Urdu Blog اردو بلاگ

منگلا کی یادیں ۔ قسط1

January 24, 2007 · 8 Comments

میں 1993ء میں فیڈرل گورنمنٹ مڈل ماڈل سکول منگلا میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا ، اس وقت میں سات سال کا تھا ۔ ایک روز تفریح کے وقت جب ساری جماعت باہر کھیل رہی تھی ، میں کمرہِ جماعت میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا (اسی لیے اس وقت میری صحت قابلِ رشک تھی) ۔ میرے علاوہ کمرے میں تین لڑکیاں محوِ گفتگو تھیں ۔

ایک لڑکی نے دوسری دونوں سے کہا ، میں نے تمہیں ایک شرم والی بات بتانی ہے لیکن یہ لڑکا یہاں بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک لڑکی بولی ، جو بھی کہنا ہے کہہ دو ، یہ لڑکا بہت اچھا ہے ، اسے اپنا بندہ ہی سمجھو ۔ پہلی لڑکی کو اطمینان ہو گیا تو بولی ، “تمہیں پتا ہے کل مجھے بخار ہو گیا تھا تو میں سی ایم ایچ گئی ۔ وہاں ڈاکٹر نے مجھے “تشریف” پر ٹیکہ لگایا ، مجھے بہت شرم آئی ۔”

میں نے کہا لو یہ کون سی بات ہے ، ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوتا رہتا ہے ، بلکہ سارے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لڑکیوں نے مجھ سے اتفاق کیا ۔

میں نے اس مدرسے میں دو سال اور آٹھ ماہ تک تعلیم حاصل کی ۔ اگرچہ میں اس وقت بہت کم عمر تھا لیکن منگلا میں گزارے ہوئے وہ شب روز مجھے آج بھی یاد ہیں ۔ وہ بہت خوب صورت جگہ تھی ۔ پہلے ہم ٹھِل کالونی میں رہتے تھے ، وہاں ہمارے گھر کے قریب ہی سکول تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز بہت تیز بارش میں ہم سکول پہنچے تو معلوم ہوا کہ کسی نے کہیں کوئی بابری مسجد گرا دی ہے اس لیے آج چھٹی ہے ۔ مسجد کے گرنے پر تھوڑا سا افسوس کرنے کے بعد ہم چھٹی ملنے پر بہت خوش ہوئے ۔

ٹھل کے ساتھ ہی لالہ زار کالونی تھی وہ بھی اچھی جگہ تھی ۔ پورے منگلا میں اونچی نیچی پہاڑیاں اور جا بجا سبزہ تھا ۔ رات کو ہم باہر گھومتے پھرتے ، جگنو پکڑتے ، وہاں جگنو بہت ہوتے تھے ۔ کچھ عرصے بعد ہم ٹھل سے اٹھ کر گلبرگ میں آ گئے ۔ یہ بھی اچھی جگہ تھی ۔ مکانات کے تین چار بلاک بنے ہوئے تھے ، گلیاں بہت چوڑی تھیں ۔ یہاں سے سکول کافی دور ہو جاتا تھا ۔ کبھی ہم گاڑی پر جاتے ، کبھی پیدل ہی سکول کی طرف روانہ ہو جاتے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار گرمیوں میں سکول سے واپس آتے ہوئے جب میں پہاڑی پر چڑھ رہا تھا تو اچانک میرے اوپر سایہ ہو گیا ۔ میں نے اوپر نگاہ کی تو میرے سر سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک بہت بڑا پرندہ نظر آیا جس کا ایک بازو میرے پورے قد کے برابر تھا ۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سا پرندہ تھا ، کیونکہ اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی میں نے دوڑ لگا دی تھی اور گھر پہنچ کر ہی دم لیا تھا ۔

ہمارے گھر سے دو تین سو گز کے فاصلے پر اوپر پہاڑی تھی جہاں ہماری یونٹ تھی ۔ سکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر اور ہوم ورک کر کے میں یونٹ میں نکل جاتا تھا ، کیونکہ وہاں میری بہت آؤ بھگت ہوتی تھی ، کوئی نہ کوئی انکل مجھے ٹافیاں ، بسکٹ وغیرہ لے دیتے تھے ۔ میں کبھی کوت خانے میں گھس کر اسلحے کا معائنہ کرتا ، کبھی سٹور میں جا کر کھانے کی چیزیں اڑاتا ۔ سات آٹھ سو بندوں کی یونٹ میں تقریباً ہر بندہ مجھے جانتا تھا ۔

