










یوں تو دنیا میں کروڑوں بدتمیز ہیں ، مگر ممدوح ان سب سے زیادہ بدتمیز ہے ۔ دنیا میں اس کا صرف ایک کام ہے ، وہ یہ کہ جب آپ کے پاس لکھنے کو کچھ نہ ہو تو اس بدتمیز کے متعلق لکھ دیجیے ۔
بدتمیز کے والدین نے اس کا جو نام رکھا تھا ، وہ اسے پسند نہیں آیا ، اس لیے اس نے اپنے تمام کاغذات میں اپنا نام “بدتمیز” لکھوا دیا ۔ والدین نے اس کا جو نام رکھا تھا ، وہ “ع” سے شروع ہوتا تھا ۔ اب تو شاید اس کو خود بھی یاد نہ ہو کہ اس کا اصل نام کیا ہے ۔
بدتمیز سے میری شناسائی تو دو سال پرانی ہے ، مگر اس سے دوستی کی حد تک بے تکلفی کافی بعد میں پیدا ہوئی ۔ ویسے تو وہ اپنی بدتمیزیوں کے معاملے میں خاصا بے تکلف ہے ، مگر مجھ پر اس کی نظرِ خاص ہے ۔ واضح رہے کہ مجھ سے راہ و رسم بڑھانے میں اس نے پہل کی ، اس کے پسِ پردہ اس کا مقصد یہ تھا کہ میری بچی کھچی عزت کو بھی خاک میں ملایا جائے اور دنیائے بلاگنگ میں میں بھی بدتمیز کہلاؤں ۔ الحمدللہ ابھی تک اس کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ، مگر جس رفتار سے اس کی بدتمیزیاں اور میری جوابی کاروائیاں جاری ہیں ، لگتا ہے کہ جلد ہی میرا نام بھی بدل جائے گا ۔
بدتمیز کی حالیہ بدتمیزی اس وقت سنگین ہو گئی جب محفل کے ایک ناظم نے ہماری پرائیویٹ گفتگو میں دخل اندازی شروع کردی ۔ ہوا کچھ یوں کہ بدتمیز نے بدتمیزی شروع کی تو میں نے جوابی کاروائی شروع کر دی ۔ میرے ایک سادہ سے مذاق پر محفل کے ایک ناظم چیں بہ جبیں ہونے لگے اور مجھے بھی بدتمیز کا ہم پَلہ قرار دے دیا گیا ۔ یہ تو خیر ہوئی کہ بدتمیز نے مجھے برابری کا رتبہ دینے سے گریز کیا ، ورنہ میں بھی بدتمیز کہلاتا ۔
بدتمیز کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف میرے لیے بدتمیز بنتا ہے ۔ اس کے بلاگ پر آپ کو بدتمیزی قطعاً نظر نہیں آئے گی ۔ مگر جہاں میں گیا وہ پیچھے پیچھے آیا اور بدتمیزی شروع کر دی ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ میں کسی کام میں پیچھے نہیں رہتا ، چنانچہ اس کا “مکو ٹھپنے” کے لیے مجھے بھی کچھ بدتمیزی دکھانی پڑتی ہے ، اور یوں بدتمیز اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
اگر بدتمیز بدستور بدتمیز ہی رہا تو آپ کو میرے بلاگ پر بدستور بدتمیزیاں یعنی بدتمیز کے متعلق تحریریں نظر آتی رہیں گی ۔
Categories: Friends احباب
آج صبح میری ایک اور بھانجی پیدا ہوئی ہے
Categories: Miscellaneous متفرق
یوتھ کنونشن2006ء میں جنرل پرویز مشرف صاحب کی دُھلائی ہو گئی ۔ سخہ کوٹ اور جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے تعلق رکھنے والے ”سید عدنان کاکاخیل“ نے مشرف صاحب کی اچھی خاصی ”ٹیوننگ“ کر دی ۔ البتہ مشرف صاحب کا یہ فعل مستحسن ہے کہ انہوں نے خاموشی سے سچ برداشت کر لیا ۔
