرہ لے دیتے تھے ۔ میں کبھی کوت خانے میں گھس کر اسلحے کا معائنہ کرتا ، کبھی سٹور میں جا کر کھانے کی چیزیں اڑاتا ۔ سات آٹھ سو بندوں کی یونٹ میں تقریباً ہر بندہ مجھے جانتا تھا ۔

شاید وہ میری اب تک کی زندگی کے حسین ترین دن تھے ۔ آفیسرز میس میں سب سے زیادہ مزہ آتا تھا کیونکہ وہاں کھانا بہت مزیدار ہوتا تھا ۔ سب لوگ کھانے کے بعد سٹنگ روم میں بیٹھ کر گپیں لگاتے اور میں بدستور کھانے میں مصروف ہوتا ، میں پیٹو نہیں بلکہ خوش خوراک بچہ تھا ۔

سکول جاتے ہوئے راستے میں ایم آئی روم آتا تھا ۔ وہاں پھلوں کے کئی درخت تھے ۔ اس کی بیرونی دیوار تقریباً چار پانچ فٹ اونچی تھی ، دیوار کے ساتھ ہی امرود کے درخت تھے ۔ اکثر سکول سے واپسی پر ہم بچے اپنے بستے دیوار کے ساتھ لگا دیتے اور ان پر پاؤں رکھ کر اندر کود جاتے ۔ ایک بچہ باہر بستوں کی نگرانی کرتا اور ایک اندر پوزیشن سنبھالتا تاکہ کسی کی آمد کی اطلاع دی جاسکے ۔ ادھر ہم درختوں پر چڑھ جاتے اور دھڑا دھڑ امرود اتارتے جاتے ۔ جونہی کسی شخص کی آمد کی اطلاع ملتی ، برق رفتاری سے دیوار پار کرتے اور بستے اٹھا کر گھروں کو دوڑ لگادیتے ۔

Categories: Mangla منگلا

بدتمیز کو سال گرہ مبارک

January 20, 2007 · 6 Comments

Happy Birthday to Badtameez

Categories: Friends احباب