کل میری آنکھوں کے سامنے ایک لڑکا بسنت کا شکار ہونے سے سے بال بال بچا ۔ وہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے سے پتنگ کی ڈور ٹکرائی ۔ لڑکا محتاط تھا ، اس نے فوراً موٹر سائیکل کو بریک لگائی اور ڈور کو ہاتھ سے پکڑ لیا ۔ اگر وہ چند لمحوں کی دیر کر دیتا تو ۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ میں بھی اس وقت موٹر سائیکل پر تھا ، اس لیے میں بھی کافی خائف ہو گیا
اگرچہ میں نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے مگر وہ گلے کو نہیں چھپا سکتا ، جیکٹ کے کالر کھڑے کرنے سے اور ہائی نیک سویٹر پہننے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے ۔
اللہ ان پتنگیں اڑانے والوں کو ہدایت دے اور ہمیں تمام آفات سے محفوظ رکھے ، آمین ۔
8 responses so far ↓
اجمل // January 30, 2007 at 4:10 am
اللہ خيريت رکھے اور ہمارے ان بيوقوف بھائيوں کو اور حکمرانوں کو عقلِ سليم عطا کرے ۔
بدتمیز // January 30, 2007 at 5:41 am
سلام
جیکٹ کے کالر، ہائی نیک۔ ہیرو بننے کی کوشش مت کرو۔
میرے ابا جان بھی میری بات نہیں مان رہے تھے۔ بہت کہا کہ موٹا مفلر گلے کی زینت بنائیے کہ سردی اتنی نہیں لیکن ڈوریں بہت ہیں۔ ایک دن صبح جب تھوڑی سی ڈور گلے پر پھری لیکن بچ بچا ہو گیا تو انہوں نے میری بات پر عمل شروع کیا۔
یقین کرو جیکٹ کے کالر تو کسی کام آنے نہں کہ اس سے پہلے ڈور گلے میں ہو گی۔ ہائی نیک کیا کھال سے زیادہ مظبوط ہے؟ ویسے بھی جب ڈور ہیلمٹ سے پھسلے گی تو ہائی نیک کے اوپر سے کھال کو چیرے گی۔ آگے تمہاری مرضی۔
umair // January 30, 2007 at 6:43 pm
BASANT is a ridiculous thing
Shari // January 30, 2007 at 7:12 pm
You are 100% right. I am in favor of baning Basant for ever
Shoiab Safdar // January 31, 2007 at 6:52 am
چلو شکر ہے وہ بچ گیا!!!
خدا ہر ایک کو سمجھ دیں!!! پتیگ بازی کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ یہ فضول کام ہے!! کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا اس سے!!! وقت اور پیسے کی بربادی!!! اور اب تو یہ جان کی دشمن بھی نظر آ رہی ہے!!! کسی دور میں صرف وہ افراد جو پتنگ اُڑاتے تھے وہ یا جو اسے لوٹتے تھے جو زخمی ہوتے تھے مگر اب تو وہ بھی جس کا اس کھیل سے کوئی واسطہ ہی نہیں!!!!
محمد شاکر عزیز // January 31, 2007 at 6:41 pm
موٹر سائیکل والوں نے اب نیا طریقہ نکال لیا ہے۔ ایک عدد تار ذرا موڈ قسم کی آگے ہینڈل سے اور پیچھے کیریئر سے باندھ لیتے ہیں۔ اس طرح چھتری سی بن جاتی ہے تار کی اور ڈور سے بچاؤ ہوجاتا ہے۔
شارق // January 31, 2007 at 7:22 pm
قدیر تم ان دنوں گھر سے کم باہر نکلا کرو اور گردن پر کچھ پٹہ وغیرہ باندھے رہا کرو ۔ ۔۔ تمہیں کچھ ہوگیا تو ہم بلاگ پوسٹوں کو بہت مِس کریں گے۔
Noumaan // February 1, 2007 at 8:52 am
پتنگیں اڑانے یا بسنت منانے میں خرابی نہیں۔ خرابی ہے قانون کے نفاذ میں ۔ اگر پتنگ اور ڈور سازوں کے سامان کو سختی سے ریگولیٹ کیا جائے تو قیمتی جانوں کے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ اتنے سارے فارن ؎ٹورسٹ آتے ہیں اگر وہ دیکھیں گے کہ حکومت پاکستان عوام کی جان کو مقدم رکھتی ہے تو ان کی نظر میں ہمارا اچھا تاثر بنے گا بجائے اس کے کہ انہیں یہ دکھایا جائے کہ ہم لوگوں کو آزادی سے پتنگ بھی نہیں اڑانے دیتے۔