Urdu Blog اردو بلاگ

ہم ، کیبل اور کٹ

February 22, 2007 · 13 Comments

“خدا خدا کر کے” ہمارے گھر میں سیٹلائٹ کیبل لگ ہی گئی ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرا گھرانہ بہت زیادہ مذہبی نہیں ہے مگر روشن خیال بھی نہیں ہے ۔ تو ایسے میں کیبل لگوانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔ سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن کی کیبل کیسے لگی؟ یہ ایک طویل داستان ہے ، اسے بیان کرنے بیٹھ گیا تو اصل موضوع بہت دور ہو جائے گا ۔

یہاں میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کیبل کیسے دیکھتے ہیں ۔ چوں کہ میرے گھر والے روشن خیال نہیں ہیں اس لیے وہ چینلز اور پروگرام دیکھنے پر پابندی ہے کہ جن میں “غریب” اداکارائیں کام کرتی ہوں ۔ وہ واقعی غریب ہیں یا نہیں ، یہ تو ان کے ہمسائیوں کو ہی معلوم ہوگا ، مگر ہم نے ان کی غربت کا اندازہ ان کے لباس سے لگایا ہے ۔ لباس کو دیکھ کر اگر غربت کا لفظ ذہن میں نہ آئے تو اس کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے ، کہ محترمہ اداکارہ کسی سگِ آوارہ کو “ہم خیال” جان کر چھیڑ بیٹھی ہوں گی ، جواباً کتے نے محبت جتانے کی کوشش کی ہوگی ، تبادلہ خیال کے دوران کتے کے منہ میں محترمہ کا لباس آ گیا ہوگا اور یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ درندے کے منہ میں جو چیز آ جائے ، پارہ پارہ ہو جاتی ہے ۔

جب کیبل ٹی وی کے ساتھ منسلک کی جاتی ہے تو ٹی وی پر خودکار طریقے سے چینل مرتب ہو جاتے ہیں ۔ تو بعض “خلافِ شریعت” چینل بھی در آتے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے ٹی وی پر چینلز کو نئی ترتیب دی گئی ۔ میرے پُرزور اصرار پر انگریزی فلموں والے چند چینلز کو نشر ہونے کی اجازت دے دی گئی ، مگر مجھے معلوم تھا کہ میں کوئی بھی فلم “پوری” نہیں دیکھ سکوں گا ۔

اب سِین کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت پردہِ سیمیں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ، اکثر اوقات کھڑے ہی رہتے ہیں ۔ جب وہ کھڑے ہوں تو میں زیادہ محتاط ہو جاتا ہوں ۔ اللہ بھلا کرے ریموٹ کنٹرول بنانے والے کا ، ایسے میں ریموٹ ہی کام آتا ہے ۔

دونوں ہاتھوں سے ریموٹ کو مضبوطی سے تھام کر میں فلم کی کہانی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مرد اور عورت کی گفتگو “غیر معمولی” انداز میں جاری رہتی ہے ۔ کاش مجھے انگریزی سمجھ آتی ہوتی تو میں صورتِ حال کا درست اندازہ کر سکتا ۔ بہرحال مجھے ان کے ارادے “خطرناک” لگ رہے ہیں ۔ گفتگو کرتے کرتے دونوں ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں ۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہوں ۔ اچانک لڑکی آگے کی سمت میں حرکت کرتی ہے ، میں برق رفتاری سے دوسرے چینل (عموماً مذہبی) کا بٹن دباتا ہوں ۔ تین تک گنتی گن کر دوبارہ فلم والے چینل کا بٹن دباتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران کوئی “قابلِ اعتراض” منظر وقوع پذیر نہیں ہوا ، بلکہ خاتون مرد کے پاس سے گزر کر دور جا رہی ہوتی ہیں ۔

اسی طرح مختلف چینلوں کا جائزہ لیتے ہوئے کافی محتاط رہنا پڑتا ہے ۔ چوں کہ آج کل پاکستانی چینلز پر بھی بھارتی پروگرام نشر ہونے لگے ہیں ، لہٰذا انہیں بھی بعض اوقات نظر انداز کرنا پڑتا ہے ۔ ایک چینل سے دوسرے چینل پر جاتے ہوئے تیسرے چینل پر انگلی رکھنی پڑتی ہے ، تاکہ اگر دوسرے چینل پر کوئی “ایسا ویسا” منظر نشر ہو رہا ہو تو فوراً اگلا چینل لگا لیا جائے ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تیسرے چینل پر بھی “غیر اسلامی” مناظر ہوتے ہیں تو اسیے میں منہ دوسری طرف کر کے ٹی وی کی طرف کن انکھوں سے دیکھتے ہوئے اگلے چینل کا بٹن دبایا جاتا ہے ۔

