Urdu Blog اردو بلاگ

ذکر کے ساتھ نعت

February 1, 2007 · 11 Comments

آج محمد اویس رضا قادری ایک ایسا نام ہے جو نعت خوانی کے لحاظ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ حیدرآباد دکن میں دو لاکھ افراد کے مجمع میں نعتِ رسول پڑھنے والے اویس قادری ، پاکستان اور بیرونِ پاکستان اکثر نعت خوانی کی محافل میں مصروف رہتے ہیں جن میں ہزاروں خواتین و حضرات شرکت کرتے ہیں ۔

آج سے چند برس قبل اویس قادری اگرچہ مقبول تھے مگر اتنے زیادہ مشہور نہ تھے جتنے آج ہیں ۔ اس وقت محمد مشتاق عطاری نعت خوانی میں اویس قادری سے کہیں آگے تھے ۔ اس دور میں محمد مشتاق اور محمد اویس اپنی تصاویر اور ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ اگر کبھی محفلِ نعت میں کیمرہ لایا جاتا تو یہ حضرات اپنے چہروں پر رومال گرا لیتے ، جب کیمرا وہاں سے چلا جاتا تو پردہ ہٹاتے ۔ کچھ سال قبل محمد مشتاق عطاری وفات پا گئے ۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اویس قادری نے پسِ منظر میں “ذکر” کے ساتھ پہلی نعت کب پڑھی ۔ بہرحال ، جب انہوں نے پسِ منظر میں “اللہ اللہ” کی آواز یعنی ذکر کے ساتھ اپنی نعت “النبی صلو علیہ” ریکارڈ کروائی تو ان کی شہرت جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ۔ اس کے بعد انہوں نے تقریباً مستقل طور پر پسِ منظر میں ذکر کے ساتھ نعتیں پڑھنا شروع کر دیں ۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ Qtv کے ساتھ اویس قادری نے جو کروڑوں روپے کا معاہدہ کیا تھا ، اس نے بھی ان کے خیالات کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ کئی نوجوانوں نے گانے سننا ترک کر دیے ہیں اور اب وہ اویس قادری کی نعتیں سنا کرتے ہیں ۔

مجھے حمدِ باری تعالیٰ (جل جلالہ) اور نعتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم) سننا پسند ہے ۔ اویس قادری کی آواز میں پڑھی جانے والی نعتیں بھی پسند ہیں ، مگر “بہت بہتر” ہوتا اگر وہ پسِ منظر میں ذکر شامل نہ کرتے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اور رسول دونوں کا ذکر بیک وقت کرنا ان کی توہین کے مترادف ہے ۔ انسان اللہ کا نام سنے یا نعت پر توجہ دے؟
دوسری بات یہ کہ پسِ منظر میں جو شخص اللہ اللہ کہتا ہے ، وہ اللہ کی آواز حلق سے اس طرح نکالتا ہے کہ معاذاللہ ڈھول کی آواز معلوم ہوتی ہے ۔ ایک دن میں آہستہ آواز میں اویس قادری کی ایک نعت سن رہا تھا ، جس کے بیک گراؤنڈ میں ذکر ہو رہا تھا ۔ امی کمرے میں داخل ہوئیں اور بولیں “تمہیں ہر وقت گانے سننے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے؟” میں نے سپیکرز کی آواز بلند کر کے امی کو سنائی اور بمشکل انہیں سمجھا سکا کہ یہ نعت پڑھی جا رہی ہے ۔ میں خود بھی بعض اوقات جب دور سے ہا اچانک کسی ایسی نعت کو سنتا ہوں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے گانا بجایا جا رہا ہو ۔

5 دسمبر 2005ء کو کراچی میں منعقد ہونے والی “فکرِ رضا کانفرنس” میں “امام احمد رضا خان بریلوی” کے پوتے “مفتی اختر رضا خان” صاحب نے یہ فتویٰ دیا کہ نعت کے پسِ منظر میں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ شاہ تراب الحق قادری ، ملتان سے کاظمی برادران ، مولانا الیاس قادری صاحب اور اہلِ سنت کے دیگر کئی علماء نے بھی اس فتویٰ کی تائید کی ہے کہ ذکر اور نعت خوانی بیک وقت چلانا جائز نہیں ہے ۔

اویس قادری کی نقل میں کئی نعت خوانوں نے پسِ منظر میں ذکر چلا کر نعتیں پڑھنا شروع کر دی ہیں ۔ معلوم نہیں کہ اب اویس قادری کا طرزِ عمل کیا ہے اور وہ اس فتویٰ کو قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ مگر پسِ منظر میں ذکر اور دف کی آواز کے ساتھ نعتیں پڑھنا اب عام ہو چکا ہے ۔ معلوم نہیں کہ ایسی نعتیں سننے کا گناہ ہے یا ثواب ۔

