عیدالاضحٰی سیدنا اسمٰعیل (علیہ السلام) کی اس بے مثال قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے جو انہوں نے اللہ کی رضا اور اپنے والد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے حکم کے لیے پیش کی ۔ اللہ کو ان کی فرماں برداری پسند آئی اور ان کی بجائے ایک مینڈھا ذبح کیا گیا ۔
چند برس قبل تک عیدالاضحٰی کو ”بقرۃ عید“ کہا جاتا تھا ، بقرۃ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”گائے“ ۔ قیاس ہے کہ یہ لفظ ہندوؤں کی طبیعت کو گُدگُدانے اور مسلمانوں کی حمیت کو جگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ لیکن جب سے جنرل پرویز مشرف صاحب آئے ہیں ، الفاظ اور ان کے مطالب ہی بدل کر رہ گئے ہیں (شاید اس کی ایک وجہ نئی خارجہ پالیسی ہے) ۔ چنانچہ اب ”بقرۃ عید“ کو ”بکرا عید“ کہا جاتا ہے اور ”عیدالاضحٰی“ یا ”عیدالضحٰی“ کے لفظ تقریباً متروک ہو گئے ہیں ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مسلمان قربانی کے اصل مقصد سے بے خبر ہو گئے ہیں ۔ انسانوں کی قربانی ”قومی مشغلہ“ اور جانوروں کی قربانی ”فیشن“ بن گئی ہیں ۔ اب تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ کِس کا جانور کتنا بڑا اور خوبصورت ہے اور کس نے کتنے جانور قربان کیے ہیں ۔ اطاعت ، فرماں برداری اور ایثار کا جو درس حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہم السلام) نے دیا تھا ، وہ کہیں نظر نہیں آتا ۔ اسلام میں جانور کی قربانی کا مقصد غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا ہے ، مگر ہم گوشت اور اخلاقی اقدار کو ”ڈیپ فریزر“ کی گہرائی میں دبا دیتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ اگر اُس وقت حضرت اسمٰیل (علیہ السلام) قربان ہو جاتے تو پھر جانوروں کی بجائے انسان ہی قربان کیے جاتے ۔ دیکھا جائے تو اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ‘ مجازی معنوں میں ، بلکہ بعض اوقات حقیقی معنوں میں بندہ قربان ہو جاتا ہے ۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں سن کر خریدار اپنے ”اعضائے رئیسہ“ تھام لیتے ہیں ۔ فکرِ معاش کے گھن چکر میں پِسنے والے افراد اپنے جِگر ، سر اور دِل تھامنے کے علاوہ کبھی کبھی بیوپاری کا گلا بھی مضبوطی سے تھام لیتے ہیں ۔
جانور خریدنے جب منڈی میں داخل ہوں تو جانوروں کی بساند سے بھرپور فضا آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ زمین پر موجود ”جانوروں کی گُلکاری“ سے بچانے کے لیے آپ اپنے پہونچے اوپر کر لیتے ہیں جو کہ نماز کی حالت میں عموماً ٹخنوں سے نیچے ہی رہا کرتے ہیں ۔ ”منڈی مویشیاں“ ان چند مقامات میں شمار ہوتی ہے جہاں پر ”محمود و ایاز“ ایک ہی صف میں کھڑے دُہائی دیتے ہیں اور اپنے کپڑوں کی بدحالی کا ماتم کرتے ہیں ۔ جانوروں کی قیمتیں سن کر جو ماتم کیا جاتا ہے اُس میں بھی شیعہ سُنی کی تخصیص نہیں ہوتی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس رقم میں آپ گائے خریدنے آئے تھے اس سے محض ایک مریل سا بکرا خریدا جا سکتا ہے ، اور جس رقم میں بکرا آنا چاہیے تھا ، اس سے آپ دو تین مرغیاں بہ سہولت خرید سکتے ہیں ۔
کسی نہ کسی طرح جانور خرید ہی لیا جائے تو اس کو ذبح کرنے کے لیے قصاب کی تلاش گرانیِ سر اور پھر اس کی مزدوری اس سے زیادہ دردِ سر کا باعث بنتی ہے ۔ میری طرح جو افراد بذاتِ خود جانور ذبح کرلیتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں ، ورنہ دوسرے افراد کی حالت قابلِ دید ہوتی ہے ۔ عید کے پہلے روز جانور قربان کرنے کی ”فِیس“ تین تین ہزار روپے تک وصول کی جاتی ہے ۔ رقم وصول کرنے کے علاوہ قصائی گوشت کا ایک بڑا حصہ (عموماً ران) ساتھ لے جاتا ہے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر دو تین دوستوں کو ساتھ مِلا کر ”دِہاڑی“ لگائی جائے تو عید کے تین دِنوں میں اچھی خاصی رقم ہاتھ آسکتی ہے ۔
0 responses so far ↓
There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.