Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from February 2007

اردو ٹیکنالوجی اخبار کی منتقلی

February 27, 2007 · Leave a Comment

اردو ٹیکنالوجی اخبار Urdu TechNews کو urdutechnews.blogspot.com سے اٹھا کر نئی جگہ http://urdutechnews.wordpress.com پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔
برائے مہربانی نیا پتہ http://urdutechnews.wordpress.com ذہن نشین کر لیجیے ۔ یہاں ٹیکنالوجی ، طب اور میڈیا سے متعلق خبریں ، مضامین ، تبصرے ، ڈاؤن لوڈز ، مفید روابط اور بہت کچھ پیش کیا جاتا ہے ۔
اگر آپ اردو ٹیکنالوجی اخبار کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو رابطہ کیجیے ۔

Categories: Blogging بلاگنگ

پاکستان اے ون گرینڈ پرکس میں

February 26, 2007 · 11 Comments

تاریخ میں پہلی بار پاکستانی ٹیم نے اے ون گرینڈ پرکس میں پوائنٹس حاصل کیے ہیں ۔

شاباش نور علی

A1GP Pakistan

 

 

Categories: Pakistan پاکستان

کیا یہ گمراہی ہے؟

February 25, 2007 · Leave a Comment

میرے ایک اہلِ تشیع دوست نے ایک بار کسی اختلافی موضوع پر ایسی دلیل دی کہ مجھے اسے ماننا پڑا ۔ تسلی اور تصدیق کے لیے میں اپنی مسجد کے امام صاحب کے پاس گیا جو کہ ان معاملات میں کافی “ہوشیار” ہیں ۔ ان سے جب میں نے وہی بات کی تو فرمانے لگے کہ “بھائی ایسی باتوں کے متعلق مت سوچا کرو ۔ گمراہ لوگوں سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے اور اگر وہ کوئی بات کریں تو اس پر دھیان نہیں دینا چاہیے ، انسان گمراہ ہو جاتا ہے ۔” مجھے سوال کا جواب دینے کی بجائے وہ ایسے آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ۔

جب حضرت محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے معراج سے واپسی پر تمام واقعات بیان کیے تو ابوجہل حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میاں سنتے ہو ، تمہارے دوست اللہ سے ملاقات کر کے آئے ہیں ۔ حضرت ابوبکر نے دریافت کیا کہ کیا یہ بات میرے آقا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کہی ہے ؟ ابو جہل نے کہا “ہاں” ۔ تو حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ۔ بغیر سنے،دیکھے ایمان لانے پر حضرت ابوبکر کو صدیق کا خطاب دیا گیا ۔

قرآن مجید میں کئی جگہ ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے “جو بِن دیکھے ایمان لائے” ۔ درحقیقت اسلام کی بنیاد ہی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بغیر حیل و حجت کے ایمان لانا اور ان کے احکامات پر بلا تامل عمل کرنا ۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول پر تو فوراً ایمان لے آتے ہیں مگر ان کے احکامات کے بارے میں “مناظرے” کرتے ہیں ۔

میں اس بلاگ میں دینی و سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتا ۔ مگر اب سوچ رہا ہوں کہ دین کے متعلق وہ باتیں لکھوں کہ جن کے متعلق آج کا مسلم نوجوان شش و پنج کا شکار ہے ۔ میں ایک مسلم نوجوان کی آنکھ سے وہ چیزیں دکھانے کی کوشش کروں گا جنہیں ہمارے بزرگ شاید پسند نہیں کرتے اور جن کے بارے میں بات کرنے کو گمراہی سے تعبیر کرتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ آج کا نوجوان دین سے دور ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نوجوان نسل دین کے معاملے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہے جتنی کہ اس کے بزرگ رکھتے ہیں ، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔ ہمارے نوجوان کو مکتب میں سائنس (science) پڑھائی جاتی ہے جس میں دلیل اور منطق واضح مقام رکھتی ہیں ۔ سائنس کے بیشتر نظریات صرف عقلی و منطقی (logical) خیالات پر ہی قائم ہیں اور ان کی طبعی حیثیت ابھی تک متعین نہیں ہے ۔ مثلاً ایٹم کے مرکزے (nucleus) میں موجود ذرات (الیکٹران ، پروٹان) کو آج تک کسی آنکھ نے،کسی خوردبین نے نہیں دیکھا ، مگر ان کی موجودگی پر منطقی انداز میں سوچ بچار کی گئی ہے اور دنیا کو پتھر کے زمانے سے اٹھا کر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے ۔

