Urdu Blog اردو بلاگ

Entries from March 2007

Urdu Blog moved

March 7, 2007 · 8 Comments

اردو بلاگ کو نئی جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ نوٹ فرما لیں
Urdu Blog has been moved to new location
http://urdublog.tuzk.net

Categories: Blogging بلاگنگ

جہانزیب کا نکاح

March 6, 2007 · 5 Comments

جب ایک بلاگر کے پاس کچھ لکھنے کو نہ ہو تو وہ اپنے بھولے بسرے دوستوں کے متعلق ہی لکھتا ہے ۔ چنانچہ یہ پوسٹ جہانزیب بھائی کے نام کی جاتی ہے ۔
شاید بلاگرز کی اکثریت کو معلوم نہ ہو کہ ہمارے محترم و مکرم جناب جہانزیب اشرف کا نکاح ہو گیا ہے ۔ جہانزیب اشرف اولین اردو بلاگروں میں سے ایک ہیں اور اردو ٹیکنالوجی اخبار کے لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ویب محفل کے ناظم بھی ہیں ۔

یہ نکاح کب ہوا ہے ، مجھے نہیں معلوم ۔ مجھے تو یہ بھی شک تھا کہ یہ صرف نکاح ہی تھا یا کچھ اور بھی ۔ کچھ اور بھی کی تفصیل یہ ہے کہ برصغیر کے ہندوؤں نے تو مسلمانوں کی کوئی روایت نہیں اپنائی ، البتہ مسلمانوں نے ہندوؤں کے بیسیوں رسم و رواج اپنا لیے ہیں ۔ چنانچہ اب برصغیر کے مسلمان نکاح الگ کرتے ہیں اور رخصتی الگ ۔ کئی مقامات پر تو نکاح کے بعد بھی میاں بیوی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں ، ملاقات کر سکیں ۔

چنانچہ جب میں نے جہانزیب بھائی سے دریافت کیا کہ ان کا صرف نکاح ہوا ہے یا رخصتی بھی ہو گئی ہے ۔ تو انہوں نے میری گوشمالی شروع کردی کہ نکاح تو نکاح ہوتا ہے ، یہ رخصتی وغیرہ جیسی بے ہودہ رسومات تو پاکستانیوں کا ورثہ ہیں ۔ ان کی ایسی جلی کٹی باتیں سن کر مجھے واقعی یقین ہو گیا ہے کہ ان کا نکاح ، شادی ، جو بھی ہے ، بہرحال وقوع پذیر ہو گیا ہے ۔ لیکن اس کے اثرات اتنی جلدی تو سامنے نہیں آنے چاہیے تھے؟ خیر ان کا بھی قصور نہیں ہے ، قید تو قید ہوتی ہے ، چاہے نئی ہو چاہے پرانی ۔ میری دعا ہے کہ ان کی یہ قید “عمر قید” ثابت ہو لیکن “با مشقت” نہ ہو ۔

Categories: Friends احباب

مجھے نفرت ہے ۔۔۔

March 4, 2007 · 13 Comments

اپنی جرابوں سے ۔۔۔
صبح سویرے اٹھ کر منہ دھونے سے ۔۔۔
پڑھائی میں وقت گزارنے سے ۔۔۔
جسمانی کام کرنے سے ۔۔۔
اکثر نہانے سے ۔۔۔
آئینے میں اپنی شکل دیکھنے سے ۔۔۔
کسی دوسرے کے بلاگ پر تبصرہ کرنے سے ۔۔۔
سیاسی لیڈروں کی شکلیں دیکھنے سے ۔۔۔
بھارتی فلموں سے ۔۔۔
گرمیوں میں کپڑے پہننے سے ۔۔۔

میں درج ذیل افراد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھی ایسے دس کاموں یا چیزوں کے بارے میں لکھیں جن سے انہیں نفرت ہے ۔ جواب میں سنجیدگی یا غیر سنجیدگی کی کوئی قید نہیں ہے ۔
بدتمیز
شعیب صفدر
شمیل قریشی
شاکر عزیز

Categories: Me بقلم خود

بدتمیز کی تحریر اور میری رائے

March 2, 2007 · Leave a Comment

آج کل بدتمیز کی ایک تحریر پر افسوسناک قسم کی مزیدار بحث چل رہی ہے ۔ جسے دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے اپنی گزشتہ تحریر (مسلم نوجوان سے متعلق) جو ڈیلیٹ کر دی تھی ، اسے دوبارہ چھاپ دوں اور آئندہ بھی ایسے موضوعات پر لکھوں گا ۔ مگر میں اپنی اس قسم کی تحریروں پر تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ کیونکہ میں اپنے خیالات صرف اپنے لیے لکھوں گا ، یہ ایک طرح سے میرے لیے ریکارڈ ہوگا جو بعد میں مجھے بتائے گا کہ میں عمر کے اس حصے میں کس قسم کی سوچ رکھتا تھا ۔