اب مجھے ایسے مشورے درکار ہیں کہ جن کی مدد سے گھر کے باقی افراد کو ٹی وی والے کمرے سے باہر رکھا جا سکے ، ہے کوئی تجربہ کار شخصیت؟

Categories: Me بقلم خود

13 responses so far ↓

  • اظہرالحق // February 22, 2007 at 5:35 am

    آپ سب سے پہلے حضرت مولانا پرویز مشرف المعروف پیجا پاکی گرین کارڈ ہولڈر سے دو روزہ “روشن خیالی“ کا ڈپلومہ حاصل کریں ، آپکی تمام مشکلات حل ہونگی ۔ ۔ ۔

  • badtameez // February 22, 2007 at 6:09 am

    hahaha
    mamu i need u, come onlien you donkey.
    n meray aik janenay walay baqi ghar walo ko kamray say bahir nikalnay k liye naatay ya mazhabi channel laga letay thay jaisay he ghar walay out hotay thay woh fat stage darama laga letay thay. agar tumko na maloom ho k stage daramay mai kia kia nai ho gaya to koi baat nai laiken pehlay hissay per amal ker lo shayad bhala ho jaye :P
    waisay i looooove your post :D

  • اجمل // February 22, 2007 at 7:37 am

    آپ کو باؤلے کتے نے کاٹا تھا کہ ان حالات میں کیبل لگوا لی ؟
    اب ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے نیک ہونے کا گھر والوں کو یقین دلائے ۔ لیکن یہ ہے بہت مشکل اور اس میں دن یا ہفتے نہیں مہینے یا سال لگ سکتے ہیں ۔
    شاد رہو آباد رہو اور کمپیوٹر پر لکھتے رہو اور دعا کرو کہ گھر والوں کو کوئی بتا نہ دے کہ کمپیوٹر پر کیبل کی طرح یا اس سے بھی زیدہ گڑبڑ ہوتی ہے ۔

  • Shoiab Safdar // February 22, 2007 at 8:28 am

    یار کیبل میں کچھ خرابی نہیں اگر بندہ ٹھیک ہو تو!
    کم عمر و ناسمجھ تو گمراہ ہو سکتے ہیں مگر تم ناسمجھی کی عمر میں نہیں ہو!
    انگریزی چینل کا ایک لطیفہ ہم سے بھی سن لو!
    جب میں کالج (پی ایف کالج، ملیر کینٹ) میں تھا تو کالج کے ساتھ ہی فوجیوں کا ہوٹل تھا!!!! وہاں ٹی وی پر کیبل لگی ہوئی تھی!!! ایچ بی او سے تعارف وہاں ہی ہوا تھا!! اُس میں کوئی مرد و عورت آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے تو اکثر فوجی غور سے دیکھنے لگ جاتے بلکہ اپنے ساتھیوں کو پکارتے یار “سین“ آنے والا ہے!!! یہ جانے بغیر کہ اُن کو رشتہ آپس میں کیا ہے؟ آیا بہن بھائی یا باپ بیٹی تو گفتگو میں مصروف نہیں؟؟ فلم میں!!!
    باقی یہ آپ والی کہانی قریب ہر اُس گھر کی ہے جہاں کیبل لگی ہوئی ہے!!! گھر والے گھر پر ہوں تو اِس خوف میں ٹی وی دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی سین نہ آ جائے اور تنہا آدمی ہو تو یہ اشتیاق کے ساتھ کہ ابھی کوئی سین آیا کہ ابھی!!!
    حڈ ہے ناں!!

  • Qadeer Ahmad قدیر احمد // February 22, 2007 at 1:20 pm

    اظہر الحق: جناب میں تو تیار ہوں مگر حضرتِ موصوف بھی لفٹ کرائیں تو ۔۔۔

    بدتمیز: تم حد سے زیادہ بدتمیز ہو ، تم خود گدھے ۔ تم سے میں علیحدگی میں نمٹوں گا۔

    انکل اجمل: یہ نیک بننے والی تجویز اچھی تو ہے مگر مشکل بہت ہے :)

    شعیب: میں تم سے اتفاق کرتا ہوں ۔ مگر فوجیوں کا مذاق اڑانے سے پہلے سوچ لو کہ آج کل پاکستان کی جان فوج کے قبضے میں ہے
    :P