جب ہمیں سائنس پڑھائی جاتی ہے تو ہمارے استاد ہر بات کی تشریح کرتے ہیں ۔ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوتا ہے ۔ مثلاً اگر ہم کسی کو ایک فٹ کے فاصلے سے گھونسہ ماریں تو اسے کم تکلیف ہوتی ہے لیکن جب ہم پورا بازو گھما کر مکا ماریں تو ہدف کا جبڑا ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی بتیسی باہر آ جاتی ہے ۔ اس بات کی تشریح میں ہمیں حرکی توانائی (Kinetic Energy) سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بتیسی نکالنے کے عمل کے پیچھے { mv2 ½ } کا ہاتھ ہے ۔

لیکن جب ہم دین کی جانب آتے ہیں تو ہمارے والدین ، ہمارے علماء ، ہمارے بزرگ ہمیں صرف اپنے نظریات ذہن نشین کراتے ہیں ۔ ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلام دوسرے دینوں سے افضل ہے ، کیوں افضل ہے ، یہ ہمیں نہیں بتاتے ، کیوں کہ یہ بتانے کے لیے ہمیں تورات اور انجیل بھی پڑھانی پڑے گی اور ان کے پڑھنے سے ہم گمراہ ہو جائیں گے ۔ ہمیں ہمارے والدین کے مسلک و مذہب سے متعلق باتیں رٹائی جاتی ہیں ، لیکن جب ہم دوسرے مسالک سے متعلق کوئی سوال کرتے ہیں تو ہمیں ٹال دیا جاتا ہے ، کیونکہ ہمارے ذہن اس بات کو سمجھ نہیں سکتے ۔ آج کا نوجوان Electronics اور Mechanics کے علم کو استعمال کر کے Mega Structures تو کھڑے کر سکتا ہے لیکن وہ مذہبی معاملات کو نہیں سمجھ سکتا ۔ کیونکہ وہ ناتجربہ کار ہے اور اس کا ذہن ناپختہ ہے ، ابھی اس میں ان معاملات کو سمجھنے کے لیے درکار عقل و فہم اور شعور کی کمی ہے ۔

Categories: Muslim Youth مسلم نوجوان

ہم ، کیبل اور کٹ

February 22, 2007 · 13 Comments

“خدا خدا کر کے” ہمارے گھر میں سیٹلائٹ کیبل لگ ہی گئی ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرا گھرانہ بہت زیادہ مذہبی نہیں ہے مگر روشن خیال بھی نہیں ہے ۔ تو ایسے میں کیبل لگوانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔ سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن کی کیبل کیسے لگی؟ یہ ایک طویل داستان ہے ، اسے بیان کرنے بیٹھ گیا تو اصل موضوع بہت دور ہو جائے گا ۔

یہاں میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کیبل کیسے دیکھتے ہیں ۔ چوں کہ میرے گھر والے روشن خیال نہیں ہیں اس لیے وہ چینلز اور پروگرام دیکھنے پر پابندی ہے کہ جن میں “غریب” اداکارائیں کام کرتی ہوں ۔ وہ واقعی غریب ہیں یا نہیں ، یہ تو ان کے ہمسائیوں کو ہی معلوم ہوگا ، مگر ہم نے ان کی غربت کا اندازہ ان کے لباس سے لگایا ہے ۔ لباس کو دیکھ کر اگر غربت کا لفظ ذہن میں نہ آئے تو اس کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے ، کہ محترمہ اداکارہ کسی سگِ آوارہ کو “ہم خیال” جان کر چھیڑ بیٹھی ہوں گی ، جواباً کتے نے محبت جتانے کی کوشش کی ہوگی ، تبادلہ خیال کے دوران کتے کے منہ میں محترمہ کا لباس آ گیا ہوگا اور یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ درندے کے منہ میں جو چیز آ جائے ، پارہ پارہ ہو جاتی ہے ۔

