آج کل بدتمیز کی ایک تحریر پر افسوسناک قسم کی مزیدار بحث چل رہی ہے ۔ جسے دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے اپنی گزشتہ تحریر (مسلم نوجوان سے متعلق) جو ڈیلیٹ کر دی تھی ، اسے دوبارہ چھاپ دوں اور آئندہ بھی ایسے موضوعات پر لکھوں گا ۔ مگر میں اپنی اس قسم کی تحریروں پر تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ کیونکہ میں اپنے خیالات صرف اپنے لیے لکھوں گا ، یہ ایک طرح سے میرے لیے ریکارڈ ہوگا جو بعد میں مجھے بتائے گا کہ میں عمر کے اس حصے میں کس قسم کی سوچ رکھتا تھا ۔
ویسے ایک تبصرہ میں بھی کر دوں بدتمیز کی تحریر پر ۔ میرے بہترین دوستوں میں سے ایک شیعہ ہے اور کافی پکا قسم کا شیعہ ہے ۔ ہم دونوں مسلسل چار چار گھنٹے مذہبی اور دیگر معاملات پر زوردار قسم کی بحث کرتے ہیں ، اتنی زوردار کہ شیعہ سنی علماء بھی ایسی گفتگو نہیں کرتے ہوں گے ۔ مگر الحمدللہ کبھی ہماری لڑائی تو درکنار ، کوئی چھوٹی سی رنجش بھی نہیں ہوئی ۔ میں کوئی زیادہ تعلیم یافتہ شخص نہیں ہوں ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ علم انسان میں برداشت پیدا کرتا ہے اور اگر انسان فکر و تدبر کے دروازے وا رکھے تو فساد کی نوبت ہی نہیں آ سکتی ۔ ذاتی طور پر مجھے تو شیعوں سے محبت ہی ملی ہے اور میں نے بھی انہیں محبت ہی دی ہے ۔ میری ایک ممانی شیعہ ہیں ، ہمارے خاندان میں سے کسی نے کبھی ان کے ساتھ کوئی غلط بات نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کبھی ہمیں یہ مسلکی اختلاف باور کرایا ہے ۔
بدتمیز کے بلاگ پر ایک صاحب نے فرمایا ہے کہ سنی اہلِ تشیع حضرات کے مذہبی فرائض کو ناپسند کرتے ہیں ۔ میں ان صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ عاشورہ کے جلوس میں جو سینکڑوں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں ان میں اکثریت سنیوں کی ہوتی ہیں ۔ شیعہ تو درمیان میں کھڑے ماتم کر رہے ہوتے ہیں ، ان کے اطراف میں دیکھنے والے کون ہوتے ہیں؟ میں آپ کو ماتم کرنے والے افراد میں سے بیسیوں سُنی افراد تلاش کر کے دکھا سکتا ہوں جو سنی علماء کی “فساد” والی تقاریر بھی سنتے ہیں اور عاشورہ کے دن ماتم بھی کرتے ہیں ۔ دیگر سنی ماتم تو نہیں کرتے مگر وہ بھی اہلِ بیت پر ہونے والے مظالم کی داستان سن کر اتنا ہی روتے ہیں جتنا کہ شیعہ ۔ پاکستان کی بیس فیصد آبادی یعنی تقریباً چار کروڑ افراد شیعہ ہیں ۔ کیا کبھی ان کا اور سنیوں کا اس طرح بلوہ ہوا جیسا کہ بھارت کے گجرات اور دیگر علاقوں میں ہوا؟ جسے آپ شیعہ سنی فساد کہتے ہیں وہ ایک بم دھماکہ ہوتا ہے جو نہ جانے کس کی جانب سے ہوتا ہے ، آپ الزام تمام سنیوں کو دے دیتے ہیں ۔ اور یہ الزام دینے والے بھی آپ جیسے معدودے چند افراد ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں سنی اور شیعہ افراد مل جل کر رہتے ہیں ، کم از کم میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی علاقے میں سنیوں نے کسی شیعہ کو چھت پر جھنڈا یا پنجہ لگانے سے منع کیا ہو ، یا انہیں جلوس نہ نکالنے دیا ہو ، یا انہیں محلہ چھوڑنے پر مجبور کیا ہو ، یا ان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر برا سلوک کیا ہو ۔