میرا خیال تھا کہ ملتان اتنا پسماندہ شہر ہے کہ دہشت گرد بھی اس کی موجودگی سے بے خبر ہیں ۔ مگر میری یہ سوچ آج غلط ثابت ہو گئی جب صبح نو بجے کے قریب کچہری چوک ملتان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے سپیشل جج کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔ جج سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ تقریباً نو افراد زخمی حالت میں نشتر ہسپتال میں ہیں ۔ دھماکہ ایک سائیکل پر لگے ہوئے ریموٹ کنٹرول بم سے ہوا ۔
واضح رہے کہ یہ ملتان کے مصروف ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے ۔ آج جمعہ ہونے کی وجہ سے رش کم تھا ۔ اس لیے کم ہلاکتیں ہوئیں ۔ وقوعے کی جگہ کے بالکل پاس ہی سٹیٹ بینک آف پاکستان ، نیشنل بینک اور پر ہجوم گرلز کالج واقع ہے ۔
ملتان میں بم دھماکہ
March 2, 2007 · 13 Comments
Categories: Multan ملتان
13 responses so far ↓
Abdullah // March 2, 2007 at 6:27 pm
kia aap ko mubarak baad di jaay kay aap kay shaher ka shumar bhi taraqi yafta shahron main honay laga?
badtameez // March 2, 2007 at 6:35 pm
سلام
میں تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا کہ تم خیریت سے ہو یا نہیں۔ وجہ خوب اچھی طرح جانتے ہو پر ہجوم گرلز کالج۔
Qadeer Ahmad قدیر احمد // March 2, 2007 at 8:37 pm
عبداللہ: ٹھیک ہے مبارک دے دو ، مگر ساتھ میں اطہار افسوس بھی کر دینا

اور یار مجھے اپنا جی میل کا ایڈریس تو دو
بدتمیز: دیکھ لو اس واقعے سے ثابت ہو گیا ہے کہ میں وہاں نہیں جایا کرتا جہاں کا تم ذکر کر رہے ہو
Me // March 4, 2007 at 2:22 am
Yeah jumlay note kee jeeay, post delete kurnay say pehlay;
جج بشیر احمد بھٹی پر حملے کے ممکنہ پس منظر کے بارے میں ریجینل پولیس افسر مرزا محمد علی نے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ جج آج کل جن مقدمات کی سماعت کر رہے تھے ان میں سے ایک میں ایک ملزم ملک اسحاق بھی شامل ہے جس کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے۔
ملک اسحاق پر الزام ہے کہ اس نے کچھ عرصہ قبل ملتان کے علاقے ممتاز آباد میں ایک شیعہ رہنما کو قتل کرنے میں زاہد حسین اور اس کے ایک ساتھی کی مدد کی تھی۔ریجینل پولیس افسر مرزا محمد علی کے مطابق جج بشیر احمد بھٹی چند دنوں میں اسی مقدمے کا فیصلہ سنانے والے تھے۔
اس مقدمے میں اعانت جرم کے الزام سے قبل ملک اسحاق کو انیس سو ستانوے میں ملتان میں ہی ایرانی کلچرل سینٹر خانہ فرہنگ پر فائرنگ کر کے ادارے کے ڈائریکٹر محمد علی رحیمی سمیت آٹھ افراد کو قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ملک اسحاق ان دنوں ملتان کی سنٹرل جیل میں قید ہیں۔
ان مقدمات کے علاوہ ملک اسحاق پر ممتاز آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملے کا بھی الزام ہے۔
Qadeer Ahmad قدیر احمد // March 4, 2007 at 8:19 am
ME: میں تمہیں آخری وارننگ دے رہا ہوں کہ میرے بلاگ پر اس طرح کی باتیں مت لکھو ۔ اس شیعہ سنی فساد سے مجھے کوئٰی لینا دینا نہیں ہے تمہیں اگر اپنے خیالاتِ عالیہ لکھنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو اپنا بلاگ
شروع کر لو۔
آئندہ میں تمہارا ایسا کوئی تبصرہ یہاں نہیں رہنے دوں گا ۔ مجھے ایسی باتیں پسند نہیں ہیں ۔ اور اگر تم نے اسی طرح غیر متعلق تبصرے جاری رکھے تو میں کچھ اور کرنے کے بارے میں سوچوں گا۔
امید ہے کہ تم سمجھداری کا مظاہرہ کرو گے
Me // March 4, 2007 at 8:57 am
Qadeer yeah ‘kuch aur kurnay ka sochnay ka’ kia matlab hai zara wazahaut kurdo?
Me // March 4, 2007 at 9:00 am
PS: Qadeer tum buhut badmash maaloom hotay ho?
Me // March 4, 2007 at 9:02 am
Ugur tumhain kuch lena dena nahain hai to mera naam lekur tubsara kurnay ka mtlub?
Me // March 4, 2007 at 9:12 am
Qadeer ugur tumhain daleel kay saat baat bhee pasand nahain to yeah tumharee tungnazree hai aur yeah tumhara masaala hai. Yeah open public forum hai jis main koi bhee qanoon kay diara main upnay khialat ka izhaar kur sakta hai. Khud tum nain mera naam lekur upnee boodee ‘dalailain’ dain. Jub main nai daleel say juwab dia to lajawab ho kur naraz ho gai.
Qadeer Ahmad قدیر احمد // March 4, 2007 at 9:16 am
Me: اگر تمہیں دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے کا شوق ہے تو میرے ساتھ میسنجر پر گفتگو کرو
اور یہ کوئی اوپن پبلک فورم نہیں ہے ، یہ “میرا” بلاگ ہے میرا ذاتی ۔ اس میں میرا ہوسٹ بھی دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔ کیا سمجھے؟
Me // March 4, 2007 at 9:37 am
Bhui zaatee hai to mera naam mut lo. Kion kay jub tum mera naam letay ho to mujhay huq ho jata hai jawab denay ka yahan.
Agur tumain daleel say baat kerna aateee hai to durtay kion ho? Sub ko purlenay do upnay aur meray khialat. Tumhain kuch idea ho gia hai kay tumhara saamna kisee “mahatur” (punjabi) kay saath nahain hai is leeay gubhra rahay ho.
someone // March 4, 2007 at 11:43 am
qadeer mera tumhay yehi mashwara hai k tum me ko uskay haal per chor do. yeh kabhi shia suni ke baat kertay hai or kabhi punjabi ke. meray khyal say yeh kafi brain washed kiye howay hai or behas say family or dosray masoom logo ka jin ka is sab mamlay say na koi taluq or na unko pata hai un sab per keechar uchlay ga.
agay tumhari marzi.
Asma // March 5, 2007 at 12:11 am
May Allah bless the departed souls … the scene is just worsening day by day…!