جب کیبل ٹی وی کے ساتھ منسلک کی جاتی ہے تو ٹی وی پر خودکار طریقے سے چینل مرتب ہو جاتے ہیں ۔ تو بعض “خلافِ شریعت” چینل بھی در آتے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے ٹی وی پر چینلز کو نئی ترتیب دی گئی ۔ میرے پُرزور اصرار پر انگریزی فلموں والے چند چینلز کو نشر ہونے کی اجازت دے دی گئی ، مگر مجھے معلوم تھا کہ میں کوئی بھی فلم “پوری” نہیں دیکھ سکوں گا ۔

اب سِین کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت پردہِ سیمیں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ، اکثر اوقات کھڑے ہی رہتے ہیں ۔ جب وہ کھڑے ہوں تو میں زیادہ محتاط ہو جاتا ہوں ۔ اللہ بھلا کرے ریموٹ کنٹرول بنانے والے کا ، ایسے میں ریموٹ ہی کام آتا ہے ۔

دونوں ہاتھوں سے ریموٹ کو مضبوطی سے تھام کر میں فلم کی کہانی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مرد اور عورت کی گفتگو “غیر معمولی” انداز میں جاری رہتی ہے ۔ کاش مجھے انگریزی سمجھ آتی ہوتی تو میں صورتِ حال کا درست اندازہ کر سکتا ۔ بہرحال مجھے ان کے ارادے “خطرناک” لگ رہے ہیں ۔ گفتگو کرتے کرتے دونوں ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں ۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہوں ۔ اچانک لڑکی آگے کی سمت میں حرکت کرتی ہے ، میں برق رفتاری سے دوسرے چینل (عموماً مذہبی) کا بٹن دباتا ہوں ۔ تین تک گنتی گن کر دوبارہ فلم والے چینل کا بٹن دباتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران کوئی “قابلِ اعتراض” منظر وقوع پذیر نہیں ہوا ، بلکہ خاتون مرد کے پاس سے گزر کر دور جا رہی ہوتی ہیں ۔

اسی طرح مختلف چینلوں کا جائزہ لیتے ہوئے کافی محتاط رہنا پڑتا ہے ۔ چوں کہ آج کل پاکستانی چینلز پر بھی بھارتی پروگرام نشر ہونے لگے ہیں ، لہٰذا انہیں بھی بعض اوقات نظر انداز کرنا پڑتا ہے ۔ ایک چینل سے دوسرے چینل پر جاتے ہوئے تیسرے چینل پر انگلی رکھنی پڑتی ہے ، تاکہ اگر دوسرے چینل پر کوئی “ایسا ویسا” منظر نشر ہو رہا ہو تو فوراً اگلا چینل لگا لیا جائے ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تیسرے چینل پر بھی “غیر اسلامی” مناظر ہوتے ہیں تو اسیے میں منہ دوسری طرف کر کے ٹی وی کی طرف کن انکھوں سے دیکھتے ہوئے اگلے چینل کا بٹن دبایا جاتا ہے ۔

اب مجھے ایسے مشورے درکار ہیں کہ جن کی مدد سے گھر کے باقی افراد کو ٹی وی والے کمرے سے باہر رکھا جا سکے ، ہے کوئی تجربہ کار شخصیت؟

Categories: Me بقلم خود

بدتمیز اب بی بی سی پر

February 13, 2007 · 2 Comments

اردو کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل ۔ عالمی شہرت یافتہ بدتمیز اب بی بی سی اردو پر۔ مزید معلومات کے لیے دیکھیے۔۔۔

بدتمیزی؟

 

Categories: Friends احباب