ویسے ایک تبصرہ میں بھی کر دوں بدتمیز کی تحریر پر ۔ میرے بہترین دوستوں میں سے ایک شیعہ ہے اور کافی پکا قسم کا شیعہ ہے ۔ ہم دونوں مسلسل چار چار گھنٹے مذہبی اور دیگر معاملات پر زوردار قسم کی بحث کرتے ہیں ، اتنی زوردار کہ شیعہ سنی علماء بھی ایسی گفتگو نہیں کرتے ہوں گے ۔ مگر الحمدللہ کبھی ہماری لڑائی تو درکنار ، کوئی چھوٹی سی رنجش بھی نہیں ہوئی ۔ میں کوئی زیادہ تعلیم یافتہ شخص نہیں ہوں ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ علم انسان میں برداشت پیدا کرتا ہے اور اگر انسان فکر و تدبر کے دروازے وا رکھے تو فساد کی نوبت ہی نہیں آ سکتی ۔ ذاتی طور پر مجھے تو شیعوں سے محبت ہی ملی ہے اور میں نے بھی انہیں محبت ہی دی ہے ۔ میری ایک ممانی شیعہ ہیں ، ہمارے خاندان میں سے کسی نے کبھی ان کے ساتھ کوئی غلط بات نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کبھی ہمیں یہ مسلکی اختلاف باور کرایا ہے ۔

بدتمیز کے بلاگ پر ایک صاحب نے فرمایا ہے کہ سنی اہلِ تشیع حضرات کے مذہبی فرائض کو ناپسند کرتے ہیں ۔ میں ان صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ عاشورہ کے جلوس میں جو سینکڑوں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں ان میں اکثریت سنیوں کی ہوتی ہیں ۔ شیعہ تو درمیان میں کھڑے ماتم کر رہے ہوتے ہیں ، ان کے اطراف میں دیکھنے والے کون ہوتے ہیں؟ میں آپ کو ماتم کرنے والے افراد میں سے بیسیوں سُنی افراد تلاش کر کے دکھا سکتا ہوں جو سنی علماء کی “فساد” والی تقاریر بھی سنتے ہیں اور عاشورہ کے دن ماتم بھی کرتے ہیں ۔ دیگر سنی ماتم تو نہیں کرتے مگر وہ بھی اہلِ بیت پر ہونے والے مظالم کی داستان سن کر اتنا ہی روتے ہیں جتنا کہ شیعہ ۔ پاکستان کی بیس فیصد آبادی یعنی تقریباً چار کروڑ افراد شیعہ ہیں ۔ کیا کبھی ان کا اور سنیوں کا اس طرح بلوہ ہوا جیسا کہ بھارت کے گجرات اور دیگر علاقوں میں ہوا؟ جسے آپ شیعہ سنی فساد کہتے ہیں وہ ایک بم دھماکہ ہوتا ہے جو نہ جانے کس کی جانب سے ہوتا ہے ، آپ الزام تمام سنیوں کو دے دیتے ہیں ۔ اور یہ الزام دینے والے بھی آپ جیسے معدودے چند افراد ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں سنی اور شیعہ افراد مل جل کر رہتے ہیں ، کم از کم میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی علاقے میں سنیوں نے کسی شیعہ کو چھت پر جھنڈا یا پنجہ لگانے سے منع کیا ہو ، یا انہیں جلوس نہ نکالنے دیا ہو ، یا انہیں محلہ چھوڑنے پر مجبور کیا ہو ، یا ان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر برا سلوک کیا ہو ۔

Categories: Muslim Youth مسلم نوجوان

ملتان میں بم دھماکہ

March 2, 2007 · 13 Comments

میرا خیال تھا کہ ملتان اتنا پسماندہ شہر ہے کہ دہشت گرد بھی اس کی موجودگی سے بے خبر ہیں ۔ مگر میری یہ سوچ آج غلط ثابت ہو گئی جب صبح نو بجے کے قریب کچہری چوک ملتان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے سپیشل جج کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔ جج سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ تقریباً نو افراد زخمی حالت میں نشتر ہسپتال میں ہیں ۔ دھماکہ ایک سائیکل پر لگے ہوئے ریموٹ کنٹرول بم سے ہوا ۔
واضح رہے کہ یہ ملتان کے مصروف ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے ۔ آج جمعہ ہونے کی وجہ سے رش کم تھا ۔ اس لیے کم ہلاکتیں ہوئیں ۔ وقوعے کی جگہ کے  بالکل پاس ہی سٹیٹ بینک آف پاکستان ، نیشنل بینک اور پر ہجوم گرلز کالج واقع ہے ۔

Categories: Multan ملتان