انٹرنیٹ پر اس فتویٰ کے متعلق تلاش کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات ملی ، ایک صاحب نے لکھا ہوا تھا کہ لفظ اسلام جب انگریزی میں لکھا جائے تو وہ ان الفاظ کا مخفف بنتا ہے ۔

ISLAAM >>
I
Simply
Love
Allah
and
Muhammad
:)

Categories: Islam اسلام

11 responses so far ↓

  • Noumaan // February 1, 2007 at 8:43 am

    مجھے بھی نو عمری میں نعتیں سننے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ مگر اب مجھے یہ دف والوں اور ذکر والوں کی نعتیں اچھی نہیں لگتیں میں آج بھی وہی اپنے بچپن والی نعتیں سننا پسند کرتا ہوں۔ کراچی کی میمن کمیونیٹیز میں تو اویس قادری اتنا مشہور ہے کہ وہ لوگ مہینوں پہلے اس کو اپنی محفلوں میں بک کرتے ہیں۔

  • Shoiab safdar // February 1, 2007 at 11:38 am

    دف اور ذکر والی سننے میں وہ مزہ نہیں جو اِن کے بغیر والی نعتوں میں ہے!!! مارکیٹ میں بغیر دف اور ذکروالوں نعت کی تلاش بھی ایک مشکل ہے!!! ریمبو سینٹر (یہاں کراچی میں) ایک ہی قسم کی سی‌ڈی عام ہوتیں ہیں!!!
    باقی قویس رضاقادری صاحب کو اپنے علاقے والوں نے ایک محفل نعت کے لئے بلایا تھا جناب نے (کافی ہی) اچھا معاوضہ لیا تھا!!!!

  • اجمل // February 1, 2007 at 11:59 am

    ميں بچپن ميں بريلوی طرزِفکر رکھنے والے امام صاحب کے پيچھے نماز پڑھا کرتا تھا ۔ جب ميں گيارہويں اور بارہويں جماعت ميں تھا تو مجھے ان امام صاحب کی باتيں کچھ غير اسلامی محسوس ہونے لگيں پھر ايک دن وہ کچھ زيادہ ہی لہر ميں آ گئے چنانچہ ميں نے مسجد ميں نہ جانے کا فيصلہ کر ليا اور نماز گھر پر پڑھنا شروع کر دی ۔ جب ميں انجيئرگ کالج داخل ہوا تو ہوسٹل کے کچھ سينئر لڑکوں نے ميری رہنمائی کی اور ميں نے دين کو سمجھنے کی سنجيدہ کوشش شروع کردی ۔ قرآن شريف کا ترجمہ پھر تفسير پھر حديث اور پھر فقہ سب کو غور و فکر کے ساتھ پڑھا ۔ بات يہ سمجھ ميں آئی کہ لوگوں نے اپنی اپنی دکان چمکانے کيلئے اصل دين کو پسِ پشت ڈال ديا ہے جس کے نتيجہ ميں عوام بھٹک رہے ہيں ۔ يہ امام شايد بھول گئے ہيں کہ ان کے پيروکاروں کے گناہوں کا حساب بھی ان سے ليا جائے گا ۔

    جس طرز کی نعت خوانی اور ذکر ہمارے ہاں رواج پا گيا ہے يہ اللہ کی خوشنودی کم اور غصہ کو زيادہ متوجہ کرتا ہے ۔ چند سال قبل ميں کہيں سے گھر آرہا تھا کہ مغرب کی اذان ہو گئی ۔ ميں قريبی مسجد ميں نماز پڑھنے چلا گيا ۔ جماعت کھڑی ہو کر ايک رکعت پڑھ چکی تھی ۔ جب ميں آخری رکعت پڑھ رہا تھا تو فرض پڑھ لينے والے کچھ حضرات نے بآوازِ بلند اللہ ھُو کہنا شروع کر ديا ۔ اس کا مجھ پر اتنا زيادہ اثر ہوا کہ ميں تين دفعہ بھُولا کہ ميں کيا پڑھ رہا تھا ۔

    ايک دفعہ ميں واہ کينٹ ميں کسی جنازہ کے ساتھ قبرستان گيا واپسی پر راستہ ميں نمازِ مغرب کا وقت ہو گيا قريب ہی مسجد تھی ميں نماز پڑھنے چلا گيا ۔ ابھی فرض ختم ہی ہوئے تھے کہ بہت سے لوگوں کی بلند آوازيں آئيں ۔ سيّدی سيّدی مرشدی مرشدی اور نعت خوانی شروع ہو گئی جس کے دوران سيّدی سيّدی مرشدی مرشدی کے نعرے لگتے رہے ۔ مجھے سنتوں کے دوران کچھ سمجھ نہيں آ رہا تھا کہ ميں کيا پڑھ رہا تھا سلام پھيرنے کے بعد گھر جا کر دوبارہ سنتيں پڑھيں ۔

