میرے ایک اہلِ تشیع دوست نے ایک بار کسی اختلافی موضوع پر ایسی دلیل دی کہ مجھے اسے ماننا پڑا ۔ تسلی اور تصدیق کے لیے میں اپنی مسجد کے امام صاحب کے پاس گیا جو کہ ان معاملات میں کافی “ہوشیار” ہیں ۔ ان سے جب میں نے وہی بات کی تو فرمانے لگے کہ “بھائی ایسی باتوں کے متعلق مت سوچا کرو ۔ گمراہ لوگوں سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے اور اگر وہ کوئی بات کریں تو اس پر دھیان نہیں دینا چاہیے ، انسان گمراہ ہو جاتا ہے ۔” مجھے سوال کا جواب دینے کی بجائے وہ ایسے آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ۔
جب حضرت محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے معراج سے واپسی پر تمام واقعات بیان کیے تو ابوجہل حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میاں سنتے ہو ، تمہارے دوست اللہ سے ملاقات کر کے آئے ہیں ۔ حضرت ابوبکر نے دریافت کیا کہ کیا یہ بات میرے آقا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کہی ہے ؟ ابو جہل نے کہا “ہاں” ۔ تو حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ۔ بغیر سنے،دیکھے ایمان لانے پر حضرت ابوبکر کو صدیق کا خطاب دیا گیا ۔
قرآن مجید میں کئی جگہ ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے “جو بِن دیکھے ایمان لائے” ۔ درحقیقت اسلام کی بنیاد ہی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بغیر حیل و حجت کے ایمان لانا اور ان کے احکامات پر بلا تامل عمل کرنا ۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول پر تو فوراً ایمان لے آتے ہیں مگر ان کے احکامات کے بارے میں “مناظرے” کرتے ہیں ۔
میں اس بلاگ میں دینی و سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتا ۔ مگر اب سوچ رہا ہوں کہ دین کے متعلق وہ باتیں لکھوں کہ جن کے متعلق آج کا مسلم نوجوان شش و پنج کا شکار ہے ۔ میں ایک مسلم نوجوان کی آنکھ سے وہ چیزیں دکھانے کی کوشش کروں گا جنہیں ہمارے بزرگ شاید پسند نہیں کرتے اور جن کے بارے میں بات کرنے کو گمراہی سے تعبیر کرتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ آج کا نوجوان دین سے دور ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نوجوان نسل دین کے معاملے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہے جتنی کہ اس کے بزرگ رکھتے ہیں ، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔ ہمارے نوجوان کو مکتب میں سائنس (science) پڑھائی جاتی ہے جس میں دلیل اور منطق واضح مقام رکھتی ہیں ۔ سائنس کے بیشتر نظریات صرف عقلی و منطقی (logical) خیالات پر ہی قائم ہیں اور ان کی طبعی حیثیت ابھی تک متعین نہیں ہے ۔ مثلاً ایٹم کے مرکزے (nucleus) میں موجود ذرات (الیکٹران ، پروٹان) کو آج تک کسی آنکھ نے،کسی خوردبین نے نہیں دیکھا ، مگر ان کی موجودگی پر منطقی انداز میں سوچ بچار کی گئی ہے اور دنیا کو پتھر کے زمانے سے اٹھا کر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے ۔
جب ہمیں سائنس پڑھائی جاتی ہے تو ہمارے استاد ہر بات کی تشریح کرتے ہیں ۔ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوتا ہے ۔ مثلاً اگر ہم کسی کو ایک فٹ کے فاصلے سے گھونسہ ماریں تو اسے کم تکلیف ہوتی ہے لیکن جب ہم پورا بازو گھما کر مکا ماریں تو ہدف کا جبڑا ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی بتیسی باہر آ جاتی ہے ۔ اس بات کی تشریح میں ہمیں حرکی توانائی (Kinetic Energy) سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بتیسی نکالنے کے عمل کے پیچھے { mv2 ½ } کا ہاتھ ہے ۔
لیکن جب ہم دین کی جانب آتے ہیں تو ہمارے والدین ، ہمارے علماء ، ہمارے بزرگ ہمیں صرف اپنے نظریات ذہن نشین کراتے ہیں ۔ ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلام دوسرے دینوں سے افضل ہے ، کیوں افضل ہے ، یہ ہمیں نہیں بتاتے ، کیوں کہ یہ بتانے کے لیے ہمیں تورات اور انجیل بھی پڑھانی پڑے گی اور ان کے پڑھنے سے ہم گمراہ ہو جائیں گے ۔ ہمیں ہمارے والدین کے مسلک و مذہب سے متعلق باتیں رٹائی جاتی ہیں ، لیکن جب ہم دوسرے مسالک سے متعلق کوئی سوال کرتے ہیں تو ہمیں ٹال دیا جاتا ہے ، کیونکہ ہمارے ذہن اس بات کو سمجھ نہیں سکتے ۔ آج کا نوجوان Electronics اور Mechanics کے علم کو استعمال کر کے Mega Structures تو کھڑے کر سکتا ہے لیکن وہ مذہبی معاملات کو نہیں سمجھ سکتا ۔ کیونکہ وہ ناتجربہ کار ہے اور اس کا ذہن ناپختہ ہے ، ابھی اس میں ان معاملات کو سمجھنے کے لیے درکار عقل و فہم اور شعور کی کمی ہے ۔