Categories: Politics سیاست
اگرچہ مغرب کی نقالی کا فریضہ ہم پہلے ہی انجام دے رہے تھے ، مگر جنرل پرویز مشرف کی آمد کے بعد اس میں شِدت آگئی ۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہم دو لفظ اردو کے بولتے ہیں تو چھ الفاظ انگلش کے درمیان میں لگا دیتے ہیں ۔ حالانکہ ہماری اپنی زبان اردو میں ایک سے ایک خوبصورت لفظ موجود ہے جو انگریزی الفاظ سے کہیں بہتر ہے ۔ ہماری قوم کا احساسِ کمتری اسے یہ غلط سوچ دے رہا ہے کہ اردو پسماندہ زبان ہے اور انگریزی بولنا اعزاز کی بات ہے ۔ خواتین اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی ملوث نظر آتی ہیں ۔ جب وہ ملبوسات اور رنگوں کے متعلق گفتگو کرتی ہیں تو بے دریغ انگریزی الفاظ استعمال کرتی ہیں ۔ مختلف رنگوں کے لیے اردو میں مختلف الفاظ ہیں جبکہ انگلش کئی رنگوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کرتی ہے ۔ رنگوں کے لیے اردو میں الفاظ کا جو تنوع ہے ، اس کی تصدیق درج ذیل تحریر سے ہوتی ہے ۔
قَوسِ قزح میں سات رنگ ہوتے ہیں ‘ دھوپ بھی انہی سات رنگوں کا مجموعہ ہے ۔ ان کے نام یاد رکھنے کے لیے انگریزی میں VIBGOYR کا مخفف استعمال ہوتا ہے ۔
Violet: بَنَفشی
Indigo: نِیلگوں
Blue: نیلا
Green: سبز
Orange: مالٹا
Yellow: پیلا
Red: سُرخ
اِن سات رنگوں میں ہر رنگ کے کئی ذیلی رنگ (shade) بھی ہیں ۔ مختلف رنگوں کی آمیزش سے مختلف shadesبنتے ہیں ۔ معروف رنگوں کے ذیلی رنگ یہ ہیں ۔۔۔
Green: سبز ، کِشمِشی ، گہرا کشمشی ، زَمُردی (emeraldish) ، دھانی ، پِستئی ، طاؤسی ، اَگرئی ، صَندلِیں ، مُونگیا ، انگوری ، اِلائچی ۔
Sea Green: آبی سبز ، کاہی ، زَنگاری ۔
Faun: بادامی ، مَٹیالا ، شُتری ، خاکَستری ۔
Yellow: پیلا ، زَعفَرانی ، کَپاسی ، بَسَنتی ، زرد ، اَسفَر ، شَربَتی ۔
Red: سُرخ ، شَہابی ، شَنگرفی ، عُنابی ، بَنَفشی ، اَرغَوانی ، حِنائی ، اَحمرِیں ، گِیروا ، سِندُوری ۔
Blue:نیلا ، اَزرَق ، آسمانی ، کَرَنجی ، نِیلگوں ، گہرا نیلا ، کَبُودی ۔
Purple: جامنی ، اَرغوانی ، بینگنی ، اُودا ، طُوسی ، فالسئی ، سَوسنی ، کاسنی (lavender) ۔
Gray: سُرمئی ، سلیٹی ، فاختائی ۔
White: دُودھیا ، اَبیَض ، بَرّاق ، اَقمر ۔
سفید و سیاہ کا امتزاج ”اَبلَق“ کہلاتا ہے ۔
Black: سیاہ ، عُودی ، آبنُوسی ۔
Off White: مَوتیا ۔
Pink: گُلابی ، پِیازی ، شَفتالو ، جَوگیا ، گِیروا ۔
Brown: بُھورا ، نَسواری ، خاکی ۔
Orange: مالٹا ، کیسری ، نارنجی ۔
Silver: چمکیلا سفید ، رُوپہلا ، نَقرئی ۔
روپہلے اور طلائی کے امتزاج کو گنگا جمنی کہتے ہیں ۔
Golden: سُنہری ، طَلائی ۔
عنبری: سمندری سوکھی گھاس کا رنگ ۔
کاکریزی: سیاہی مائل اودا رنگ ۔
اس تحریر کو لکھنے میں اردو ڈائجسٹ سے مدد لی گئی ۔
Categories: Urdu Literature اردو ادب