شاید وہ میری اب تک کی زندگی کے حسین ترین دن تھے ۔ آفیسرز میس میں سب سے زیادہ مزہ آتا تھا کیونکہ وہاں کھانا بہت مزیدار ہوتا تھا ۔ سب لوگ کھانے کے بعد سٹنگ روم میں بیٹھ کر گپیں لگاتے اور میں بدستور کھانے میں مصروف ہوتا ، میں پیٹو نہیں بلکہ خوش خوراک بچہ تھا ۔

سکول جاتے ہوئے راستے میں ایم آئی روم آتا تھا ۔ وہاں پھلوں کے کئی درخت تھے ۔ اس کی بیرونی دیوار تقریباً چار پانچ فٹ اونچی تھی ، دیوار کے ساتھ ہی امرود کے درخت تھے ۔ اکثر سکول سے واپسی پر ہم بچے اپنے بستے دیوار کے ساتھ لگا دیتے اور ان پر پاؤں رکھ کر اندر کود جاتے ۔ ایک بچہ باہر بستوں کی نگرانی کرتا اور ایک اندر پوزیشن سنبھالتا تاکہ کسی کی آمد کی اطلاع دی جاسکے ۔ ادھر ہم درختوں پر چڑھ جاتے اور دھڑا دھڑ امرود اتارتے جاتے ۔ جونہی کسی شخص کی آمد کی اطلاع ملتی ، برق رفتاری سے دیوار پار کرتے اور بستے اٹھا کر گھروں کو دوڑ لگادیتے ۔

Categories: Mangla منگلا

8 responses so far ↓

  • بدتمیز // January 24, 2007 at 7:38 am

    ہاہاہا
    شروع سے چور اچکے ہو امرودوں کے بعد سے اب تک کیا کیا چراتے رہے ہو اور کتنی دفعہ مار کھائی ہے؟
    اسی لئے چور کو کچھ دے کر عیش کرنے والا بیان دیا تھا

  • Qadeer Ahmad قدیر احمد // January 24, 2007 at 7:49 am

    اوئے چور کہہ کر میری توہین مت کرو ۔ چور چھپ کر وار کرتا ہے ، ہم چھین لیتے ہیں
    :P

  • میرا پاکستان // January 24, 2007 at 2:02 pm

    قدیر صاحب نے ٹھیک کہا یہ چور نہیں ہیں بلکہ چھین لیتے ہیں۔ لیکن ہم نے تو سن رکھا ہے جو چھین لیتا ہے وہ چوروں کا سردار ہوتا ہے۔

  • Qadeer Ahmad Rana // January 24, 2007 at 5:12 pm

    میرا پاکستان: آپ کے ساتھ تو میں نے “ابھی تک” کچھ نہیں کیا ۔ پھر آپ نے کیسے تصدیق کردی ۔
    :P

  • شعیب صفدر // January 24, 2007 at 7:12 pm

    افضل صاحب نے تو آپ کو ڈاکو کہہ دیا!!! :(
    خیر جنہوں نے آپ کو اپنا بندہ سمجھ کر راز کی بتائی وہ آپ نے یہاں بیان کر دی!!!

  • بدتمیز // January 25, 2007 at 7:06 am

    در اصل قدیر کو اب جا کر احساس ہوا کہ اپنا بندہ کہنا صرف ایسے ہی تھا بچوں والا اب بڑے ہو کر معنی بدل گئے ہین اور چونکہ ان کی دال نہیں گلی لہذا انہوں نے راز بیان کر دیا ہے۔

  • Iftikhar Ajmal Bhopal // January 25, 2007 at 7:48 am

    باقی باتيں مان ليتے ہيں بس ايم آئی روم کی چارديواری کی موٹائی کم کر ديجئے ۔ آپ دراصل اس وقت خود تين فٹ کے ہونگے اسلئے چار پانچ فٹ لگی ۔

  • Qadeer Ahmad Rana // January 25, 2007 at 8:16 am

    شعیب صفدر:)

    بدتمیز: تمہیں میں کیا کہوں ، آج کل تو تم بھی برا منانے لگے ہو ۔ برامنانے کی تعریف بعد میں بیان کروں گا :ُP

    افتخار اجمل: جناب موٹائی نہیں اونچائی کی بات کی تھی :) اور اس کی اونچائی اتنی ہی تھی جتنی میں نے بیان کی ہے

Leave a Comment