  • میرا پاکستان // February 22, 2007 at 2:27 pm

    ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ایک اچھے خاندان کی لڑکی بیاہ کر گاؤں آئی۔ اس کے سسرال والوں کے گھر بیل اور بھینسیں عام تھیں۔ شروع شروع میں لڑکی کو گوبر کی بہت بو یعنی بدبو چڑھتی تھی اور اس نے اپنے گھر والوں سے شکایتیں بھی لگائیں۔ چند ہفتے اسی طرح گزرے ہوں گے کہ اس کو بو آنا بند ہوگئی اور وہ سب گھر والوں کو کتہی پھرتی تھی کہ “میں آئی تے بو مکائی” یعنی میرے آنے کے بعد بو ختم ہوگئی۔ دراصل گوبر کی بدبو تو وہیں رہی مگر وہ چند ہفتوں میں اس کی عادی ہوگئ اور اس طرح بو ختم ہوگئ۔
    اسلئے قدیر صاحب صبر سے کام لیں جلد ہی آپ کے گھر میں بھی” بو” اسی طرح ختم ہوجاۓ گی جس طرح دوسروں کے گھروں میں ختم ہورہی ہے۔ بیس سال پہلے ہمیں بھی انڈین فلمیں خاندان میں بیٹة کر دیکھنا برا لگا کرتا تھا اور اب ہم انگریزی فلمیں ملکر دیکھتے ہیں اور ہمیں “بو” نہیں آتی۔

  • ahmad. // February 22, 2007 at 6:31 pm

    hilarious and superb post…keep it up!

  • Qadeer Ahmad قدیر احمد // February 22, 2007 at 6:42 pm

    میرا پاکستان: آپ کی بات درست ہے مگر یہ میرے گھر میں نہیں ہو سکتا ۔ مجھے پتہ ہے:(

    احمد: شکریہ مگر آپ ہین کون؟

  • Shah Faisal // February 22, 2007 at 11:06 pm

    قدیر یہ ایک بہت سیریس مسئلہ ہے جو ہم سب کو ہمارے گھروں کے اندر اور باہر ہر جگہ درپیش ہے۔ شائد حقیقت یہ ہے کہ ہم اس معماملے میں کچھ زیادہ نہیں کر سکتے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ساری دنیا سے کٹ کر بیٹھ جائیں اور نہ ہم ساری دنیا کو امنی مرضی پر چلا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ملک کے لوگوں کے اپنے اپنے پیمیانے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی پہنچ تک کے لوگوں کو اس کی برائی اور اچھائی دونوں کے بارے میں بتائیں اور پھر فیصلہ ان پر چھوڑ دیں۔ بہت سے لوگ یورپ اور امریکہ میں رہتے ہوئے بھی ان خرافات سے بچے ہوئے ہیں اور بہت سے شکرخوروں کو پاکستان میں بھی شکر مل جاتی ہے۔ باقی رہی بات حکومت کی تو میرے خیال میں وہ بھی زیادہ قصوروار نہیں، انکی اپنی مجبوریاں ہیں اور ان سے یہ توقع کرنا کہ ہمارے گھریلو معاملات حل کرے گی، بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟

  • Qadeer Ahmad قدیر احمد // February 23, 2007 at 3:30 am

    شاہ فیصل: میں آپ کی بات سے بڑی حد تک اتفاق کرتا ہوں

  • میرا پاکستان // February 23, 2007 at 1:13 pm

    قدیر صاحب
    شروع شروع میں سب ایسا ہی کہتے رہے ہیں کہ یہ ہمارے گھر نہیں ہوسکتا مگر جب دوسری نسل جوان ہوتی ہے تو پھر بوڑھے بے بس ہوجاتے ہیں۔

  • Me // February 25, 2007 at 5:32 pm

    Qadeer sahib yeah masala hum maghrib main rehnay waloon kay leay buhut pehlay say hay yaanee remote hur waqt hath main rakhna. Yaqeen karain mera pakistan sahib kay mashwaray kay mutabaq yeah boo khatam ho hee jai gee siraf zara waqt lagta hai. Azmaish shart hai.

  • Me // February 25, 2007 at 5:37 pm

    Boo khatam ho nay kay baaray main…hum nain mughrib main aisay aisay soorma dekhay sobaa surhad kay jo maghrib main aa kay bhe maghrib say jihad kee batain kertay thay, lekin kuch ursa main thunday paray to gorioon/kaalioon kay sath doosree kisam ka jihad farma rahay hain aajkal.

Leave a Comment