    کوئی مجھے بتائے کہ ايسا کونسی آيت يا کونسی حديث کے حوالہ سے کيا جاتا ہے ؟

  • میرا پاکستان // February 1, 2007 at 3:10 pm

    جتنے لوگ شو بز میں اگر ان کی عملی زندگی کا جائزہ لیا جاۓ تو وہ دوغلے پن کے شاہکار نظر آئیں گے۔ اویس قادری ہو یا کوئی اور شو بز کا انسان اس کی اسلام کیلۓ خدمات تب تک صفر ہوں جب تک وہ باعمل نہیں ہوگا۔
    اب مسلمان دکھاوے کے کام زیادہ کرنے لگے ہیں اور عمل کم۔ ہرطرف دیکھیں ہر مسلمان اپنے اندر اپنا ایک الگ اسلام رکھتا ہے۔ ایک جگہ اگر دوچار دوست اسلام پر بحث کررہے ہوں گے تو وہ حدیث اور قرآن کے حوالے سے بات کرنے کی بجاۓ اپنی اپنی جھاڑ رہے ہوں گے۔ مبالغے سے بھی اگر کام لیا جاۓ تو دنیا کے سوا ارب مسلمانوں میں آپ کو باعمل مسلمان صرف مٹھی بھر ہی نظر آئیں گے۔ بس یہی دعا کرنی چاہیۓ کہ خدا مسلمانوں کو عمل کی نعمت سے نوازے اور خود نمائی سے بچاۓ۔

  • ابو حلیمہ // February 1, 2007 at 4:24 pm

    السلام علیکم،۔
    مجھے بریلوی مکتبٔہ فکر کے بارے میں بہت دیر سے پتا چلا اور جیسا کہ اجمل صاحب نے کہا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی پأیں جو دل کو نہ بھاتی تھیں۔ لیکن میں نے بجاٌے اس کے کہ ان کو غلط مان کر پس پشت ڈال دوں، سوچا یہ کہ آخر پتا تو کروں کے ان کے عقأید کیا ہیں۔ نہ چاہتے ہؤے اب بھی کیٔی چیزیں حلق سے نہیں اترتیں۔ البتہ جس ذکر بالجہر کا اجمل صاحب نے کہا ہے، اس کے دلأیل کچھ علماء نے بیان کیے ہیں۔ لیکن جو علماء ذکر بالجہر کی تأویل بھی نکالتے ہیں، وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ذکر اخفی کا درجہ ذکر بالجہر سے اونچا ہے کیونکہ ذکر بالجہر میں ریاکاری کا امکان ہے جو سراسر ذکر کے مقصد کے ہی خلاف ہے۔ اور جن حالات کو اجمل صاحب نے قلمبند کیا ہے اس معاملے میں تو ذکر بالجہر کی کؤی تک نہیں بنتی کہ بھأی آپ ایک طرف اونچا ذکر کر کے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں تو دوسری جانب آپ نے کسی بیچارے کی نماز خراب کر دی۔ اللہ کیسے راضی ہو گا جب حقوق العباد ہی پورے نہ کیے۔

  • Shari // February 1, 2007 at 6:34 pm

    Hmmm……..

    That was both Kush fahmi and Ghalat Fahmi :)

    I Think you can call it face of computer

  • Woli // February 2, 2007 at 7:09 pm

    Her Lerki Apne Bare Men Kush Fehmi ka shikar Hoti Hay.

  • نعمان // February 2, 2007 at 9:17 pm

    شعیب کی بات سے جاری رکھوں گا کہ، پیشہ ور نعت خوانی میں اخلاص کی سمت بدل جاتی ہے۔ اویس صاحب کی وضع قطع دیکھیں اور چمک بھڑک والے کپڑے دیکھیں تو سب کچھ فریب معلوم ہوتا ہے۔ اس سے اچھے تو وہ ننھے بچے ہیں تو شوق میں نعت پڑھتے ہیں۔ مجھے نعت خوانی کے ساتھ لوگوں کا یہ سلوک باکل مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اور جس طرح لوگ محافل نعت منعقد کرتے ہیں اور ان پر اتنا رپیہ پھونکتے ہیں وہ تو بہت ہی نامناسب ہے۔

  • اجمل // February 6, 2007 at 5:42 am

    ميں نعمان صاحب سے اتفاق کرتا ہوں ۔ جب نعمان صاحب صحافت سے باہر نکلتے ہيں تو بڑی پتے کی بات کرتے ہيں ۔

  • Sajid Iqbal // February 7, 2007 at 9:30 am

    قادری صاحب کے متعلق مجھے کچھ زیادہ تو نہیں معلوم لیکن جو نعتیں آج کل یہ پڑھتے ہیں۔۔۔معاذ اللہ انہیں تو نعتوں کی پاپ شکل کہنی چاہیے۔

  • Bintai Hawwa // February 11, 2007 at 5:28 am

    اسلام علیکمٓٓٓ
    یھ آخری والی بات دل کو لکی۔

Leave a Comment